سانچ : وردی میں لپٹی انسانیت کی خوشبو، تھیلیسیمیا کے بچوں کے نام ایک بوند

تحریر: محمد مظہررشید چودھری (03336963372)
یہ وہ کہانی نہیں جو فائلوں میں دب کر رہ جائے، نہ وہ خبر جو اگلے دن کی سرخی بدلتے ہی فراموش ہو جائے۔ یہ ایک مسلسل جلتی ہوئی شمع کی داستان ہے، جو خاموشی سے اندھیروں کو چیر رہی ہے۔ ضلع اوکاڑہ میں پنجاب پولیس تحفظ مرکز کی جانب سے تھیلیسیمیا کے معصوم اور بہادر بچوں کے لیے کی جانے والی جدوجہد دراصل انسانیت کے اس روشن چہرے کی علامت ہے، جسے ہم اکثر شور، الزام اور بداعتمادی کے ہجوم میں کھو بیٹھتے ہیں۔تھیلیسیمیا کوئی معمولی بیماری نہیں۔ یہ ایک ایسی آزمائش ہے جو بچے کے ساتھ ساتھ پورے خاندان کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ہر چند ہفتوں بعد خون کی ضرورت، ہر لمحہ زندگی اور موت کے بیچ جھولتا مستقبل، اور ہر ماں کی آنکھوں میں وہ خاموش سوال کہ ’اگلا بندوبست کیسے ہوگا؟‘ ایسے میں اگر کوئی ادارہ محض اپنی ذمہ داری سمجھ کر نہیں بلکہ دل کی آواز بن کر آگے بڑھے، تو وہ خدمت نہیں رہتی، عبادت بن جاتی ہے۔سال 2025 میں اب تک ضلع اوکاڑہ میں تھیلیسیمیا فائٹر 175 سے زائد بچوں کے لیے 11 بلڈ ڈونیشن کیمپ منعقد ہونا محض ایک عددی کامیابی نہیں۔ یہ 700 سے زیادہ خون کے بیگز دراصل 700 سے زیادہ بار زندگی کی طرف بڑھایا گیا ہاتھ ہیں۔ یہ وہ لمحات ہیں جب کسی انجانے عطیہ دہندہ کی رگ سے نکلنے والا خون کسی معصوم کے وجود میں امید بن کر دوڑتا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ سینکڑوں زندگیاں اور ہزاروں دعائیں ہیں، جو ہر اس وردی پوش کے حصے میں آئی ہیں جو اس مشن کا حصہ بنا۔ان کیمپوں کی ایک نمایاں بات یہ ہے کہ یہاں کوئی تفریق نہیں۔ پنجاب پولیس کے جوان، ایلیٹ فورس کے کمانڈوز، سیف سٹی کے اہلکار، طلبا و طالبات، وکلا، مزدور اور عام شہری سب ایک صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہاں نہ عہدہ معنی رکھتا ہے، نہ طبقہ۔ سب کا تعارف صرف ایک ہے، انسان۔ ہر فرد اپنا خون ان بچوں کے نام کرتا ہے جن کی زندگی واقعی اسی ایک بوند پر قائم ہے۔ شاید یہی وہ منظر ہے جو معاشرے کو جوڑنے کی اصل طاقت رکھتا ہے۔سانچ کے قارئین کرام!ڈی پی او اوکاڑہ محمدراشد ہدایت کی سرپرستی میں تحفظ مرکز اوکاڑہ اس مشن کو جس استقامت سے آگے بڑھا رہا ہے، وہ قابل تحسین ہی نہیں، قابل تقلید ہے۔ ادارے تب مضبوط ہوتے ہیں جب قیادت محض احکامات تک محدود نہ رہے بلکہ خود مثال بنے۔ انچارج تحفظ مرکز اوکاڑہ اختر چودھری اور ان کی ٹیم نے یہی مثال قائم کی ہے۔ اختر چودھری کا خود 50 سے زائد مرتبہ بلڈ ڈونیشن کرنا کسی رسمی دعوے کا حصہ نہیں، بلکہ ایک خاموش پیغام ہے کہ قیادت آگے چل کر راستہ دکھاتی ہے۔پنجاب پولیس کے جوانوں کا دیا گیا ایک ایک قطرہ تھیلیسیمیا کے بچوں کے لیے امید اور ماؤں کے لیے سکون بن رہا ہے۔ وہ مائیں جو ہر بار بچے کو اسپتال لے جاتے ہوئے دل ہی دل میں ڈرتی ہیں، آج ان کے لیے وردی کا تصور خوف نہیں بلکہ اعتماد بن چکا ہے۔ ان کے لیے پولیس اب صرف قانون کی علامت نہیں، زندگی کی ضمانت بن گئی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں وردی کو اکثر ایک ہی زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ شکایات، تنقید اور تلخ تجربات اپنی جگہ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی وردی میں انسانیت کا ایک روشن چہرہ بھی موجود ہے۔ تحفظ مرکز اوکاڑہ کی یہ کاوش ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پولیس کا کردار صرف جرم روکنا یا ملزم پکڑنا نہیں، بلکہ معاشرے کے کمزور ترین طبقے کے ساتھ کھڑا ہونا بھی ہے۔یہ بلڈ ڈونیشن کیمپ ایک اور اہم پیغام بھی دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خون عطیہ کرنے سے متعلق پائے جانے والے خوف اور غلط فہمیاں آج بھی موجود ہیں۔ ایسے میں جب ایک باوقار ادارہ خود آگے بڑھ کر مثال قائم کرتا ہے، تو عام شہری کے لیے بھی راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ طلبہ، مزدور اور وکلا کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ صحیح نیت اور مسلسل محنت سے رویے بدلے جا سکتے ہیں۔یہ خدمت نہیں، یہ انسانیت ہے۔ یہ کسی تشہیری مہم کا حصہ نہیں، بلکہ خاموش جدوجہد ہے۔ یہاں نہ بینر لگتے ہیں، نہ طویل تقاریر ہوتی ہیں۔ یہاں بس ایک بچہ ہے، ایک بیگ خون ہے، اور ایک امید ہے کہ شاید اب کی بار زندگی کچھ آسان ہو جائے۔ یہی وہ منظر ہے جو دل کو چھوتا ہے اور قلم کو مجبور کرتا ہے کہ وہ تعریف کے چند لفظ ادا کرے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی کاوشوں کو صرف سراہا ہی نہ جائے بلکہ انہیں پھیلایا جائے۔ دوسرے اضلاع، دوسرے ادارے اور دیگر تنظیمیں بھی اگر اس ماڈل کو اپنائیں تو تھیلیسیمیا جیسے موذی مرض کے خلاف ایک مضبوط سماجی محاذ قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام حکومت اکیلے نہیں کر سکتی، یہ معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔پنجاب پولیس تحفظ مرکز اوکاڑہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور قیادت مخلص ہو تو وردی واقعی عوام کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ یہی وردی جب ایک معصوم کے لیے زندگی بن جائے، تو اس کا احترام خود بخود دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک مثال ہے، ایک راستہ ہے، اور ایک امید ہے۔ پنجاب پولیس عوام کے ساتھ ہے، اور جب بات انسانیت کی ہو، تو یہ ساتھ سب سے زیادہ مضبوط نظر آتا ہے٭

انچارج تحفظ مرکز اوکاڑہ پولیس اختر چودھری کی قیادت میں بلڈ ڈونیشن کیمپس لگا کر تھیلیسیمیا کے بچوں کے لیے زندگی کی نئی امید پیدا کی جا رہی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں