قادربخش بلوچ
ہزاروں سال پہلے کی تاریخ دنیا کو بھیانک بتاتی ھے۔جہاں فہم و ادراک رکھنے والوں کا حشر تاریخ میں محفوظ ھے۔پھر یورپ نے کروٹ لی اور یورپ رعنائیاں بکھیرنے لگا۔جرمن فرانس اٹلی برطانیہ۔اکیسویں صدی کے طاقتور۔امریکہ کے اگے کچھ نہیں کہہ سکتے۔جاپان کو پرانی تاریخ اچھی طرح از بر ھے۔ہمارے سیاست دانوں کو چاہیے کہ ملک اور قوم کی خاطر سر جوڑ کر بیٹھیں۔تاکہ کوئی مثبت حل نکل آے۔دنیا میں سیاسی طوفان اتے رہتے ہیں۔لیکن طوفان سیاست دانوں کے اگے تھم جاتے ہیں۔ستر کے اواہل میں ویتنام اور امریکہ امنے سامنے تھے۔لیکن سیاستدانوں کی مداخلت سے طوفان تھم گئی۔اس وقت بلوچستان میں جو حالات ہیں۔یہ سیاست دانوں کی زمہ داری ہے کہ اپنی سیاسی بصیرت سے سیاسی طوفانوں پر قابو پائیں۔۔ڈاکٹر مالک بلوچ کے وزارت اعلی سے قبل صوبے کے حالات کافی خراب تھے سر شام دکانیں بند ہوا کرتی تھیں لیکن ڈاکٹر مالک بلوچ نے جب وزارت اعلی کی بھاگیں تھامیں۔تو سب نے دیکھا کہ بلوچستان کی سیاست کا بدکا ہوا سیاسی گھوڈا ڈاکٹر مالک نے کسطرح قابو کر لیا۔کوئی مانے کہ نا مانے بلوچستان میں ڈاکٹر مالک ایک ایسے عوامی رہنما ہیں جو مشکل ترین حالات کو کنٹرول کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔اور اگر حالات درست ہوں تو حکمرانی کرنا کونسی بڑی بات ھے۔دکھ اس بات کا ھے کہ مالک بلوچ جیسے سیاست دان کی موجودگی میں ان سے کام نہ لینا بد قسمتی کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ھے۔یہ ایک یقینی بات ھے اگر بلوچستان کے بدترین بحران کو قابو کرنے کا اختیار ڈاکٹر مالک کو دی جائے۔تو مالک بلوچ اس بدترین حالات کو مختصر ترین مدت میں خوبصورت ترین سطح پر لے آہیں گے۔
ڈاکٹر مالک بلوچ کی ٹیم میں موجود سیاست کے داو پیچوں سے مکمل آشنا۔جان بلیدی اپنی ساری زندگی سیاست کے بند گرہ کھولنے میں گزار چکے ہیں۔جان بلیدی جس شاہستہ انداز میں بلوچستان کے جملہ مسائل پر اپنی دانشمندانہ راے کا اظہار کرتے ہیں توجہ کے لائق ہیں۔اور یہ بھی یقین سے کہا جا سکتا ھے کہ بلیدی صاحب کے افکاروں پر عملدرآمد خوبصورت نتائج دے سکتے ہیں۔تاریخ بتاتی ھے کہ ہر سیاسی مسائل کا حل موجود ہوتا ھے مگر بات صرف اتنی ہے کہ مسائل کو سمجھ بوجھ کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جاے۔اور یہ کام سیاستدانوں کے لئے کوئی مشکل مسلہ نہیں ہوتا

