سانچ: رانا سکندر حیات کا اوکاڑہ یونیورسٹی کے مستقبل سے متعلق واضح پیغام

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)
یونیورسٹیاں صرف اینٹوں، عمارتوں اور ڈگریوں کا نام نہیں ہوتیں بلکہ وہ معاشروں کی سمت متعین کرتی ہیں۔ جہاں ویژن ہو، تسلسل ہو اور نیت صاف ہو، وہاں کم وقت میں بھی بڑے نتائج سامنے آتے ہیں۔ یونیورسٹی آف اوکاڑہ کا تیسرا کانووکیشن اسی حقیقت کی ایک عملی تصویر بن کر سامنے آیا، جہاں محض اسناد کی تقسیم نہیں ہوئی بلکہ ایک ابھرتے ہوئے تعلیمی ادارے کے مستقبل کا نقشہ بھی واضح انداز میں پیش کیا گیا۔2016 میں چارٹر ملنے کے بعد چند ماہ کے وقفے سے دو کانووکیشنز کا انعقاد یقینا ایک قابلِ تعریف اور خوش آئند اقدام ہے، جو یونیورسٹی انتظامیہ کی سنجیدگی اور تعلیمی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔اوکاڑہ یونیورسٹی کے تیسرے کانووکیشن کے موقع پر صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب رانا سکندر حیات نے جس اعتماد، وضاحت اور ٹھہراؤ کے ساتھ گفتگو کی، وہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اعلیٰ تعلیم محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قومی ترجیح بنتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کو 2016 میں چارٹر ملا اور تقریباً نو برس کے مختصر عرصے میں اسے ایک مضبوط، جدید اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ادارہ بنانے کے لیے حکومت پنجاب نے عملی اقدامات کیے ہیں۔کانووکیشن کے موقع پر راقم (محمد مظہررشید چودھری)سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے جو اعداد و شمار پیش کیے، وہ محض دعوے نہیں بلکہ پالیسی کی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف رواں برس میں حکومت پنجاب نے یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے لیے تقریباً دو ارب روپے مختص کیے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری اس بات کی علامت ہے کہ صوبائی حکومت نئی جامعات کو وقتی نہیں بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر مستحکم دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ دنیا کی کسی بھی سرکاری یونیورسٹی میں اس نوعیت کی مثال کم ہی ملتی ہے، دراصل پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بدلتے ہوئے رویے کی طرف اشارہ ہے۔رانا سکندر حیات نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ سرمایہ کاری صرف عمارتوں تک محدود نہیں رکھی گئی بلکہ اس کا مرکز طالب علم رہا ہے۔ یونیورسٹی میں 1100 کے قریب لیپ ٹاپس کی فراہمی، ایک ہزار طلبہ کے لیے اسکالرشپس، اور فری لرننگ مینجمنٹ سسٹم کا اجرا ایسے اقدامات ہیں جو جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ آج جب دنیا ڈیجیٹل لرننگ کی طرف بڑھ رہی ہے، وہاں ایسے اقدامات کسی بھی یونیورسٹی کے لیے ناگزیر بن چکے ہیں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ مضبوط اساتذہ کے بغیر معیاری تعلیم کا تصور ممکن نہیں۔ اسی تسلسل میں خواتین طالبات کے لیے ایکسپریشن سینٹر کا قیام اور اسکل ڈیویلپمنٹ سیکٹر کو فعال کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یونیورسٹی آف اوکاڑہ کو محض نصابی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے ایک ہمہ جہت ادارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس گفتگو کا ایک اہم پہلو گریجویٹس کو عملی روزگار سے جوڑنے کا تھا۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ سرکاری جامعات کے فارغ التحصیل طلبہ کو محض ڈگری یافتہ نہیں بلکہ ہنر مند بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے لیے انڈسٹری اور اکیڈمیا کے درمیان روابط کو فروغ دیا جا رہا ہے اور یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں اسکلز ڈیویلپمنٹ سینٹر قائم کیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کی ایمپلائبیلٹی میں حقیقی اضافہ ہو سکے۔تیسری کانووکیشن کے اعداد و شمار خود یونیورسٹی کی رفتار کا اندازہ دیتے ہیں۔ اس موقع پر مجموعی طور پر 4,924 ڈگریاں اور 72 گولڈ میڈلز تقسیم کیے گئے، جبکہ گزشتہ ایک برس کے دوران تعلیم مکمل کرنے والے 18 پی ایچ ڈی اسکالرز نے بھی اپنی ڈگریاں وصول کیں۔ یہ لمحہ جامعہ اوکاڑہ کی تعلیمی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ پی ایچ ڈی سطح پر پیش رفت کسی بھی یونیورسٹی کی تحقیقی پختگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی رانا سکندر حیات نے اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی اور انفراسٹرکچر ترقی میں واضح بہتری آئی ہے۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بڑے خواب دیکھیں، محنت سے نہ گھبرائیں اور دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی قومی اور بین الاقوامی درجہ بندی میں بہتری خوش آئند ہے اور وہ دن دور نہیں جب یونیورسٹی آف اوکاڑہ پاکستان کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہو گی۔اسی موقع پر صوبائی وزیر نے یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کے سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کا اعلان بھی کیا، جو مستقبل کی تعلیم اور تحقیق کے تناظر میں ایک انتہائی اہم قدم ہے۔ آج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت نہ صرف تعلیم بلکہ معیشت اور صنعت کا رخ بھی متعین کر رہی ہے، اور اس شعبے میں سرمایہ کاری اوکاڑہ یونیورسٹی کو نئے افق عطا کر سکتی ہے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے اپنے خطاب میں صوبائی وزیر کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی میں جاری تعلیمی و انفراسٹرکچر منصوبوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو تلقین کی کہ عملی زندگی میں مقابلہ اور چیلنجز ضرور ہوں گے، مگر خود اعتمادی، جدت اور مسلسل محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔تقریب میں کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر فہیم ارشد، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد واجد اور رجسٹرار جمیل عاصم کی موجودگی نے انتظامی ہم آہنگی کو بھی اجاگر کیا، جبکہ میڈیا کوآرڈینیٹر شرجیل احمد نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیے۔اس موقع پر ممبرز صوبائی اسمبلی میاں محمد منیر اور موتیا مسعود بھی موجود رہیں،مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اوکاڑہ یونیورسٹی کا تیسرا کانووکیشن محض ایک رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ یہ اس ویژن کا اعلان تھا جس کے تحت ایک نسبتاً نئی جامعہ کو مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ رانا سکندر حیات کی گفتگو میں یہی واضح پیغام تھا کہ اگر تعلیم کو ترجیح دی جائے تو کم وقت میں بھی مضبوط بنیادیں رکھی جا سکتی ہیں ٭

اپنا تبصرہ بھیجیں