کوئٹہ (این این آئی)امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان کے حقوق کے حصول،بارڈرزکھولنے،روزگار،لاپتہ افرادکی بازیابی،تعلیم،امن،ترقی کیلئے اوربدامنی،ظلم وجبر،لاقانونیت،طاقت کے استعمال کے خلاف ”حق دوبلوچستان مہم” کوتیز ومزیدمنظم کریں گے،الخدمت فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں،جماعت اسلامی کے دعوتی تنظیمی،پارلیمانی شعبوں کومزیدفعال کیاجائیگا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں صوبائی ذمہ داران ماہانہ تنظیمی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں نائب امراء پارلیمانی سیکرٹری انجینئر عبدالمجید بادینی، زاہداختربلوچ،بشیراحمدماندائی،ڈاکٹرعطاء الرحمان، مولاناعبدالکبیرشاکر،حافظ نورعلی،پروفیسرمولانامحمدایوب منصور،مولانامحمدعارف دمڑ،صوبائی سیکرٹری جنرل مرتضی خان کاکڑ ڈپٹی جنرل سیکرٹریز نورالدین غلزئی، صابرصالح پانیزئی،لعل بخش کھوسہ،محمدیوسف منگریو،الخدمت فاؤنڈیشن بلوچستان کے صدرعبدالمجید سربازی جماعت اسلامی بلوچستان کے فینانس سیکرٹری سلطان محمد محنتی،میڈیاانچارج عبدالولی خان شاکر،سوشل میڈیا کے روح اللہ سالار،ڈائریکٹربنوقابل طیب فرید خان،امیرجماعت اسلامی ضلع کوئٹہ عبدالنعیم رند،ناظم شعبہ اطفال احمد شاہ غازی شریک تھے۔اجلاس میں سابقہ کاروائی،فیصلوں پرعمل درآمد،آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت وفیصلے کیے گئے۔اجلاس میں اب تک کی جماعت اسلامی، الخدمت فاونڈیشن،اداروں،بنوقابل کی مجموعی تنظیمی رپورٹ صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ،عبدالمجیدسربازی،طیب فرید نے پیش کیاجبکہ صوبائی نائب امراء نے اپنے ذاتی و زون کی رپورٹ پیش کیے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ذمہ داران نے کہاکہ بلوچستان بدامنی اور شورش کاشکارہرطرف خوف ودہشت،سیکورٹی ادارے وحکومت ناکام ہیں۔دہشت گردی، لاپتہ افراد، اور ریاستی و عوامی عدم اعتمادہے۔ان مسائل کے حل کیلئے وفاق وصوبے کی سطح پرسنجیدگی سیسیاسی مکالمہ، مصالحتی عمل، قانون کی بالادستی،اور مقامی لوگوں کے روزگار،امن،بارڈرزکی تجارت کھولنے کیلئے عملی وفوری اقدامات اٹھانے چاہیے۔بلوچستان وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود مقامی آبادی روزگار،تعلیم اورعلاج کی سہولت سے محروم ہیں۔ معدنیات اور سی پیک جیسے منصوبوں میں مقامی لوگوں کو روزگار اور منافع میں حصہ دیاجائے ثمرات مقامی وبلوچستان کے عوام کودیے جائے۔فنی تربیت کے مراکز قائم کیے جائے۔ناخواندگی ختم کیلئے بھی مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہے۔بلوچستان کے عوام کوصحت وعلاج کی سہولیات وضروریات میسرنہیں۔دوردرازعلاقوں کے عوام قلت آب کاشکارہیں۔ڈیموں کی تعمیر،بارش کے پانی کو محفوظ اور جدید آبپاشی نظام پرتوجہ دی جائے۔سڑکیں، بجلی اور گیس کی ناکافی فراہمی سے بھی ہرفردمتاظرہیں۔بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی استحکام، منصفانہ وسائل کی تقسیم،اور تعلیم و روزگار کے مواقع بڑھائے جائے۔

