بلوچستان کے سرکاری ملازمین، احتجاج اور حکومتی رویہ

تحریر: ملک سعید جان
20 جنوری کو بلوچستان کے سرکاری ملازمین نے بلوچستان گرینڈ الائنس (BGA) کے پلیٹ فارم سے وفاق کے طرز پر 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) کی فراہمی کے لیے احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا۔ مگر بدقسمتی سے احتجاج کی مقررہ تاریخ سے قبل ہی ریاستی مشینری حرکت میں آ گئی اور ملازمین الائنس کے قائدین کی گرفتاریاں شروع کر دی گئیں۔ کوئٹہ شہر کے ریڈ زون کی جانب جانے والے تمام راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔
مقررہ دن علی الصبح مظاہرین کی گرفتاریاں شروع ہوئیں، جس کے بعد پورا دن پولیس اور سرکاری ملازمین کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہی۔ آخری اطلاعات تک بلوچستان بھر سے سینکڑوں ملازمین گرفتار کر لیے گئے، جن میں بلوچستان گرینڈ الائنس کے مرکزی جنرل سیکریٹری، آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر علی اصغر بنگلزئی، بی جی اے کے ڈپٹی آرگنائزر و صدر بلوچستان پیرا میڈکس شفاء مینگل، میڈیا کوآرڈینیٹر و ترجمان بی جی اے، صدر پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان ، صدر ایری گیشن ایمپلائز یونین،علی بخش جمالی ممبر مرکزی کابینہ صدر وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن در محمد لانگو اور صدر گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن سجاد رند شامل ہیں۔
احتجاج سے قبل ایک سرکاری اہلکار کی جانب سے ملازمین کی ہڑتال کو خلافِ قانون اور حکم عدولی قرار دینا باعثِ حیرت تھا۔ موصوف نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملازمین حکومت سے تنخواہ لے کر اسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور انہیں احتجاج کے بجائے اپنے محکموں کے سیکریٹریز کے سامنے مطالبات رکھنے چاہئیں۔
یہاں جناب ڈپٹی سیکریٹری داخلہ کی خدمت میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے گیارہ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ تمام متعلقہ حکام کو پیش کیا جا چکا تھا۔ ان مطالبات پر مذاکراتی کمیٹیوں کے ذریعے متعدد اجلاس ہوئے۔ بجٹ کے دن حکومتی کمیٹی اور گرینڈ الائنس کے قائدین کی مشترکہ پریس بریفنگ میں خود حکومتی وزراء نے وفاق کے طرز پر بلوچستان کے سرکاری ملازمین کو ڈی آر اے دینے کا اعلان کیا، مگر افسوس کہ یہ وعدہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
وعدہ خلافی کے بعد ملازمین ایک بار پھر احتجاج پر مجبور ہوئے۔ اس دوران نہتے سرکاری ملازمین، اساتذہ اور پروفیسرز، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، پر بے رحمانہ لاٹھی چارج کیا گیا اور گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ بعد ازاں ثالثین کی موجودگی میں مذاکرات ہوئے، گرفتار قائدین اور عام ملازمین کو رہا کیا گیا۔ اس بار فنانس منسٹر شعیب نوشیروانی کی سربراہی میں مذاکراتی عمل آگے بڑھا اور کئی ادوار کے بعد مذاکرات کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔ ڈی آر اے کی کابینہ سے منظوری اور نوٹیفکیشن کے اجرا کا وعدہ کیا گیا، جس کا اعتراف فنانس منسٹر نے متعدد ویڈیو انٹرویوز میں بھی کیا۔
اس تمام آئینی، قانونی اور جمہوری طریقہ کار کے باوجود جب وعدے پورے نہ ہوئے تو ملازمین نے آئینِ پاکستان میں دیے گئے حقِ احتجاج کو استعمال کیا، جس پر حکومتی حلقوں کا سیخ پا ہونا باعثِ تعجب ہے۔ بلوچستان کے سرکاری ملازمین اگر اپنے آئینی و قانونی حقوق کے حصول کے لیے حکومتِ وقت سے مطالبہ نہیں کریں گے تو پھر کس سے کریں گے؟
صوبے کی مخدوش صورتحال میں اپنی جانیں جوکھوں میں ڈال کر سرکاری امور چلانے والے ملازمین کے سروں پر دستِ شفقت رکھنے کے بجائے انہیں نوکریوں سے برطرف کرنا اور جیلوں میں ڈال دینا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ ملازمین ریاست کی قوت اور حکومتی مشینری کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ مہنگائی کے ستائے ہوئے ان محنت کشوں کو ان کے جائز حقوق سے ڈنڈے کے زور پر محروم رکھنا کسی بھی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔
وقت کا تقاضہ ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کے تمام گرفتار قائدین اور ورکرز کو فی الفور رہا کیا جائے، وفاق کے طرز پر 30 فیصد ڈی آر اے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اور ملازمین و حکومت کے درمیان پیدا ہونے والے اعتماد کے خلا کو ختم کیا جائے۔ موجودہ حالات میں صوبہ کسی بھی نئے ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں