تحریر: مہر ہمیش گُل
موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ ایک ایسا سچ جس سے انکار ممکن نہیں جس کے سامنے ہر ذی روح نے کبھی نہ کبھی سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ انسان اسے مانتا بھی ہے، قبول بھی کرتا ہے اور بسا اوقات صبر کے دامن میں لپیٹ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ جب موت قدرتی ہو، بیماری کے بعد آئے یا عمر کی تکمیل پر دستک دے تو دل زخمی ضرور ہوتا ہے مگر روح مطمئن رہتی ہے۔ اس لیے کہ انسان جانتا ہے کہ زندگی اور موت کا اختیار اللہ ربّ العالمین کے ہاتھ میں ہے۔
مگر سوال موت کا نہیں موت کے طریقے کا ہے۔جب موت بے وجہ ہو، بے معنی ہو، قابلِ تدارک ہوتو یہ صرف ایک فرد کی جان نہیں لیتی بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر گہرا زخم لگا دیتی ہے۔بے وجہ موت دراصل ایک زندہ معاشرے کی خاموش چیخ ہوتی ہے۔ ایک ایسی چیخ جو سنائی نہیں دیتی مگر ہر حساس دل کو اندر سے چیر دیتی ہے۔ یہ وہ موت ہے جو تقدیر نہیں ہماری کوتاہی ہوتی ہے۔ یہ وہ جانیں ہیں جو بچ سکتی تھیں
اگر احساس زندہ ہوتا
اگر نظام بیدار ہوتا
اگر انسان انسان کے درد کو پہچان لیتا
غیر طبعی موت کوئی حادثہ نہیں
یہ اکثر ایک اجتماعی ناکامی ہوتی ہے
ایسی موت جسے احتیاط، بروقت فیصلے، انصاف، ذمہ داری اور تھوڑی سی انسانیت سے روکا جا سکتا تھا مگر ہم نے نہیں روکا۔ ہم نے آنکھیں چرائیں، نظریں پھیر لیں یا خاموش تماشائی بنے رہے۔
جب کوئی مریض صرف اس لیے ہسپتال میں دم توڑ دے کہ اس کے پاس علاج کے پیسے نہیں
جب کسی ایمرجنسی میں کوئی سہولت”فری“ہونے کے باوجود کاغذی کارروائی کی نذر ہو جائے
جب سڑک حادثے کے بعد ایک نوجوان اس لیے مر جائے کہ ایمبولینس وقت پر نہ پہنچی اور اردگرد کھڑے لوگ ویڈیو بنانے میں مصروف رہے
تو یہ موت نہیں، قتلِ خاموش ہوتا ہے
اور اس قتل میں صرف ایک ہاتھ نہیں پورا معاشرہ شریک ہوتا ہے۔
اگر اس لمحے کسی ایک انسان کا بھی ضمیر جاگ جائے، اگر کوئی ایک شخص یہ سوچ لے کہ”یہ میرا بھائی ہو سکتا تھا۔یہ میرا بیٹا ہو سکتا تھا“تو نہ جانے کتنے گھروں کے چراغ بجھنے سے بچ جائیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا ضمیر اکثر تب جاگتا ہے جب سانحہ ہمارے دروازے پر دستک دے چکا ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بے وجہ اموات کی جڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں اور ان جڑوں میں سب سے مضبوط جڑ غربت ہے۔غربت صرف بھوک کا نام نہیں۔ یہ امید، تحفظ، خواب اور عزتِ نفس سب کچھ نگل لیتی ہے۔ غریب انسان بیماری سے کم بے بسی سے زیادہ مرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر اس کے پاس پیسہ ہوتا تو شاید آج وہ زندہ ہوتا۔ اس معاشرے میں پیسے کو جو مقام حاصل ہے وہ انسان کو حاصل نہیں۔
یہ احساس کہ تمہاری جان کی قیمت تمہاری جیب سے طے ہوگی موت سے بھی زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔
ستم یہ ہے کہ پیسہ خود انسان کے بغیر بے معنی ہے مگر ہم نے انسان کو پیسے کے بغیر بے معنی بنا دیا ہے۔
بے وجہ اموات کی ایک اور بڑی وجہ ہمارا بوسیدہ نظام ہے۔ایسا نظام جو سفارش کے سہارے کھڑا ہے۔ جہاں انصاف کی آنکھ پر پٹی نہیں بلکہ قیمت لگی ہے۔جب قانون صرف طاقتور کے تحفظ کے لیے حرکت میں آئے اور کمزور کے لیے محض صبر اور دعا کا مشورہ ہو، تو وہاں صرف فرد نہیں مرتا پورا معاشرہ دم توڑ دیتا
ہے۔
جہاں غریب کو لاش کے ساتھ”حوصلہ“دے کر رخصت کیا جائے اور امیر کو استثنیٰ دے دیا جائے وہاں موت معمول بن جاتی ہے۔
سڑکوں پر ہونے والے حادثات اس اجتماعی بے حسی کی کھلی تصویر ہیں۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، تیز رفتاری، غلط اوورٹیکنگ، غیر ذمہ دار ڈرائیونگ یہ سب محض غلطیاں نہیں یہ ممکنہ اموات ہیں۔
ایک غلط موڑ، ایک لمحے کی لاپرواہی، کئی گھروں کو عمر بھر کا سوگ دے جاتی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جائے حادثہ پر کھڑے لوگ یہ سوچنے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ جو زمین پر بے جان پڑا ہے وہ کسی ماں کی دعا تھا۔ کسی باپ کا سہاراتھا۔کسی بچے کی دنیاتھی۔
رفتار کم کرنا محض قانون کی پابندی نہیں، یہ انسانیت کا تقاضا ہے۔
بے وجہ اموات صرف جسمانی نہیں ہوتیں یہ ذہنی اور روحانی بھی ہوتی ہیں۔
آج کا انسان ہجوم میں تنہا ہے۔ تنہائی کو سکون سمجھا جا رہا ہے مگر یہی تنہائی آہستہ آہستہ ذہنی دباؤ، احساسِ کمتری اور مایوسی میں بدل رہی ہے۔
نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات اسی خاموش اذیت کا نتیجہ ہیں۔ یہ وہ اموات ہیں جن کا جنازہ بھی اکثر خاموش ہوتا ہے اور سوال بھی بے جواب رہ جاتے ہیں۔
ایسی اموات کو صرف اعداد و شمار میں مت گنیے۔ ایک انسان کے مرنے سے صرف ایک جان نہیں جاتی اس سے جڑی ہوئی کئی زندگیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ خواب دفن ہو جاتے ہیں۔مستقبل یتیم ہو جاتا ہے۔
اسلام انسان کی جان کو بے حد قیمتی قرار دیتا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔یہ محض ایک مذہبی تعلیم نہیں بلکہ ایک مکمل انسانی فلسفہ ہیکہ انسان، انسان کے لیے ڈھال بنے، تماشائی نہیں۔
بے وجہ موت ہمیں آئینہ دکھاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ موت کیوں آئی سوال یہ ہے کہ ہم کہاں تھے؟
کیا ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنی سہولت کے لیے کسی اور کی زندگی کو داؤ پر لگا دیں؟
ہم اکثر تب جاگتے ہیں جب سانحہ ہمیں چھو کر گزر چکا ہوتا ہے۔ جب درد اپنا ہو جاتا ہے تب ہی دوسرے کا احساس جاگتا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف حکومت یا اداروں کے پاس نہیں۔ یہ حل ہمارے اندر سے شروع ہوتا ہے۔
اگر ایک شہری قانون کی پابندی کرے
اگر ایک ڈاکٹر مریض کو فائل نہیں انسان سمجھے
اگر ایک استاد طالب علم کو نمبر نہیں امانت جانے
اگر ایک عام انسان دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھ لے
تو بے وجہ اموات کی تعداد خود بخود کم ہونے لگے۔
زندگی میں دکھ، پریشانیاں اور زخم سب کے حصے میں آتے ہیں۔ یہ زخم وقت کے ساتھ بھر بھی جاتے ہیں مگر خودکشی ان کا علاج نہیں۔ زندگی دوبارہ نہیں ملتی۔ یہ اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے اور نعمت کی قدر لازم ہے۔
اگر ہم ایک دوسرے کو سننا سیکھ لیں، محسوس کرنا سیکھ لیں اور بروقت ہاتھ بڑھانا سیکھ لیں، تو بے وجہ موت کو زندہ معاشرے کی خاموش چیخ بننے سے روکا جا سکتا ہے۔
ورنہ تاریخ ہمیں ایک ایسے معاشرے کے طور پر یاد رکھے گیجو زندہ تو تھا مگر انسانیت سے خالی۔

