روٹی، کپڑا اور مکان(حصہ اوّل)

تحریر۔شاہد شکیل
یہ تصور کہ روٹی،کپڑا اور مکان ریاست کی ذمہ داری ہے دراصل انسانی ذمہ داری کے فہم میں ایک بنیادی غلط فہمی کو جنم دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان پر سب سے بڑی نعمت یہ فرمائی کہ اُسے انسان بنایا،عقل،شعور اِختیار اور اِرادہ عطا کیا،نہ کہ محض ایک حیوان،جو صرف جبلّت کے تابع ہو، یہی وہ مقام ہے جہاں شُکر کا حقیقی مفہوم جنم لیتا ہے،انسان ہر لمحہ اِس بات پر شُکر گزار ہو کہ اُسے سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی قوت عطا ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے زمین کو وسیع کیا، اِس میں وسائل رکھے، آسمان سے رِزق کے دروازے کھولے اور انسان کو محنت کی صلاحیت دی، اِسکے بعد اُس پر یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ اپنے دماغ،اپنے ہاتھوں اور اپنے جسم کی قوت سے اِن وسائل کو بروئے کار لائے،جد وجہد کرے اور اپنی روزی خود کمائے،یہی انسان کا مقامِ شرافت ہے اور یہی اُسکی آزمائش بھی۔ ریاست کا کام یہ نہیں کہ وہ عوام کو ہاتھ پکڑ کر روٹی،کپڑا اور مکان دے دے بلکہ اُس کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایسے حالات،ایسے مواقع اور ایسا نظام فراہم کرے جس میں ہر فرد اپنی محنت کے بَل پر آگے بڑھ سکے، اِنصاف پر مبنی قوانین، تعلیم کے دروازے،امن وامان، شفاف نظام اور محنت کے مواقع، یہ وہ بنیادیں ہیں جو ریاست فراہم کرتی ہے تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی زمین پر، ریاست کی مہیا کردہ سہولتوں کے ساتھ،خود اپنی زندگی تعمیر کرسکے۔ جب انسان اپنی محنت سے روٹی کماتا ہے،اپنے پسینے سے کپڑا پہنتا ہے اور اپنی جد و جہد سے مکان بناتا ہے تو وہ صرف مادی ضرورت پوری نہیں کرتا بلکہ اپنی عزتِ نفس، خودادری اور انسان ہونے کے منصب کو بھی زندہ رکھتا ہے،یہی وہ توازن ہے جہاں شُکر، محنت اور ذمہ داری ایک دوسرے میں گھل کر ایک باوقار معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔دنیا میں کوئی انسان پیدائشی مجرم نہیں ہوتا، انسان جب اِس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اُس کے ہاتھوں میں نہ جرم لکھا ہوتا ہے،نہ گناہ، اُسکے اندر صرف ایک فطری صلاحیت ہوتی ہے، جینے کی، سیکھنے کی اور بہتر بننے کی،لیکن جب یہی انسان حالات کی چکی میں پِستا ہے، جب اُسکے پیٹ میں روٹی نہیں ہوتی،جب اُسکے سامنے محنت کا کوئی دروازہ کھلا نہیں ہوتا اور جب اُسکی کوششوں کا ہر راستہ بند کر دیا جاتا ہے تو پھر وہ آہستہ آہستہ اُس موڑ کی طرف بڑھتا ہے جہاں جرم ایک اِنتخاب نہیں بلکہ مجبوری بن جاتا ہے۔بھوک انسان سے اُسکی شرافت چھین لیتی ہے، بے روزگاری اُسکے صبر کو توڑ دیتی ہے اور محرومی اُسکے اندر وہ غصہ بھر دیتی ہے جو آخر کار قانون سے ٹکرا جاتا ہے،ایسے میں جرم کو صرف فرد کی اِخلاقی کمزوری قرار دینا ایک سطحی اور نا انصافی پر مبنی سوچ ہے،اصل سوال یہ نہیں کہ انسان نے جرم کیوں کیا؟ بلکہ یہ ہے کہ اُسے جرم تک پہنچنے پر کِس نے مجبور کیا؟۔یہاں ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے،جرائم کو محض سزاؤں سے ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اُن وجوہات کو ختم کرنا ضروری ہے جو جرم کو جنم دیتی ہیں۔ حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں جہاں انسان کو بھوکا نہ سونا پڑے، جہاں محنت کا صلہ ملے، جہاں تعلیم روشنی بن کر راستہ دکھائے اور جہاں قانون صرف کاغذ پر نہیں بلکہ زندگی میں تحفظ بن کر نظر آئے۔تعلیم انسان کو سوچنے کا ہنر سکھاتی ہے، روزگار اُسے جینے کا حوصلہ دیتا ہے،امن و امان اُسے اِعتماد بخشتا ہے اور منصفانہ قوانین اُسے اِحساس دلاتے ہیں کہ یہ ریاست اُسکی دشمن نہیں بلکہ محافظ ہے، جب یہ سب میسر ہوں تو انسان جرم کی طرف نہیں جاتا کیونکہ اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اُسکے ہاتھوں کی محنت ہی اُسکا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ جرم ایک فرد کا عمل ضرور ہوتا ہے مگر اُسکے پیچھے اکثر ایک ناکام نظام کی خاموش گواہی چھپی ہوتی ہے، اگر ریاست اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرے تو انسان کو مجرم بننے کی نوبت ہی نہ آئے اور معاشرہ سزا سے نہیں بلکہ اِنصاف سے محفوظ ہوجائے۔ پاکستان میں روٹی، کپڑا اور مکان محض نعرہ نہیں بلکہ ایک بنیادی مسئلہ ہے جو قیامِ پاکستان کے فوراََ بعد جنم لے چکا تھا اور آج تک جوں کا توں موجود ہے،یہ المیہ اِسلئے زیادہ گہرا ہے کہ یہ کوئی ناقابلِ حصول خواب نہیں، نہ ہی آسمان سے تارے توڑ لانے جیسا محال تقاضا، یہ سب اِسی زمین سے جڑا ہوا مسئلہ ہے جس پر یہ ملک قائم ہے، اِنہی وسائل سے وابستہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اِس خطے کو عطا کئے ہیں اور اِنہی انسانوں سے متعلق ہے جو اِس مٹی میں محنت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اگر حکومتیں واقعی چاہیں تو ملک کے اندر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں، صنعتیں، کارخانے،ملیں،زرعی منصوبے، ہنر مندی کے مراکز اور مقامی سطح پر روزگار کے دروازے، یہ سب کوئی ناممکن منصوبے نہیں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں،مسئلہ نیت، ترجیح اور سنجیدہ منصوبہ بندی کا ہے، ایک ایسا ملک جس کے پاس نوجوان آبادی ہو، خام مال ہو،جغرافیائی اہمیت ہو، وہاں بیروزگاری کا موجود رہنا دراصل نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ جملہ کہ “عمل کا دارومدار نیت پرہے” محض ایک اِخلاقی نصیحت نہیں بلکہ انسانی کردار کی تشکیل، سماجی ذمہ داری اور روحانی ارتقاء کا ایک بنیادی اصول ہے۔نیت انسان کے باطن کی سمت متعین کرتی ہے اور عمل اِس سمت کی عملی صورت بن کر ظاہر ہوتا ہے، یوں نیت”معنی”پیدا کرتی ہے اور عمل”شکل”اختیار کرتا ہے، اِس نسبت کو سمجھنا دراصل انسان کو خود اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیناہے۔(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں