تحریر۔شاہد شکیل
ریاست میں عمل کا دارومدار تین چیزوں پر ہوتا ہے۔1۔نیت(اِخلاقی ارادہ)2۔صلاحیت(علم،منصوبہ بندی،ڈیٹا)3۔نظام(قانون، ادارے،نگرانی)اِن میں سے کسی ایک کی کمی ہو تو نتیجہ ادھورا رہتا ہے۔پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ سب کی نیت خراب ہے بلکہ نظام نیت کو زندہ نہیں رہنے دیتا،اچھے لوگ خراب ڈھانچوں میں پھنس جاتے ہیں،سیاسی فائدہ عوامی فائدے پر غالِب آجاتا ہے اور یوں نیت جو ابتداء میں مضبوط ہوتی ہے آہستہ آہستہ عملی مجبوریوں میں دب جاتی ہے۔کرپشن کا سادہ مطلب صرف رشوت لینا یا دینا نہیں بلکہ یہ ایک نظامی بیماری ہے جو وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بگاڑ دیتی ہے،جب کرپشن ریاستی سطح پر موجود ہو تو اُسکے براہِ راست تاثرات یہ ہوتے ہیں۔خوراک کیلئے مختص سبسڈی مستحق تک نہیں پہنچتی، سستا آٹا، راشن یا فلاحی پروگرام بیچ میں کٹ جاتے ہیں،کم لاگت ہاؤسنگ سکیمیں طاقتور طبقے ہڑپ کر لیتے ہیں،سرکاری زمین غریب کے مکان کے بجائے منافع بخش منصوبوں کی نذر ہو جاتی ہے اور یوں عوام روٹی،کپڑا اور مکان سے اِسلئے محروم نہیں ہوتے کہ ملک میں وسائل نہیں بلکہ اِسلئے کہ وسائل اُن تک پہنچتے ہی نہیں۔کرپشن سب کچھ نہیں بگاڑتی بلکہ کمزور نظام کرپشن کو طاقت دیتا ہے، مثلاََ جہاں شفافیت نہ ہو، ڈیٹا اور ریکارڈ غیر واضح ہوں، عوامی نگرانی کمزور ہو، قانون سب کیلئے برابر نہ ہووہاں کرپشن پھولتی ہے اور اُسکا سب سے پہلا شکار غریب آدمی بنتا ہے جسکی بنیادی ضرورت ہی روٹی،کپڑا اور مکان ہوتا ہے۔جب انسان کو باعزت روزگار میسر آتا ہے تو وہ صرف کام نہیں کرتا وہ جینا سیکھتا ہے،اُسکے سوچنے کا نداز بدل جاتا ہے اُسکے دماغ میں خود بخود یہ احساس جنم لیتا ہے کہ یہ روزی میری اپنی محنت کی کمائی ہے،اِس میں ہی میرا گزارہ ہے اِسی میں بچت اور اِسی میں مستقبل کی امید۔اگر پاکستان میں سنجیدگی کے ساتھ صنعتی ترقی،روزگار کی فراہمی اور محنت کش طبقے کیلئے عملی راستے کھول دئے جائیں تو روٹی،کپڑا اور مکان خود بخود انسان کی دسترس میں آسکتے ہیں تب یہ نعرہ نہیں رہے گا بلکہ ایک فطری نتیجہ ہوگا، ایسا نتیجہ جو محنت،عزتِ نفس اور خودداری سے جنم لیتا ہے اور جو ایک پُر امن اور باوقار معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔جب ایک انسان محنت کرنا چاہے،جینا چاہے مگر اُسکے سامنے کوئی راستہ نہ ہو تو پھر اُسکی بھوک اُسکی ناکامی نہیں بلکہ ریاستی نظام کی شکست ہوتی ہے۔ جہاں روزگار نہیں وہاں مایوسی ہوتی ہے،جہاں مایوسی ہوتی ہے وہاں غصہ جنم لیتا ہے اور غصہ بے سمت ہوجائے تو جرم اپنا راستہ بنا لیتا ہے، اِسلئے جرائم کے خاتمے کیلئے سب سے مؤثر ہتھیار بندوق یا جیل نہیں بلکہ روزگار،تعلیم اور منصفانہ مواقع ہیں۔روٹی،کپڑا اور مکان کا مسئلہ پاکستان میں کسی ایک حکومت،کسی ایک دور یا کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہا،یہ ایک نہ ختم ہونے والا بحران بن چکا ہے جو نسل در نسل منتقل ہورہا ہے، جب تک حکومتیں،ریاست اور حکمران اِس مسئلے کو سنجیدگی سے اپنی اولین ذمہ داری نہیں سمجھیں گے،جب تک نظام کو اِسطرح تشکیل نہیں دیا جائیگا کہ انسان خود اپنے لئے سوچ سکے،کام کر سکے اور کچھ بنا سکے تب تک یہ تین الفاظ محض الفاظ ہی رہیں گے۔یہ کہنا کہ ترقی یافتہ ممالک میں کوئی انسان بھوکا نہیں سوتا، برہنہ نہیں پھرتا اور سڑکوں پر نہیں رہتا،محض ایک تاثئر نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے،اِسکی وجہ یہ نہیں کہ وہ ممالک کسی غیر معمولی دولت کے مالک ہیں یا قدرت نے اُنہیں دوسروں سے زیادہ نوازدیا ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ وہاں قانون، نظام اور ریاستی ذمہ داری کو سنجیدگی سے سمجھا اور نافذ کیا گیا ہے۔مغربی معاشروں میں قوانین اِس بنیاد پر تشکیل دئے گئے ہیں کہ کوئی فرد بنیادی انسانی ضروریات سے محروم نہ رہ جائے،اگر کوئی شخص بے روزگار ہوجائے تو اُسکے لئے سماجی تحفظ کا نظام موجود ہوتا ہے،اگر اُسکے پاس رہنے کی جگہ نہ ہو تو عارضی یا مستقل رہائش کا بندوبست کیا جاتا ہے اور اگر وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو تو ریاست اِس خلا کو پُر کرتی ہے،یہ سب خیرات یا اِحسان کے طور پر نہیں بلکہ ایک شہری کے قانونی حق کے طور پر دیا جاتا ہے۔اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ مغربی ممالک ترقی یافتہ ہیں اِسلئے وہاں سب کچھ ممکن ہے،یہ دلیل اپنی جگہ سطحی ہے کیونکہ ترقی خود بخود نہیں آتی بلکہ ایک منظم سوچ، واضح قوانین اور مضبوط اداروں کے نتیجے میں جنم لیتی ہے،اصل فرق دولت کا نہیں،سسٹم کا ہے،اُنکے پاس ایک ایسا نظام موجود ہے جو صرف بنانے کا نہیں بلکہ چلانے کا طریقہ بھی جانتا ہے،قانون کاغذ پر نہیں رہتا بلکہ عملی زندگی میں نافذ ہوتا ہے اور ریاست خود کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتی ہے۔اِسکے برعکس پاکستان میں مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نظام کی عدم موجودگی یا کمزوری ہے، یہاں قوانین تو بن جاتے ہیں مگر اُن پر عمل درآمد نہیں ہوتا،پالیسیاں بنتی ہیں مگر تسلسل نہیں ہوتا،اِدارے موجود ہیں مگر اُنکے درمیان ربط اور شفافیت ناپید ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام آدمی بنیادی ضرویات کے لئے بھی جد وجہد پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ مغربی ممالک نے سب کچھ دولت کی وجہ سے حاصل کیا،دراصل اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے،حقیقت یہ ہے کہ اُنہوں نے ایک ایسا نظام قائم کیا جس میں انسان کی عزت،اُس کی بنیادی ضرورت اور اُس کی محنت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جب تک پاکستان میں بھی اِسی سوچ کے تحت قوانین، ادارے اور ریاستی ذمہ داری کا تصور مضبوط نہیں ہوگا تب تک روٹی،کپڑا اور مکان ایک نعرہ ہی رہیں گے، حقیقت نہیں بن سکیں گے۔

