تحریر: مہرہمیش گل
خودکشی محض ایک فرد کی زندگی کے خاتمے کا نام نہیں ہے یہ ایک ایسا اجتماعی سانحہ ہے جو بیک وقت ایک گھر، ایک خاندان، ایک معاشرے اور بالآخر پورے سماجی ضمیر کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ ایک لمحے کا جذباتی فیصلہ برسوں کے رشتوں، امیدوں اور خوابوں کو دفن کر دیتا ہے۔ یہ المیہ صرف لاش نہیں چھوڑتا بلکہ سسکتے سوالات، عمر بھر کا پچھتاوا اور خاموش چیخیں چھوڑ جاتا ہے۔ اسی لیے خودکشی کو محض ایک ذاتی عمل سمجھنا درحقیقت اجتماعی بے حسی کی بدترین شکل ہے۔آج کے معاشرے میں یہ سوال پوری شدت سے سر اٹھا رہا ہے کہ آخر نوجوان خودکشی جیسے انتہائی قدم کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں؟ کیا زندگی ان کے لیے بے معنی ہو چکی ہے؟ کیا وہ مایوسی کی ایسی دلدل میں دھنس چکے ہیں جہاں سے انہیں کوئی ہاتھ تھامنے والا نظر نہیں آتا؟ یا پھر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سننا چھوڑ دیا ہے، سمجھنا چھوڑ دیا ہے، اور ساتھ چلنے کا حوصلہ کھو دیا ہے؟
خودکشی کے اسباب میں سب سے نمایاں ذہنی اور نفسیاتی دباؤ ہے۔ ڈپریشن، اضطراب، شدید ذہنی تناؤ اور مستقل بے سکونی انسان کی سوچ کو اس حد تک مفلوج کر دیتے ہیں کہ وہ خود کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ زندگی اسے ایک ایسی گلی محسوس ہوتی ہے جس کے دونوں سروں پر اندھیرا ہو۔ اس مرحلے پر انسان اندر ہی اندر مرنے لگتا ہے مگر اس کی یہ خاموش موت کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔ وہ تکلیف جو بیان نہ کی جا سکے، وہ درد جو لفظوں کا لباس نہ پہن سکے، آہستہ آہستہ انسان کو خود سے بھی دور کر دیتا ہے۔یہ وہ نازک مرحلہ ہوتا ہے جہاں ایک بات، ایک توجہ، ایک سچا کان، زندگی بچا سکتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر قید ہو کر مرنے کی بجائے کسی قریبی دوست، کسی قابلِ اعتماد رشتے یا خاندان کے کسی فرد سے بات کرے۔ مسئلے کا حل ہمیشہ فوری نہیں ملتا مگر بات کرنے سے اندھیرا کچھ ہلکا ضرور ہو جاتا ہے۔ نوجوان کو یہ احساس دلانا ناگزیر ہے کہ وہ غیر ضروری نہیں۔ وہ کسی گھر کا چراغ ہے جس کی روشنی سے کئی زندگیاں روشن ہیں۔یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ خودکشی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ یہ مسئلوں کو ختم نہیں کرتی بلکہ انہیں نسلوں تک منتقل کر دیتی ہے۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کے جانے سے سب آسان ہو جائے گا وہ یہ نہیں دیکھ پاتا کہ اس کے بعد جینے والے کس اذیت سے گزریں گے۔
تنہائی اور سماجی لاتعلقی بھی اس المیے کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آج رابطوں کے ذرائع تو بے شمار ہیں مگر دلوں کے فاصلے بڑھ چکے ہیں۔ ماضی میں وسائل کم تھے مگر رشتے مضبوط تھے۔ آج ہم ایک دوسرے کے قریب ہو کر بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ یہی جذباتی خلا نوجوان کو اس کنویں کی طرف دھکیل دیتا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔گھریلو ماحول بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ معمولی باتوں پر جھگڑے، تلخ رویے، عدم توجہ اور محبت کی کمی بچوں اور نوجوانوں کی شخصیت پر گہرے زخم چھوڑتی ہے۔ بعض اوقات محبت میں ناکامی، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور ازدواجی مسائل انسان کی روح تک کو زخمی کر دیتے ہیں۔ احساسِ کمتری جنم لیتا ہے اور انسان خود کو بے وقعت سمجھنے لگتا ہے۔معاشی دباؤ اس آگ پر تیل کا کام کرتا ہے۔ غربت، بے روزگاری، قرض اور مسلسل ناکامی خود اعتمادی کو کھا جاتی ہے۔ جب ایک ذمہ دار انسان کو ہر سمت اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دے، جب مستقبل ایک بند دروازہ محسوس ہو تو مایوسی ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتی ہے۔ اس کیفیت میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے اور منفی خیالات ذہن پر پہرہ بٹھا لیتے ہیں۔
بعض اوقات طویل بیماری، مسلسل درد اور لاعلاج تکالیف بھی انسان کو اس نہج تک پہنچا دیتی ہیں جہاں زندگی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں حوصلہ ٹوٹتا ہے اور امید دم توڑنے لگتی ہے۔ اسی طرح منشیات اور نشے کا بڑھتا ہوا رجحان بھی نوجوانوں کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ نشہ صرف ایک فرد کو نہیں مارتا، یہ پورے خاندان کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے اور خودکشی کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کا ماضی ہوتا ہے اور ہر ماضی میں زخم ہوتے ہیں۔ کچھ زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان زخموں کا واحد مرہم صبر، حوصلہ اور امید ہے اور یہ وہ نعمتیں ہیں جو اللہ رب العالمین اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات میں خودکشی کو سختی سے حرام قرار دیا گیا ہیکیونکہ زندگی انسان کی ملکیت نہیں ہے۔یہ اللہ کی امانت ہے۔ جب زندگی ایک نعمت ہے تو پھر اسے خود اپنے ہاتھوں سے کیوں چھینا جائے؟ اصل سوال یہ نہیں کہ نوجوان کیوں مرنا چاہتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ ہم انہیں جینے کی وجہ کیوں نہیں دے پا رہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خودکشی جیسے خیالات کو خاموشی سے پنپنے نہ دیں۔ بات کریں، سنیں، سمجھیں، اور ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ زندگی مسائل کے باوجود خوبصورت ہے۔بس اسے جینے کا ہنر سیکھنے اور سکھانے کی ضرورت ہے

