سانحہ اسلام آباد اور قومی رویہ

تحریر: عطیہ ربانی (بیلجیئم)
گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ایک امام بارگاہ اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے احاطے میں خود کش حملہ کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی۔ دو شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد مسجد کے ہال میں جا کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
حملہ آور کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے۔
ابتدائی فارنزک رپورٹ کے مطابق چار کلو وزنی بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔
پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اب تک 32 میتیں لائی جا چکی ہیں جن میں سے 27 ان کے لواحقین کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
105 زخمی ہیں۔ جن میں سے کئی زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
اس موقعے پر بسنت کے تہوار سے متعلق جشن معطل کر دئیے گئے ہیں۔
لبرٹی سکوائر پر ہونے والا میگا بسنت شو منسوخ کردیا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ لاہور کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
اس وقت بہت سے ناقدین حکومت پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ سکیورٹی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کے بارڈرز پر ہر طرف سے خطرات منڈلا رہے ہیں۔
انڈیا کسی بھی موقع کی تلاش میں ہے۔ ہندوستان کو اسرائیل کی مکمل حمایت اور مدد حاصل ہے۔
دوسری طرف افغانستان کو بھی پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے موقع کی تلاش رہتی ہے۔ اور اس سلسلے میں افغانستان کو انڈیا کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔
دیکھا جائے تو اس وقت مملکت خداداد، پاکستان ہر طرف سے ہی بیرونی دشمنوں سے نمٹ رہا ہے۔
اور یہ دشمن ملک کے اندر داخل ہو کر ایسی کارروائیاں کرنے سے باز نہیں رہتے جن میں بے شمار قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ بحیثیت ایک قوم ہم اپنے ملک اور اس کے محافظوں پر تنقید کے بجائے ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔
یہ بات سچ ہے کہ ہمارے ادارے عوام کے دلوں میں اپنا اعتماد بنانے میں ناکام ہیں۔ پولیس گردی ایک گلے سڑے زخم کی مانند اس ملک پر داغ ہے۔
مگر دوسری جانب ایسے اہلکار بھی ہیں جو جان پر کھیل کر حفاظت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ اور بات ہے کہ چند گندی مچھلیوں کی وجہ سے اس ادارے کی اچھائی پر پانی پھر جاتا ہے۔ ان افسران کی قربانی رائیگاں چلی جاتی ہے جنہیں قومی سطح پر سراہا جانا چاہیے۔ اس کے ذمہ دار اسی ادارے کے کرتا دھرتا ہی ہیں اور اس کے تدارک کے لیے حکام کو خود سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔
اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ پولیس کے محکمے کو سیاست سے پاک کیا جائے۔ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
تاکہ اس ادارے کی عزت و تکریم ویسے ہی ہو جیسی ہونی چاہیے۔
تمام تر پیچیدگیوں اور خامیوں سے قطعہ نظر، بحیثیت ایک پاکستانی ہمیں اپنے ملک، اپنی سکیورٹی فورسز اور اپنے اداروں کے ساتھ کھڑے رہنا ہے۔
کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ دشمن تو باہر کا ہی ہے۔
تو اپنوں پر تنقید کیسی؟
اللہ تبارک تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے، آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں