تحریر:نایاب فاطمہ
زندگی میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو قومی خدمت کے سفر میں کئی مراحل طے کر چکے ہوتے ہیں۔ یہ تجربہ اور جدوجہد انہیں نہ صرف مضبوط بناتی ہے بلکہ ایک نئی سوچ اور جدت کی جانب بھی لے جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ“میں ہی سب کچھ کر سکتا ہوں، اور شاید کوئی اور اتنا اہم یا محب وطن نہیں ہے۔”نظریاتی سوچ اور کردار کی تقویت کے لیے زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کوئی فرد قومی خدمت کے سفر میں کئی مراحل طے کر چکا ہوتا ہے۔ تجربہ، مشاہدہ اور خدمت کے دوران وہ دماغی و فکری ارتقاء حاصل کرتا ہے، اور کبھی کبھار یہ گمان بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ اس کی کاوشیں ہی سب کچھ کر سکتی ہیں، اور شاید اس کے علاوہ کوئی دوسرا اتنی اہمیت یا محب وطنی کا جذبہ نہیں رکھتا۔
یہ کیفیت انسانی نفسیات کا حصہ ہے اور اسے سمجھنا بھی ضروری ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اہمیت کبھی بھی ذاتی سوچ یا خود اعتمادی سے پیدا نہیں ہوتی۔ اہمیت اور اثر کا دارومدار مقام اور کردار پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص غرض و لالچ سے پاک نیت کے ساتھ قومی خدمت کا سفر کرتا ہے، تو اسے اس بات کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کہ کون اس کی ٹانگیں کھینچنا چاہتا ہے، کون اس سے خفا ہے یا کون اس کی مخالفت کر رہا ہے۔اصل طاقت حکمت، دانائی، تدبر اور مستقل مزاجی میں ہے۔ قومی خدمت کا سفر جاری رکھتے ہوئے اپنے کردار کو مضبوطی سے سنبھالنا اور صحیح سمت میں محنت کرنا وہ عمل ہے جو تاریخ میں آپ کی حقیقی قدر اور مقام کو ثابت کرتا ہے۔ آخرکار، فیصلہ ہمیشہ تاریخ کرتی ہے کہ آپ کہاں کھڑے تھے اور آپ کے کردار نے کس قدر اثر چھوڑا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اہمیت اور اثر کا معیار کبھی ذاتی گمان یا خود اعتمادی نہیں ہوتا۔ اصل قدر اس بات سے پیدا ہوتی ہے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں، آپ کی نیت کیسی ہے، اور آپ نے اپنا کردار کس انداز میں نبھایا ہے۔اگر خالص نیت اور بغیر کسی غرض و لالچ کے قومی خدمت کے سفر پر گامزن ہیں، تو آپ کو کسی کی مخالفت یا تنقید سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ چاہے کوئی آپ کی ٹانگیں کھینچنے کی کوشش کرے یا خفا ہو، اصل طاقت حکمت، تدبر اور مستقل مزاجی میں چھپی ہے۔قوم کی خدمت میں عظیم مقام وہی حاصل کرتا ہے جو محض نام یا شناخت کے لیے نہیں بلکہ خلوص نیت سے کردار کو سنبھالتا ہے اور خدمت جاری رکھتا ہے۔ وقت اور تاریخ ہی فیصلہ کریں گے کہ آپ کہاں کھڑے تھے، اور آپ کے کردار نے کس قدر اثر چھوڑا۔
یہی سبق ہر محب وطن کے لیے رہنمائی ہے۔کہ خدمت کا اصل معیار اثر، مقام اور کردار ہے، اور یہ کبھی بھی وقتی مخالفت یا تنقید سے متاثر نہیں ہوتا۔اہمیت مقام اور کردار کی ہوتی ہے، اور خدمت کا اصل معیار اثر اور وقار ہے۔ مخالفت یا تنقید آپ کی نیت اور مقصد کو کبھی کم نہیں کر سکتی۔
Load/Hide Comments

