مصنف,وسعت اللہ خان عہدہ,صحافی، تجزیہ کار
سابق سینیٹر و وزیرِ اطلاعات مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ خان عبدالولی خان نے مجھے قصہ سنایا کہ جب اُنھوں نے ڈھاکہ کے ایوانِ صدر میں 22 یا 23 مارچ 1971 کو جنرل یحییٰ خان سے آخری ملاقات کی تو جنابِ صدر سلیپنگ گاؤن میں تھے۔ میں نے یحییٰ خان سے پوچھا کیا حل سوچا؟ انھوں نے بہت اطمینان سے کہا ’وی وِل شوٹ آور وے تھرو‘ ( ہم گولیوں سے اپنا راستہ بنا لیں گے)۔
نواب خیر بخش مری کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے میں نے بی بی سی اردو کے لیے اُن کا طویل انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال یہ بھی ہوا کہ آپ وفاق سے اتنے خفا کیوں رہتے ہیں؟ نواب صاحب نے منٹ بھر مُسکرانے کے بعد کہا ’ہم ناراض بالکل نہیں، ہم تو آپ سے اور آپ کے جھوٹ سے بیزار ہو چکے ہیں اور گلو خلاصی چاہتے ہیں۔‘
اہلِ اختیار اپنے تئیں مسلسل ثابت کرتے رہتے ہیں کہ وہ بلوچستان اور اس کی نفسیات سے کس قدر واقف بلکہ اس کے ماہر ہیں۔
مثلاً تین روز قبل وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اپنے دھواں دھار خطاب میں اعداد و شمار کے ذریعے ثابت کیا کہ ملک دشمن عناصر بلوچستان کی پسماندگی اور محرومی کے بیانیے کو نوجوانوں کو ورغلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔


