دہشت گردی، قومی بیانیہ اور ریاستی ذمہ داری

تحریر :آغا غا سفیر حسین کاظمی
بلوچستان میں دہشت گردی کوئی اچانک یا غیر متوقع واقعہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی، منظم اور منصوبہ بند عمل ہے، جسے برسوں سے فریب، مظلومیت اور نام نہاد حقوق کے پردے میں چھپایا جاتا رہا ہے۔ بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) اسی منصوبہ بند خونریزی کا ایک مرکزی کردار ہے، جو خود کو ایک سیاسی یا مزاحمتی تحریک کے طور پر پیش کرتی ہے، مگر اس کی عملی شناخت دہشت گردی، خودکش حملوں اور بے گناہوں کے قتل سے عبارت ہے۔ بی ایل اے دراصل ایک علیحدگی پسند، مسلح تنظیم ہے جو ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کے نام پر نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں، مزدوروں، اساتذہ، انجینئرز اور حتیٰ کہ اپنے ہی بلوچ عوام کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ اس تنظیم کا سب سے سفاک چہرہ اس کی ذیلی شاخ مجید بریگیڈ ہے، جو خودکش حملوں کے لیے مخصوص سمجھی جاتی ہے۔ یہی وہ ونگ ہے جس نے خودکش بمباروں کو بطور “ہتھیار” استعمال کرنے کی روایت ڈالی، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس روایت کو مزید خوفناک شکل دی۔
ابتدا میں خودکش حملہ آور مرد ہوتے تھے، جنہیں نظریاتی برین واشنگ، محرومی کے بیانیے اور جنت کے خواب دکھا کر موت کے منہ میں دھکیلا گیا۔ لیکن جب یہ حربہ فرسودہ ہونے لگا اور عالمی توجہ کم ہوئی تو مجید بریگیڈ نے ایک نیا، چونکا دینے والا کارڈ کھیلا — خواتین خودکش بمبار۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں دہشت گردی کو ہمدردی کی آڑ مل گئی۔ خواتین کے استعمال کو جان بوجھ کر ایک مظلوم علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ ساتھ ہی ایک اور بیانیہ زور پکڑ گیا: مسنگ پرسنز کا بیانیہ۔ کہا گیا کہ یہ خواتین اور مرد ریاستی جبر کا شکار ہیں، لاپتہ کر دیے گئے ہیں، تشدد کا نشانہ بنے ہیں، اور اسی ظلم کا ردعمل خودکش حملوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
مگر وقت نے ایک ایک کر کے اس بیانیے کی پرتیں کھول دیں۔ جن افراد کو “لاپتہ” کہا جاتا رہا، وہ بارہا دہشت گرد کارروائیوں میں زندہ، متحرک اور مسلح پائے گئے۔ کئی نام نہاد مسنگ پرسن افغانستان، ایران یا پہاڑی ٹھکانوں میں ٹریننگ لیتے پکڑے گئے۔ کچھ سرحد پار سے کارروائیاں کرتے ہوئے مارے گئے، تو کچھ خودکش جیکٹس پہنے سامنے آ گئے۔ یوں یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ یہ گمشدگیاں نہیں، بلکہ چھپاؤ تھا؛ یہ مظلومیت نہیں، بلکہ منصوبہ بندی تھی۔ خواتین کو اس کھیل میں شامل کرنا اس دہشت گرد سوچ کی انتہا ہے۔ انہیں یا تو خاندانی دباؤ، یا نظریاتی فریب، یا جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے موت کے راستے پر ڈالا گیا۔ کسی کو بھائی کی ہلاکت کا بدلہ دکھایا گیا، کسی کو ماں بننے کے بجائے “علامت” بننے کا خواب دیا گیا۔ یہ نہ آزادی کی جدوجہد ہے، نہ حقوق کی تحریک — یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
گذشتہ چند برسوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں نہایت شدید اور مسلسل رہی ہیں۔ 2025 میں صوبے بھر میں سیکڑوں انٹیلی جنس‑بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 707 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ 202 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 280 سے زائد عام شہری بھی دہشت گردی کے واقعات میں جان سے گئے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز نے مخفی ٹھکانوں، اسلحے اور بارودی سرنگوں کو تباہ کیا، دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کیا اور عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر کلیئرنس آپریشنز بھی کیے۔ حال ہی میں، جنوری 2026 کے آخر میں ایک بڑے اشتعال انگیز واقعے کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے 40 گھنٹے سے زائد کے سخت مقابلوں میں کم از کم 145 شدت پسند دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ 17 سیکیورٹی اہلکار اور 31 عام شہری بھی اس دوران شہید ہوئے۔ یہ تازہ ترین کارروائیاں اس امر کی علامت ہیں کہ بلوچستان اور کے پی کے میں انسدادِ دہشت گردی کا عمل ابھی بھی جاری ہے اور سیکیورٹی ادارے عوام کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں مختلف ادوار کے دوران نام نہاد مسنگ پرسنز کے عنوان سے جو احتجاجی کیمپس لگائے گئے، ان میں خواتین اور بچوں کی موجودگی کو خاص طور پر ایک علامتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان کیمپس کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ ریاست بلا تفریق لوگوں کو لاپتہ کر رہی ہے، جبکہ زمینی حقائق اور بعد ازاں سامنے آنے والی معلومات نے بارہا ثابت کیا کہ ان میں سے متعدد افراد یا تو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ عملی طور پر منسلک تھے یا سرحد پار جا کر مسلح سرگرمیوں میں شریک رہے۔ ریاستی اداروں کے خلاف منظم بیانیہ، بین الاقوامی میڈیا تک رسائی اور مخصوص این جی اوز کی پشت پناہی نے ان احتجاجوں کو محض انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں رہنے دیا بلکہ ایک واضح سیاسی اور ریاست مخالف مہم میں بدل دیا۔
یہ حقیقت بھی تسلیم کر لینی چاہیے کہ دہشت گردوں کے شر انگیز اور باطل بیانیے کے مقابلے میں ہم ایک مؤثر، مربوط اور مسلسل قومی بیانیہ پیش کرنے میں وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے جس کی ضرورت تھی۔ اگرچہ یہ کہنا شاید زیادتی ہو کہ ہم مکمل طور پر ناکام رہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہماری کوششیں وقتی، ردِعمل پر مبنی اور بکھری ہوئی رہیں۔ دشمن نے جھوٹ کو جذبات، مظلومیت اور انسانی حقوق کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کیا، جبکہ ہم سچ کو بروقت، سادہ اور مؤثر انداز میں عوام اور دنیا کے سامنے رکھنے میں تاخیر کرتے رہے۔ یہی خلاء وہ لمحۂ فکریہ ہے جس پر سنجیدہ غور، خود احتسابی اور ایک واضح قومی حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔
اس ضمن میں ایک نہایت اہم اور قابلِ توجہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی ٹارگٹ اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کی تفصیلات تو باقاعدگی سے آئی ایس پی آر کے ذریعے قوم کے سامنے آ جاتی ہیں، جس سے ادارہ جاتی سطح پر پیشہ ورانہ شفافیت کا تاثر ملتا ہے۔ تاہم اس کے برعکس، ریاستِ پاکستان کی حکومتی و انتظامی سطح پر کوئی ایسا جامع، مؤثر اور عوام میں قبولیت حاصل کرنے والا قومی بیانیہ سامنے نہیں آ سکا جو سچ کو نہ صرف واضح انداز میں بیان کرے بلکہ دلوں اور ذہنوں تک بھی پہنچے۔ بدقسمتی سے، جو خیالات، جذبات یا بیانات سامنے آتے ہیں اور جنہیں بیانیے کا نام دیا جاتا ہے، وہ زیادہ تر قومی وحدت کے بجائے سیاسی مفادات کی خوشبو لیے ہوتے ہیں، جنہیں سننے اور دیکھنے والا قومی موقف کم اور ایک دوسرے پر سیاسی حملہ زیادہ محسوس کرتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں دشمن کا جھوٹ مضبوط ہوتا ہے اور ریاست کا سچ کمزور دکھائی دیتا ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے الگ الگ تجربات ہمیں ایک مشترکہ سبق دیتے ہیں: محض عسکری کامیابی کافی نہیں۔ بلوچستان کے لیے بیانیہ شمولیت، انصاف، وسائل اور قومی یکجہتی پر مبنی ہونا چاہیے، جبکہ کے پی کے کے لیے شدت پسندی کے فکری ابطال، امن، بحالی اور مستقبل کی امید کا پیغام دینا ہوگا۔ ریاستی بیانیہ تبھی مؤثر ہوگا جب ہر خطے کے مسئلے کو اس کے اپنے تناظر میں سمجھے اور بیان کرے۔
ریاستی بیانیے کے لیے عملی نکات
ریاستی بیانیے کی تشکیل کا پہلا عملی نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ اسے سیاسی حکومتوں سے بالاتر ایک قومی ذمہ داری سمجھا جائے۔ جب تک بیانیہ ہر حکومت کے ساتھ بدلتا رہے گا، اس کی ساکھ قائم نہیں ہو سکے گی۔ اس کے لیے پارلیمان، عسکری قیادت، عدلیہ، میڈیا، تعلیمی اداروں اور دانشور طبقے پر مشتمل ایک مستقل قومی فریم ورک درکار ہے، جو بنیادی نکات پر اتفاق کے ساتھ آگے بڑھے۔ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور شدت پسندی کے بارے میں ایک واضح، غیر مبہم اور مشترکہ مؤقف ہی بیانیے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
دوسرا عملی قدم سچ کی بلاخوف و خطر پیشکش ہے۔ ریاست کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جہاں محرومیاں، بدانتظامی اور غلط پالیسیاں رہی ہیں، وہاں اصلاح کی ضرورت ہے، مگر ساتھ ہی یہ بات بھی پوری قوت سے واضح کی جائے کہ دہشت گردی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ جب ریاست اعتراف اور احتساب کے ساتھ بات کرتی ہے تو اس کا بیانیہ دفاعی نہیں بلکہ بااعتماد محسوس ہوتا ہے۔
تیسرا نکتہ انسانی چہرہ ہے۔ ریاستی بیانیہ صرف اعداد و شمار، کامیاب آپریشنز اور بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ متاثرہ شہری، شہداء کے خاندان، بحال ہونے والے علاقے اور امن کی طرف لوٹتی زندگی کو سامنے لائے۔ جب عوام کو اپنی کہانی ریاست کی زبان میں سنائی دیتی ہے تو وہ بیانیے کا حصہ بنتے ہیں، محض سامع نہیں رہتے۔
چوتھا عملی پہلو میڈیا اور ڈیجیٹل اسپیس ہے۔ ریاستی بیانیہ اگر سوشل میڈیا، نوجوانوں اور نئی نسل تک ان کی زبان اور اسلوب میں نہیں پہنچے گا تو وہ خلا دشمن بھر دے گا۔ تربیت یافتہ ترجمان، مربوط ڈیجیٹل حکمتِ عملی اور فیک نیوز کے فوری جواب کے بغیر کوئی بھی بیانیہ مقبول نہیں ہو سکتا۔
آخر میں، ریاستی بیانیے کا سب سے مضبوط ستون عمل اور پالیسی میں ہم آہنگی ہے۔ اگر بیانیہ امن، انصاف اور شمولیت کا ہو مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہو تو بیانیہ خود ہی دفن ہو جاتا ہے۔ ترقی، تعلیم، انصاف اور روزگار کے عملی نتائج ہی وہ دلیل ہیں جو ہر تقریر سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ جب ریاست کا کہا ہوا اور کیا ہوا ایک ہو جائے، تب قومی بیانیہ خود بخود مؤثر بھی ہو جاتا ہے اور مقبول بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں