پتنگ بازی۔۔۔ خوشیوں کے نام پر موت کا تہوار

تحریر: رشید احمد نعیم
پتنگ بازی ایک تفریح نہیں بلکہ ایک مسلسل بہتا ہوا زخم ہے جو ہر سال ہنستے بستے گھروں کو خاموش قبرستانوں میں بدل دیتا ہے۔ یہ وہ کھیل ہے جس کے نام پر رنگ برنگی خوشیوں کا جھوٹا میلہ سجایا جاتا ہے مگر اس میلے کے پیچھے خون آلود سچ چھپا ہوتا ہے۔ یہ سچ ماں کی اجڑی گود میں کراہتا ہے۔باپ کی خالی آنکھوں میں ٹھہر جاتا ہے اور بہنوں کے مقدر میں نہ ختم ہونے والا نوحہ لکھ دیتا ہے۔ معاشرہ اسے تہوار کہہ کر پیش کرتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک اجتماعی غفلت ہے جس کی قیمت انسانی جانوں سے ادا کی جاتی ہے۔یہ تحریر کسی وقتی جذبات یا حادثاتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل دہرائے جانے والے قومی المیے کی ترجمان ہے جسے ہم ہر سال دیکھتے، سہتے اور پھر فراموش کر دیتے ہیں۔ہر سال موسمِ بہار کے آتے ہی چھتوں پر شور بڑھ جاتا ہے، گلیوں میں ہنگامہ مچتا ہے اور شہروں کے اوپر قاتل ڈور کا جال تن جاتا ہے۔ یہ ڈور کسی عمر، کسی طبقے اور کسی پہچان کی تمیز نہیں کرتی۔ یہ معصوم بچے کا گلا بھی کاٹتی ہے۔ نوجوان کی سانس بھی چھینتی ہے اور بوڑھے کے خواب بھی دفن کر دیتی ہے۔ ماں اپنے بچے کو صبح تیار کر کے باہر بھیجتی ہے اس یقین کے ساتھ کہ شام کو مسکراتا ہوا لوٹے گا مگر چند لمحوں بعد وہی ماں شناخت کے کاغذات ہاتھ میں پکڑے مردہ خانے کے باہر کھڑی ہوتی ہے۔ باپ جس نے بیٹے کو بائیک پر بٹھاتے وقت اس کے ماتھے کو چوما تھا چند منٹ بعد اسی بیٹے کی لاش کے پاس کھڑا آنسو بہارہاہوتاہے پتنگ بازی کی ڈور صرف گلا نہیں کاٹتی بلکہ پورے خاندان کی رگوں میں خوف اتار دیتی ہے۔ بہنوں کے محافظ بھائی جب اس ڈور کا شکار ہوتے ہیں تو گھر کی دیواریں بھی سسکیاں لینے لگتی ہیں۔ وہ بہنیں جو بھائی کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھتی تھیں عمر بھر کے لیے عدم تحفظ کا بوجھ اٹھا لیتی ہیں۔ یہ کھیل ایک فرد کو نہیں مارتا بلکہ پورے خاندان کو سماجی اور نفسیاتی طور پر معذور کر دیتا ہے اور یہ نفسیاتی معذوری نسلوں تک چلتی ہے۔ان دنوں جب لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت میلہ منانے اور پتنگ بازی کی اجازت دی جا چکی ہے تو یہ سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کہ کیا ہم نے ماضی سے کچھ سیکھا بھی ہے یا نہیں؟ہر بار یہی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس مرتبہ حفاظتی اقدامات ہوں گے۔ ڈور محفوظ ہو گی اور قوانین پر عمل ہو گا مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ قاتل ڈور ہمیشہ قانون سے ایک قدم آگے رہی ہے۔ جب شہر کی فضا میں ایک بار پھر پتنگ بازی کا اعلان کیا جاتا ہے تو وہ تمام زخم تازہ ہو جاتے ہیں جو ابھی بھرے بھی نہیں ہوتے۔اگر ذرا رک کر اپنے اردگرد نظر دوڑائی جائے تو ہر محلے میں کوئی نہ کوئی ایسا گھر ضرور مل جاتا ہے جہاں بسنت یا پتنگ بازی کا موسم آتے ہی خاموشی چھا جاتی ہے۔ وہاں کوئی چھت پر نہیں جاتا۔ کوئی آسمان کی طرف نہیں دیکھتا۔ وہ لوگ جانتے ہیں کہ ایک لمحے کی لاپرواہی کس طرح پوری زندگی کو قید کر دیتی ہے۔ یہ وہ سچ ہے جو کسی سرکاری فائل میں مکمل نظر نہیں آتا مگر متاثرہ انسان کے دل میں پوری شدت سے زندہ رہتا ہے۔ یہ المیہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ کیمیکل لگی ڈور جسے موت کی ڈور کہنا زیادہ مناسب ہے آج بھی کھلے عام تیار ہوتی ہے۔فروخت ہوتی ہے اور استعمال ہوتی ہے۔ انتظامیہ وقتی بیانات دیتی ہے۔چند دن کریک ڈاؤن ہوتا ہے اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ بازار دوبارہ سج جاتے ہیں۔چھتیں دوبارہ بھر جاتی ہیں اور شہر ایک بار پھر انسانی خون مانگنے لگتا ہے۔ قانون موجود ہے مگر اس کی روح غائب ہے۔پابندیاں ہیں مگر عمل ندارد ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے اس کھیل کو ثقافت کے نام پر تحفظ دے رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کون سی ثقافت انسانی جان سے بڑی ہو سکتی ہے؟ کون سا تہوار ماں کی گود اجاڑنے کا حق رکھتا ہے؟ کون سی خوشی باپ کے کندھوں پر جنازہ اٹھوانے کا جواز بن سکتی ہے؟ اگر کسی روایت کے نتیجے میں مسلسل موت واقع ہو رہی ہو تو وہ روایت نہیں بلکہ جرم بن جاتی ہے اور جرم کو روایت کہہ کر قبول کرنا اجتماعی بے حسی کی بدترین شکل ہے۔پتنگ بازی کے نقصانات صرف جان لیوا حادثات تک محدود نہیں۔ بجلی کی تاروں میں الجھ کر یہ ڈور آگ لگاتی ہے۔شارٹ سرکٹ کرتی ہے اور پورے پورے علاقوں کو اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔ ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ بھر جاتے ہیں جہاں کٹے ہوئے گلے، ہاتھ اور چہرے لائے جاتے ہیں۔ یہ زخم عام نہیں بلکہ ایک سماجی بربریت کے زخم ہیں جو ہماری اجتماعی سوچ پر سوالیہ نشان ہیں۔بچے اس کھیل کا سب سے آسان شکار ہیں۔ انہیں نہ خطرے کا اندازہ ہوتا ہے نہ قاتل ڈور کی پہچان۔ وہ گلی میں کھیلتے ہیں۔ اسکول سے واپس آتے ہیں۔ سائیکل چلاتے ہیں اور اچانک ایک غیر مرئی قاتل ان پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ اگر ریاست واقعی بچوں کے تحفظ کی دعوے دار ہے تو پھر ایسے کھیلوں کے بارے میں دو ٹوک اور غیر مبہم فیصلہ کیوں نہیں کیا جاتا۔معاشی نقصان بھی کم نہیں۔ ہر حادثے کے بعد ایک کمانے والا ہاتھ ختم ہو جاتا ہے۔گھر کی آمدن رک جاتی ہے۔ قرض بڑھ جاتا ہے اور غربت مزید گہری ہو جاتی ہے۔ بیوہ عورتیں، یتیم بچے اور بے سہارا بوڑھے اس کھیل کی وہ قیمت ہیں جو کسی سرکاری اعداد و شمار میں پوری طرح نظر نہیں آتی۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی انسانی جان کو اہم سمجھتے ہیں یا نہیں؟ اگر جواب ہاں ہے تو پھر آدھے فیصلے کافی نہیں۔ کیمیکل ڈور پر مکمل اور مستقل پابندی ہونی چاہیے محض کاغذی نہیں بلکہ عملی۔ فروخت کرنے والوں کو نشان عبرت بنانا ہو گا۔چھتوں پر پتنگ اڑانے کو قابلِ سزا جرم تسلیم کرنا ہو گا۔ والدین، تعلیمی اداروں، مذہبی قیادت اور میڈیا سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔یہ تحریر کسی ایک واقعے کا نوحہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی چیخ ہے۔ یہ چیخ ان ماؤں کی ہے جو اپنے بچوں کی تصویروں سے باتیں کرتی ہیں۔ یہ چیخ ان باپوں کی ہے جن کی کمر جنازے اٹھاتے اٹھاتے جھک گئی۔ یہ چیخ ان بہنوں کی ہے جن کی آنکھوں سے آنسو ختم نہیں ہوتے۔ اگر اس چیخ کو بھی نظرانداز کیا گیا تو پھر ہمیں کسی نئے ماتم پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔پتنگ بازی ایک جان لیوا کھیل ہے اور اس سچ کو ماننے سے انکار مزید جانیں لے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ خوشیوں کے نام پر موت بیچنے والوں کو روکا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم تہوار اور جرم کے فرق کو سمجھیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو آسمان کی طرف نہیں بلکہ زندگی کی طرف دیکھنا سکھائیں۔ اگر آج فیصلہ نہ ہوا تو کل پھر کوئی ماں لاش وصول کرے گی۔کوئی باپ سڑک پر بیٹھ کر روئے گا اور ہم سب ایک اور خبر کو چند لمحوں میں بھلا دیں گے۔ یہی بے رحمی اس کھیل کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور یہی بے رحمی اگر ختم نہ ہوئی تو ماتم کبھی ختم نہیں ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں