امریکہ کے محکمہ خارجہ نے افغانستان کو ’ناجائز حراست‘ کی پست پناہی کرنے والا ملک قرار دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے ایک الگ بیان میں طالبان حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ’یرغمالی سفارت کاری‘ میں ملوث ہے۔
محکمہ خارجہ کی طرف سے یہ فیصلہ پیر کو کیا گیا جس کے تحت افغانستان اُن ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جنہیں امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں اس بنیاد پر نشانہ بنایا کہ وہ امریکی شہریوں کو گرفتار کر کے پالیسی رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام افغانستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا تاکہ وہ امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے یا غیر منصفانہ طور پر حراست میں لینے کی پالیسی ترک کریں، بصورتِ دیگر انہیں مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان ’دہشت گردانہ ہتھکنڈے‘ استعمال کرتے ہوئے افراد کو تاوان یا پالیسی رعایتیں حاصل کرنے کے لیے اغوا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ قابلِ مذمت ہتھکنڈے فوری طور پر ختم ہونے چاہئیں۔ طالبان کی جانب سے امریکی شہریوں اور دیگر غیر ملکیوں کو غیر منصفانہ طور پر حراست میں لینے کی وجہ سے افغانستان کا سفر امریکیوں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔‘
روبیو نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان امریکی شہریوں کو رہا کریں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ان کی تحویل میں ہیں۔ ان میں محقق ڈینس کوئیل شامل ہیں، جو جنوری 2025 سے افغانستان میں زیرِ حراست ہیں، جبکہ افغان نژاد امریکی تاجر محمود حبیبی بھی شامل ہیں جو 2022 میں لاپتہ ہو گئے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حبیبی کابل میں ایک ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کے ٹھیکیدار کے طور پر کام کرتے تھے۔ ایف بی آئی اور ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان نے حراست میں لیا، تاہم طالبان اس بات کی تردید کرتے ہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں طالبان قیادت پر ’یرغمالی سفارت کاری‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ امریکیوں کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان نیک نیتی سے کام نہیں کر رہے۔
والٹز نے افغانستان کے لیے طلب کیے جانے والے ایک ارب ڈالر کی انسانی امداد پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت افغان خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے۔
والٹز نے کہا کہ ’اگرچہ امریکہ دوحہ عمل اور اس کے ورکنگ گروپس میں شرکت جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن ہمیں طالبان کے ارادوں پر شک ہے۔ ہم ایسے گروہ کے ساتھ اعتماد قائم نہیں کر سکتے جو بے گناہ امریکیوں کو حراست میں رکھے اور افغان عوام کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کرے۔‘

