قادربخش بلوچ
تاریخ بھی بڑی دلچسپ شے ہوتی ھے۔کسی کو خوب بھاتی ھے اور کوئی آنکھیں چراتا ھے۔۔ہٹلر اپنی کتاب۔میری جدوجہد میں لکھتے ہیں کہ میں امریکی مصنفوں کی کتابیں پڑھتا ہوں کیونکہ یہ باقی دنیا کے نسبت ان کی کتابوں میں جھوٹ کی امیزش کم ہوتی ھے۔۔رچرڈ نکسن۔۔۔اپنی کتاب میں رقمطراز ہیں کہ اگر ناصر۔باون برس کی عمر میں نا مرتے تو ممکن ھے کہ اتنا نام نہ کماتے۔۔اوریانا فلاشی ۔لکھتی ہیں کہ گولڈا میئر۔اپنی کابینہ کے اراکین کو چاے کے وقفے میں خود چاے بنا کر دیتی تھیں۔لا لا ھتو رام۔تاریخ بلوچستان میں لکھتے ہیں۔کہ کیچ کا نام۔۔گنج اباد۔۔تھا ایرانی لشکر نے گنج اباد کو تاراج کرکے میخوری کی اور بہک کر رقصاں ہو کر شادیانے بجا کر کہتے تھے۔۔گنج اباد را ہیچ کرد۔۔۔اسکے معنی ہوتے ہیں۔۔کہ گنج اباد۔۔کا کام تمام کر دیا۔۔مقامی لوگوں نے سمجھا کہ گنج اباد کا نام۔ہیچ کردیا ھے۔یہ ہیچ تبدیل ہو کر کیچ۔ہو گیا۔جو ہنوز جاری ھے۔۔ھتو رام لکھتے ہیں اٹھارویں صدی میں کوہٹہ کا نام۔کوٹ۔تھا اور یہ احمد شاہ ابدالی سدو زئی کی قلم رو میں شامل تھا۔۔
تاریخ کے اوراق یہ بھی بتاتے ہیں کہ کون کیا تھا۔جن لوگوں نے تاریخ کا دھارا موڑا وہ دنیا میں مقام بنا گئے۔لنکن کے مخالفین نے لنکن سے درخواست کی کہ تم تین برس صبر کرو پھر ہم تمہارے ساتھ ملکر غلامی ختم کرنے میں تمہارے ساتھ ہوں گے۔۔لنکن نے جواب میں کہا اگر میں ایسا کروں میری ساتھ پشتون کو لعنت۔۔اور میں امریکی سر زمین کو غلامی کی بیوپاریوں کے لئے اتنا گرم کر دوں گا کہ غلامی کے بیوپاریوں کے پیر جل جاہیں۔۔۔لنکن نے اٹھارہ سو ساٹھ میں اس شاندار دستاویز پر دستخط ثبت کر دیئے جس میں غلامی کے کاروبار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوا۔امریکی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں۔لنکن نے حلف اٹھانا تھا۔ابراہام لنکن کی پتلون کا ایک پاہیچہ لمبا اور دوسرا قدرے چھوٹا تھا۔اور یہ اسکی بیوی نے رات ٹھیک کی تھی اور لنکن کی اچھی پتلون یہی تھی۔یہی پتلون پہن کر ایک شرٹ کے ساتھ حلف لینے گیا۔یہی لنکن جس نے دنیا میں غلامی ختم کر دی دنیا میں لیڈر انکے بیانئے اور کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔
اگر اج سے نصف صدی پہلے کے بلوچستان کو دیکھا جاے تو یہاں تعلیم کا پیمانہ کیا تھا۔اور اج کیا ھے اج مکران کے ہر پہلو جہاں مرد یا یوں کہیئے کہ نوجوان بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں وہاں خواتین کسی بھی شعبے میں پیچھے نہیں ہیں۔۔طب ہو درس وتدریس ہر شعبے میں خواتین بے مثال کارکردگی کے ساتھ موجود ہیں۔۔چالیس برس قبل یہاں ایسا نہیں تھا۔بلکہ یہاں لڑکیوں کی تعلیم معیوب سمجھا جاتا تھا۔اب بلوچ خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنی کارکردگی دکھا رہی ہیں۔یہ سب بلوچ رہنما ڈاکٹر مالک بلوچ کی آرزوؤں کا ثمر ھے جو انکی قوم کو مل رہا۔اور یہی کارکردگی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کرے گی۔
بلوچستان کے سلگھتے مسائل کو گلستان میں بدلنے کے لئے سنیٹر جان بلیدی کی کوششوں کو سراہا جا رہا ھے۔بلیدی صاحب جس مدلل انداز میں اپنا خوبصورت بیانیہ جو مقدرہ کے گوش گزار رہے ہیں اہل دانش پر امید ہیں کہ جان کی کاوشیں ضرور رنگ لائیں گی تاریخ گواہی سے بھر پور ھے کہ مخلص رہنماؤں کی مخلصانہ مشورے ہمیشہ مانے گئے ہیں۔یہ الگ بات ھے کہ کچھ تاخیر کے بعد۔تاریخ یہ بھی بیان کرتی ھے کہ ایسے مشوروں کو ماننے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں۔اور ایسے مشورے دینے والے اخر کار اپنی مشورے منواہیں گے بھلے کچھ تاخیر سے کیونکہ
تاریخ کا یہی فیصلہ ھے۔اور تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ھے۔

