تحریر: محمد مظہر رشید چودھری
پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض چند برسوں کے اقتدار یا ایک دو اہم عہدوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ پورے سیاسی عمل کا حصہ بن کر تاریخ میں اپنا مقام بناتی ہیں۔ سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد خان وٹو بھی انہی سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے انتقال کے ساتھ قومی سیاست کا ایک طویل، پیچیدہ اور معنی خیز باب بند ہو گیا ہے۔ یہ باب صرف اقتدار کی کہانی نہیں بلکہ جدوجہد، مزاحمت، سیاسی بصیرت اور بدلتے حالات میں خود کو برقرار رکھنے کی داستان بھی ہے۔میاں منظور احمد وٹو نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایسے مرحلے سے کیا جہاں انہیں ابتدا ہی میں انتخابی سیاست کی سخت حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1977ء کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا، مگر عین وقت پر یہ ٹکٹ واپس لے کر غلام محمد مانیکا کو دے دیا گیا۔ یہ واقعہ اس دور کی سیاست کا آئینہ دار تھا، جہاں فیصلے اکثر کارکنوں کی محنت کے بجائے سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر ہوتے تھے۔ میاں منظور احمد وٹو نے اس صورتحال کو خاموشی سے قبول کرنے کے بجائے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ وہ کامیاب نہ ہو سکے، مگر یہی تجربہ ان کے سیاسی شعور اور عزم کی بنیاد بنا۔اس انتخابی ناکامی کے بعد انہوں نے ائر مارشل اصغر خان کی تحریکِ استقلال میں شمولیت اختیار کی۔ یہ جماعت اگرچہ اقتدار کے ایوانوں تک نہ پہنچ سکی، مگر اس نے میاں منظور احمد وٹو کو نظریاتی سیاست، اصولی مؤقف اور منظم سیاسی جدوجہد کا موقع فراہم کیا۔ اس دور میں انہوں نے یہ سیکھا کہ پاکستانی سیاست میں محض نعرہ کافی نہیں ہوتا بلکہ زمینی حقائق کو سمجھے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔1982ء میں ہونے والے غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات میاں منظور احمد وٹو کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ وہ کامیاب ہو کر ضلع کونسل کے رکن بن گئے۔ اس وقت اوکاڑہ، ساہیوال ضلع کا حصہ تھا، تاہم 1982 میں اوکاڑہ کو الگ ضلع کا درجہ دیا گیا۔ اسی تبدیلی کے ساتھ میاں منظور احمد وٹو چیئرمین ضلع کونسل منتخب ہوئے۔ مقامی حکومت کا یہ تجربہ ان کے سیاسی کیریئر میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں انہوں نے عوامی مسائل، انتظامی رکاوٹوں اور بیوروکریسی کے ساتھ کام کرنے کا عملی تجربہ حاصل کیا۔1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں وہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ایک ہی وقت میں ان کے پاس ضلع کونسل کی چیئرمینی اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت موجود تھی، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ مقامی اور صوبائی سطح پر اپنی سیاسی جڑیں مضبوط کر چکے تھے۔ اسی برس وہ سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ سپیکر بننے کے بعد انہوں نے ضلع کونسل کی چیئرمین شپ چھوڑ دی اور یہ ذمہ داری ان کے بھائی میاں احمد شجاع نے سنبھالی۔ بطور سپیکر ان کی کارکردگی نے انہیں ایک سنجیدہ، قواعد و ضوابط سے آگاہ اور پارلیمانی سیاست کے رموز سمجھنے والے سیاست دان کے طور پر متعارف کروایا۔1988ء کے انتخابات میں بھی وہ کامیاب رہے اور ایک مرتبہ پھر سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں سیاسی عدم استحکام عروج پر تھا، حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی تھیں، مگر میاں منظور احمد وٹو ایوان کے نظم و ضبط اور پارلیمانی عمل کو جاری رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی یہی صلاحیت بعد میں انہیں پنجاب کی اعلیٰ قیادت تک لے گئی۔1990ء کے انتخابات میں میاں منظور احمد وٹو نے قومی اور صوبائی دونوں سطحوں پر کامیابی حاصل کی۔ وہ ایم این اے بھی منتخب ہوئے اور حویلی لکھا سے ایم پی اے بھی بنے۔ تاہم پارٹی قیادت کے فیصلے کے تحت انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی، جس پر راؤ قیصر ایم این اے منتخب ہوئے، جبکہ وہ خود تیسری مرتبہ سپیکر پنجاب اسمبلی بن گئے۔ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ جماعتی نظم و ضبط اور سیاسی حکمتِ عملی کو ذاتی ترجیح پر فوقیت دیتے تھے۔1993ء میں ان کے سیاسی کیریئر کا سب سے اہم مرحلہ آیا، جب وزیرِ اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور میاں منظور احمد وٹو خود وزیرِ اعلیٰ پنجاب بن گئے۔ یہ اقتدار اگرچہ مختصر تھا، مگر انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ ان کا یہ دور اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں وزیرِ اعلیٰ بننا جتنا مشکل ہے، اسے برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ اسی دوران صدر غلام اسحاق خان نے قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں، جس کے نتیجے میں میاں منظور احمد وٹو کی وزارتِ اعلیٰ بھی ختم ہو گئی۔اس کے بعد کے برسوں میں میاں منظور احمد وٹو نے مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی وابستگیاں اختیار کیں۔ ان کی ان وابستگیوں پر تنقید بھی کی گئی، مگر اگر اس دور کی سیاست کو سامنے رکھا جائے تو یہ فیصلہ محض شخصی نہیں بلکہ سیاسی بقا اور اثرورسوخ برقرار رکھنے کی کوشش بھی تھا۔ وہ ان سیاست دانوں میں سے تھے جو حالات کے مطابق خود کو غیر متعلق ہونے سے بچاتے رہے۔میاں منظور احمد وٹو اس نسل کے نمائندہ سیاست دان تھے جنہوں نے آمریت، غیر جماعتی سیاست، کمزور جمہوریت اور بدلتے سیاسی اتحاد سب کچھ قریب سے دیکھا۔ ان کا تجربہ صرف اقتدار تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ ریاستی نظام کی پیچیدگیوں اور تضادات سے بھی بخوبی واقف تھے۔ آج کی سیاست، جو زیادہ تر بیانات، سوشل میڈیا اور فوری ردِعمل تک محدود ہو چکی ہے، وہاں ایسے سیاست دان کم ہی نظر آتے ہیں جو طویل خاموشی، پسِ پردہ مذاکرات اور پارلیمانی حکمتِ عملی پر یقین رکھتے ہوں۔ان کا انتقال 16 دسمبر 2025, بروز منگل کو ہوا جو محض ایک فرد کی رحلت نہیں بلکہ اس سیاسی نسل کی یاد دہانی ہے جو اب تاریخ کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ یہ وہ نسل تھی جس نے سیاست کو ایک طویل عمل کے طور پر دیکھا، نہ کہ فوری فائدے کے طور پر۔ تاریخ میاں منظور احمد وٹو کے فیصلوں پر مختلف آرا قائم کر سکتی ہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وہ نصف صدی سے زائد عرصے تک قومی سیاست کا حصہ رہے اور ہر اہم موڑ پر موجود رہے۔اللہ تعالیٰ میاں منظور احمد خان وٹو کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ قومی سیاست میں ان کا نام ایک ایسے سیاست دان کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے وقت کے ساتھ سیاست کو جیا، سمجھا اور اس کے تمام نشیب و فراز کا سامنا کیا٭

محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

