گل پلازہ کراچی کی راکھ پر لکھی رپورٹ۔۔۔نظام کی ننگی حقیقت

رشیداحمدنعیم

یہ کوئی عام خبر نہیں یہ ایک شہر کے ضمیر پر ثبت وہ نوحہ ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا بھی ایک اذیت ہے۔ سانحہ گل پلازہ سے متعلق کمشنر کراچی کی اکیس صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ بظاہر ایک سرکاری دستاویز ہے مگر حقیقت میں یہ اُن چیخوں، اُن سسکیوں اور اُن جلتی ہوئی سانسوں کا تحریری عکس ہے جو اُس رات آسمانِ کراچی میں تحلیل ہو گئیں۔ یہ رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کر دی گئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ رپورٹ اُن ماؤں کے دلوں پر رکھا ہوا بوجھ ہلکا کر سکتی ہے جو آج بھی اپنے بچوں کے نام پکار کر خاموش ہو جاتی ہیں؟ کیا یہ رپورٹ اُن باپوں کے ہاتھوں کی لرزش کو ختم کر سکتی ہے جو شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے دیتے ہوئے خود کو ٹوٹتا محسوس کر رہے تھے؟رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آگ رات دس بج کر پندرہ منٹ پر لگی۔ وقت کے اس ایک جملے میں پورا قیامت کدہ سمٹ آیا ہے۔ دس بج کر پندرہ منٹ۔۔۔ جب بازاروں کی روشنیاں مدھم ہو رہی تھیں۔ دکانیں بند ہونے کی تیاری میں تھیں۔کچھ دوکاندار آخری خریدار کو رخصت کر رہے تھے۔کچھ لوگ دن بھر کی تھکن کے بعد سستانے کا سوچ رہے تھے۔ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ یہی لمحہ زندگی اور موت کے درمیان آخری لکیر بن جائے گا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ آگ فلاور اینڈ گفٹ شاپ میں لگی جہاں ایک گیارہ سالہ بچے کے ہاتھ سے جلائی گئی ماچس نے مصنوعی پھولوں کو شعلہ بنا دیا۔ ایک معصوم ہاتھ، ایک بے خبر حرکت اور پھر ایسا الاؤ جس نے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ آگ صرف مصنوعی پھولوں کو نہیں جلا رہی تھی یہ ایک پورے نظام کی غفلت کو بے نقاب کر رہی تھی۔آگ لگنے کے پچیس منٹ بعد پہلا فائر ٹینڈر موقع پر پہنچا۔ پچیس منٹ۔۔۔ یہ وہ وقفہ ہے جس میں ایک انسان جل کر راکھ ہو سکتا ہے۔جس میں دھواں پھیپھڑوں کو جلا سکتا ہے۔جس میں امید دم توڑ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دس بج کر پچاس سے پچپن منٹ کے درمیان آگ کو تیسرے درجے کا قرار دیا گیا مگر سوال یہ ہے کہ کیا اُس وقت بھی آگ تیسرے درجے کی تھی یا یہ درجے صرف فائلوں میں لکھنے کے لیے ہوتے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ آگ اُس لمحے ہی انسانیت کے چوتھے اور پانچویں درجے تک پہنچ چکی تھی۔رپورٹ میں کسی فرد یا ادارے پر براہِ راست ذمہ داری عائد نہیں کی گئی۔ یہ ایک جملہ نہیں یہ ایک طمانچہ ہے۔ وہ ستر سے زائد جانیں جو اس عمارت میں گھٹن، شعلوں اور بے بسی کے درمیان ختم ہو گئیں کیا اُن کی موت کی کسی پر کوئی ذمہ داری نہیں؟ اگر ذمہ دار کوئی نہیں تو پھر قصور کس کا ہے؟ دیواروں کا؟ سیڑھیوں کا؟ دھوئیں کا؟ یا اُس نظام کا جو ہر سانحے کے بعد ذمہ داری سے منہ موڑ لیتا ہے؟انکوائری رپورٹ بتاتی ہے کہ آگ لگنے کے پانچ منٹ بعد چوکیدار نے بجلی منقطع کی مگر غیر محفوظ برقی نظام نے آگ کی شدت میں اضافہ کیا۔ یہ جملہ ہمارے شہروں کی کہانی ہے جہاں غیر محفوظ تاریں، اوورلوڈنگ اور غیر قانونی کنکشن معمول بن چکے ہیں۔ گراؤنڈ فلور پر آگ کے باعث سیڑھیوں میں دھواں بھر گیا۔ راستے بند ہو گئے۔ لوگ دکانوں میں قید ہو گئے۔ وہ دکانیں جو روزی کا ذریعہ تھیں اُس رات قبریں بن گئیں۔ اندر پھنسے لوگ شاید چیخ رہے ہوں گے۔ شاید دروازے پیٹ رہے ہوں گے۔ شاید آخری لمحے میں کسی اپنے کا نام لے رہے ہوں گے مگر باہر کی دنیا تک اُن کی آواز نہ پہنچ سکی۔کے ایم سی کا پہلا فائر ٹینڈر رات دس بج کر چالیس منٹ پر پہنچا۔ دوسرا دس بج کر انچاس منٹ پرپہنچا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم دس بج کر ترپن منٹ پر پہنچی۔ یہ تمام اوقات رپورٹ میں درج ہیں مگر ان اوقات کے درمیان جو بیتا وہ صرف وہی جان سکتے ہیں جو اُس عمارت میں تھے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ کے پاس مناسب آلات اور حفاظتی گیئر موجود نہیں تھے۔ فائر فائٹرز خالی ہاتھوں کے ساتھ شعلوں کے سامنے کھڑے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم معجزے کی توقع رکھتے ہیں مگر ہم نے انہیں بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں کیں۔پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔ پہلا باؤزر تقریباً ایک گھنٹے بعد رات گیارہ بج کر ترپن منٹ پر پہنچا۔ مسلسل پانی کی فراہمی آدھی رات کے بعد ممکن ہو سکی۔ سوال یہ ہے کہ اُس ایک گھنٹے میں کتنی سانسیں ٹوٹ گئیں؟ کتنے خواب راکھ ہو گئے؟ کتنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں؟ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میزنائن فلور پر پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے میٹل کٹر دستیاب نہیں تھے جس کے باعث لوہے کی جالیوں کو کاٹنے میں تاخیر ہوئی۔ وہ جالیاں جو کبھی دکانوں کی حفاظت کے لیے لگائی گئی تھیں اُس رات موت کے دروازے بن گئیں۔آگ کی شدت کے باعث مختلف ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی مگر ہسپتالوں میں پہنچنے والوں میں سے بہت سوں کے لیے ایمرجنسی بھی بے معنی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی زندگی کی سرحد پار کر چکے تھے۔ رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کے تین حصے مکمل طور پر مخدوش ہو گئے۔ انکوائری رپورٹ مرتب ہونے تک اناسی افراد لاپتہ تھے۔ ابتدا میں چھ لاشیں ملیں بعد ازاں تہتر افراد کی باقیات اور اعضاء برآمد کیے گئے۔ یہ الفاظ لکھنا آسان ہے مگر تصور کیجیے وہ منظر جب ایک ماں کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کے بیٹے کی مکمل لاش نہیں مل پائی صرف باقیات ملی ہیں۔ تصور کیجیے وہ لمحہ جب شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے لیے جا رہے تھے اور رشتے خون کی بجائے لیبارٹری کی رپورٹ سے ثابت ہو رہے تھے۔رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ فائر آڈٹس کیے گئے مگر ان پر عملدرآمد جانچنے کے لیے کوئی مؤثر فالو اپ نہیں ہوا۔ سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ کی رپورٹس فائلوں تک محدود رہیں۔ راہداریوں کی واضح نشاندہی نہیں تھی۔ منظور شدہ بلڈنگ پلان میں حفاظتی اور ماحولیاتی اصولوں کو نظرانداز کر کے تبدیلیاں کی گئیں۔ دکانوں کی تعداد بڑھا دی گئی۔ سیڑھیوں کی چوڑائی کم کر دی گئی۔داخلی دروازے کم کر دیے گئے۔ یہ سب فیصلے شاید منافع کے لیے کیے گئے مگر قیمت انسانوں نے ادا کی۔انکوائری کمیٹی نے فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کی استعداد کار بڑھانے کی سفارش کی ہے۔ سفارش وہ لفظ ہے جو ہر رپورٹ میں ہوتا ہے مگر شاذ و نادر ہی حقیقت بنتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سانحے کے بعد کچھ بدلے گا؟ یا گل پلازہ بھی ان گنت سانحات کی فہرست میں ایک اور اندراج بن کر رہ جائے گا؟یہ رپورٹ پڑھتے ہوئے آنکھیں نم ہونا فطری ہے کیونکہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں یہ زندگیاں ہیں۔ یہ اُن بچوں کے نام ہیں جو گھر لوٹنے کا وعدہ کر کے گئے تھے۔ یہ اُن عورتوں کی خاموشی ہے جو اپنے سہاگ جلتے دیکھ کر بھی چیخ نہ سکیں۔ یہ اُن باپوں کی بے بسی ہے جو اپنے بچوں کو بچا نہ سکے۔
گل پلازہ کا سانحہ ہمیں یہ سوال چھوڑ کر جاتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک زندہ معاشرہ ہیں یا ہم صرف سانحات گننے والی ایک مشین بن چکے ہیں؟جب تک انکوائری رپورٹس صرف فائلوں کی زینت رہیں گی۔تب تک ذمہ داری کا تعین نہیں ہو گا۔ جب تک انسانی جان کو منافع اور لاپروائی سے زیادہ قیمتی نہیں سمجھا جائے گا تب تک گل پلازہ جیسے سانحات ہوتے رہیں گے۔ یہ آگ بجھ چکی ہے مگر اس کی راکھ ہمارے ضمیر پر جمی ہوئی ہے اور یہ راکھ ہمیں ہر روز یاد دلاتی رہے گی کہ یہ حادثہ نہیں تھا یہ ایک اجتماعی ناکامی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں