لائیو: عراق میں تباہ ہونے والے طیارے میں عملے کے 6 ارکان مارے گئے، سینٹ کام

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 14ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس


13ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں


رات 9 بج کر 15 منٹ: میری خواہش ہے کہ پیراماؤنٹ پکچرز سی این این کو خرید لے، امریکی وزیر دفاع

امریکہ کی وزارت دفاع پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے امریکی نیوز میڈیا کی جنگ کی کوریج پر تنقید کرتے ہوئے جمعے کو کہا کہ وہ ٹرمپ کے اتحادی اور پیراماؤنٹ سکائی ڈانس کے سی ای او ڈیوڈ ایلیسن کو سی این این سنبھالتے ہوئے دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔

فاکس نیوز شو کے ایک سابق میزبان اور جنگی تجربہ کار پیٹ ہیگستھ نے پیراماؤنٹ کی جانب سے سی این این کی کمپنی وارنر برادرز کو خریدنے کے لیے 110 ارب ڈالر کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جتنی جلدی ڈیوڈ ایلیسن اس نیٹ ورک کو سنبھالیں گے، اتنا ہی بہتر ہے۔‘


رات 8 بج کر 15 منٹ: عراق میں تباہ ہونے والے امریکی طیارے میں 6 اموات کی تصدیق، سینٹ کام

امریکی فوج نے جمعے کی رات تصدیق کی ہے کہ عراق میں ایندھن بھرنے والے کے سی 135 طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے واقعے میں عملے کے چھ کے چھ ارکان جان سے چلے گئے ہیں۔

اس سے قبل سینٹ کام نے چھ میں سے چار ارکان کی موت کی تصدیق کی تھی۔

تاہم بعدازا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ مٰن سینٹ کام نے کہا کہ ’عراق میں امریکی KC-135 کے عملے کے تمام ارکان کی موت کی تصدیق کی جاتی ہے۔‘

پوسٹ میں کہا گیا کہ مغربی عراق میں گرنے والے امریکی KC-135 ایندھن بھرنے والے طیارے میں سوار عملے کے تمام چھ ارکان کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ یہ طیارہ 12 مارچ کو آپریشن ایپک فیوری کے دوران دوستانہ فضائی حدود پر پرواز کرتے ہوئے گم ہو گیا تھا۔

’واقعے کے حالات کی تفتیش جاری ہے۔ تاہم طیارے کا نقصان دشمن کی آگ یا فرینڈلی فائر کی وجہ سے نہیں ہوا۔‘


رات 7 بج کر 50 منٹ: ایرانی حکومت جلد نہیں گرے گی، صدر ٹرمپ 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں کے بعد ایرانی عوام اپنی حکومت کی جگہ لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے، تاہم انہوں نے جمعے کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ فوری طور پر نہیں ہو سکتا۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز ریڈیو کو بتایا کہ ’میں واقعی میں سوچتا ہوں کہ یہ ان لوگوں کے لیے چڑھنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے جن کے پاس ہتھیار نہیں ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے… یہ ہو جائے گا، لیکن شاید یہ ہو گا، شاید فوری طور پر نہیں۔‘


شام ساڑھے پانچ بجے: آج ایران پر سب سے زیادہ حملے ہوں گے، امریکی وزیر دفاع

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ جمعہ (آج) ایرانی اہداف کے خلاف امریکی حملوں کی اب تک کی سب سے زیادہ تعداد دیکھے گا۔

اس سے قبل امریکی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران میں اب تک 15000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ 

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا ایک نیوز کانفرنس میں کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ ماہ کے آخر میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک 15,000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔

ابنہوں نے کہا کہ ’ہماری فضائیہ اور اسرائیلیوں کے درمیان، دشمن کے 15,000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ایک دن میں 1,000 سے زیادہ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’آج اس مہم میں سب سے زیادہ حملے ہوں گے۔‘


شام 5 بجے: ایران کا اسرائیل پر میزائلوں سے تازہ حملہ، سرکاری ٹی وی

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ نے جمعے کو اسرائیل پر میزائلوں کا ایک تازہ حملہ کیا ہے۔

تفصیلات فراہم کیے بغیر سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا ’مقبوضہ علاقوں پر ایرانی میزائل حملوں کی ایک نئی لہر کے آغاز۔‘ 

ایران پر پر امریکی اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آج 14 ویں دن ہے۔


سہ پہر 4 بجے: لبنانی گاؤں پر اسرائیلی حملے میں 8 اموات، وزارت صحت

لبنانی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ جمعے کو ایک اسرائیلی حملے میں ملک کے جنوبی گاؤں سیڈون کے قریب بندرگاہی شہر میں آٹھ افراد جان سے چلے گئے ہیں، جبکہ مزید نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جائے وقوعہ پر موجود اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے پیرامیڈیکس کو گاؤں میں لوگوں کو نشانہ بنائی گئی عمارت سے نکالتے دیکھا۔ یہ عمارت ایک کمپلیکس کا حصہ ہے، جس کے زیادہ تر رہائشی فلسطینی ہیں۔


3 بج کر 30 منٹ: کابل پر فضائی حملے میں 4 شہریوں کی موت اور 14 زخمی، اقوام متحدہ

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے گذشتہ رات افغان دارالحکومت کابل کے علاقے پل چرخی میں فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم چار شہریوں کے جان سے جانے اور خواتین اور بچوں سمیت 14 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔  

یوناما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہم شہری جانوں کے مزید نقصان کو روکنے کے لیے دشمنی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔‘


دوپہر 2 بج کر 45 منٹ: عراق میں تباہ ہونے والے طیارے میں 4 اموات، سینٹ کام

امریکی فوج نے جمعے کو بتایا کہ جنوبی عراق میں ایندھن بھرنے والے کے سی 135 طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے واقعے میں عملے کے چار افراد جان سے چلے گئے ہیں۔ 

سینٹ کام کے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں تباہ ہونے والے طیارے میں سوار عملے کے چھ ارکان میں سے چار کی مارے جانے کی تصدیق کی۔

پوسٹ میں نکہا گیا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ واقعے کے حالات کی تفتیش جاری ہے۔ 

سینٹ کام نے مزید کہا کہ واقعے میں مارے جانے والے فوجیوں کے رشتہ داروں کو مطلع کرنے کے بعد 24 گھنٹوں تک سروس کے ارکان کی شناخت کو روک دیا جاتا ہے۔

امریکی فوج نے کہا تھا کہ فضا میں طیاروں میں ایندھن بھرنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک امریکی کے سی 135 طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا جب کہ دوسرا طیارہ بحفاظت زمین پر اتر گیا۔

 

 

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی ذمے دار ہے، ایک بیان میں کہا ’ایک طیارہ مغربی عراق میں گر گیا جبکہ دوسرا بحفاظت اتر گیا۔ یہ نہ دشمن کی فائرنگ کی وجہ سے ہوا اور نہ ہی اپنی فورسز کی فائرنگ کی وجہ سے۔‘


دن 1 بج کر 36 منٹ: دبئی میں دھماکے، عمارتیں لرز اٹھیں

 

اے ایف پی کے نمائندوں کے مطابق جمعے کو دبئی میں دھماکوں سے عمارتیں لرز اٹھیں، جب کہ مالیاتی مرکز کے وسطی علاقے کے اوپر دھویں کا ایک بڑا بادل چھایا رہا۔

متحدہ عرب امارات کے اس شہر کی مرکزی شاہراہ شیخ زاید روڈ کی سمت سے سائرن کی آوازیں سنی گئیں۔


دن 12 بجے: عمان میں ڈرون مار گرایا گیا، دو اموات

اے ایف پی نے عمان کے ریاستی میڈیا کے حوالے سے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ شمالی عمان میں سکیورٹی فورسز نے ڈرون مار گرایا تاہم اس دوران دو لوگ جان سے گئے۔

عمان نیوز ایجنسی نے کہا کہ العواہی کے صنعتی علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے میں جان سے جانے والے دونوں افراد غیر ملکی تھے۔ واقعے میں کچھ اور لوگ بھی زخمی ہوئے۔


صبح 11 بج کر 50 منٹ: ریاض کے سفارتی علاقے کے قریب ڈرون مار گرایا: سعودی وزارت دفاع

سعودی وزارت دفاع نے جمعے کو کہا ہے کہ فورسز نے ریاض کے سفارتی علاقے کو نشانہ بنانے والے ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔

وزارت دفاع نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ اس ’دشمن ڈرون‘ کو ’سفارتی علاقے کے قریب آنے کی کوشش کے دوران‘ مار گرایا گیا۔ وزارت نے کہا کہ اسی وقت کے آس پاس سعودی عرب کے دوسرے علاقوں میں مزید تین ڈرون بھی مار گرائے گئے۔


صبح 11 بج کر 40 منٹ: نئے ایرانی سپریم لیڈر زندہ لیکن انہیں نقصان پہنچا ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں لیکن انہیں ’نقصان‘ پہنچا ہے۔

روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے فاکس نیوز کے پروگرام ’دا برائن کلمیڈ شو‘ کے دوران کہا، ’میرا خیال ہے کہ وہ غالباً زندہ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ انہیں نقصان پہنچا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ وہ غالباً کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہیں، آپ سمجھ رہے ہیں۔‘


صبح 11 بج کر سات منٹ: ترکی میں نیٹو اڈے پر سائرن سنے گئے

اے ایف پی کے مطابق ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق جمعے کو علی الصبح ترکی کے انجرلک فضائی اڈے پر سائرن سنائی دیے۔ یہ نیٹو کی ایک اہم تنصیب ہے، جہاں جنوب مشرقی شہر ادانا کے قریب امریکی فوجی تعینات ہیں۔

اس واقعے پر فوری طور پر کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا، جو نیٹو کے فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود میں ایران سے داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو مار گرانے کے چار دن بعد پیش آیا۔ یہ پانچ دن میں اس طرح کا دوسرا واقعہ تھا۔

بزنس نیوز ویب سائٹ اکونومم کے مطابق کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر آسمان میں اڑتی ہوئی ایک چمکدار چیز کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو پوسٹ کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک میزائل ہو سکتا ہے جو ایئربیس کی طرف جا رہا تھا۔

پورے شہر میں فائر بریگیڈ اور سکیورٹی فورسز کے سائرن کافی دیر تک سنے جا سکتے تھے۔


صبح 11 بجے: 200 ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا: اسرائیلی فوج

اسرائیل کی فوج نے جمعے کو کہا کہ اس نے گذشتہ ایک دن کے دوران مغربی اور وسطی ایران میں 200 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جن میں میزائل لانچر اور دفاعی نظام شامل تھے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ جنگی طیاروں نے ’20 بڑے پیمانے کے حملے‘ کیے، جن میں ’بیلسٹک میزائل لانچر، دفاعی نظام اور ہتھیار بنانے کے مقامات‘ کو نشانہ بنایا گیا۔


صبح نو بج کر 15 منٹ: امریکہ کے ایران میں چھ ہزار اہداف پر حملے

امریکی سینٹرل کمانڈ کے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق امریکی افواج نے آپریشن ایپک فیوری کے دوران ایران میں 6000 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اس میں تقریباً 60 بحری جہاز اور 30 ​​بارودی سرنگیں شامل تھیں جنہیں امریکی حکام کے مطابق نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا۔

دیگر اہداف میں ایران میں کمانڈ سینٹرز، ہتھیاروں کی تیاری کی سہولیات، بیلسٹک میزائل سائٹس، آبدوزیں اور فضائی دفاعی نظام شامل تھے۔

امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ امریکی فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ امریکی افواج نے امریکہ اسرائیل مشترکہ آپریشنز کے آغاز پر نادانستہ طور پر ایران میں ایک سکول کو فضائی حملوں کے دوران نشانہ بنایا ہو گا، لیکن وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔


صبح آٹھ بج کر 50 منٹ: ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین کے ساتھ جھڑپ

اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل کے اجلاس میں، جس کی صدارت اس ماہ امریکہ کر رہا ہے، روس اور چین نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی اور عمل درآمد کے لیے قائم کمیٹی پر بحث رکوانے کی ناکام کوشش کی۔

 

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دو ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جب کہ روس اور چین کی کوشش دو کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی۔

 

اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے مائیک والٹز نے ماسکو اور بیجنگ پر الزام لگایا کہ وہ نام نہاد 1737 کمیٹی کا کام روک کر تہران کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ چین اور روس دونوں نہیں چاہتے کہ پابندیوں والی کمیٹی فعال رہے’کیوں کہ وہ اپنے ساتھی ایران کو بچانا چاہتے ہیں۔‘

 

اقوام متحدہ میں روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ’ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے مبینہ منصوبوں کے حوالے سے خوف و ہراس‘ پھیلا رہے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ جوہری سرگرمیوں کے نگران عالمی ادارے نے ان مبینہ ایرانی منصوبوں کی کبھی تصدیق نہیں کی۔

 

چین کے نمائندے فو کانگ نے واشنگٹن کو ایرانی ایٹمی بحران کا ’محرک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ’مذاکرات کے عمل کے دوران ایران کے خلاف طاقت کے کھلے استعمال کا سہارا لیا، جس سے سفارتی کوششیں رائیگاں چلی گئیں۔‘

 

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ’ہمیشہ سے مکمل طور پر پرامن رہا ہے‘ اور تہران اپنے خلاف پابندیاں نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کو تسلیم نہیں کرے گا۔


صبح آٹھ بج کر پانچ منٹ: امریکی طیارہ عراق میں گر کر تباہ

امریکی فوج نے جمعرات کو کہا کہ فضا میں طیاروں میں ایندھن بھرنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک امریکی کے سی 135 طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا جب کہ دوسرا طیارہ بحفاظت زمین پر اتر گیا۔

 

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی ذمے دار ہے، ایک بیان میں کہا ’ایک طیارہ مغربی عراق میں گر گیا جبکہ دوسرا بحفاظت اتر گیا۔ یہ نہ دشمن کی فائرنگ کی وجہ سے ہوا اور نہ ہی اپنی فورسز کی فائرنگ کی وجہ سے۔‘

 

تاہم ایران کی فوج نے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ عراق میں ایک اتحادی گروپ نے میزائل سے یہ طیارہ مار گرایا، جس میں اس کے تمام عملے کے ارکان مارے گئے۔ اے ایف پی


صبح سات بج کر 30 منٹ: سعودی حدود میں 28 ڈرون تباہ

سعودی وزارت دفاع نے جمعے کو بتایا کہ سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے درجنوں ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

 

وزارت کے ایک ترجمان نے ایکس پر پوسٹ کیا ’سعودی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد 12 ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘

 

قبل ازیں حکام نے کم از کم 16 مزید ڈرونز مار گرانے کی بھی اطلاع دی تھی۔


صبح سات بجے: عراق میں حملے کے دوران فرانسیسی فوجی کی موت

فرانس کے صدر ایمانویل میکروں نے جمعے کو کہا کہ عراق کے خودمختار کردستان خطے میں کیے گئے حملے میں ایک فرانسیسی فوجی جان سے گیا۔

اس طرح فرانسیسی صدر نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فرانسیسی فوج کی پہلی موت کی تصدیق کی۔


صبح چھ بج کر 45 منٹ: ایران کے اسرائیل پر حملوں کی نئی لہر

اسرائیل نے جمعے کو کہا کہ ایران نے اسرائیل کی طرف میزائلوں کی کئی لہریں داغیں۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق ملک کے شمال میں دو افراد زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے اپنے سرکاری ٹیلی گرام چینل پر لکھا، ’کچھ دیر پہلے آئی ڈی ایف نے ایران سے ریاست اسرائیل کے علاقے کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی ہے۔ خطرے کو روکنے کے لیے دفاعی نظام کام کر رہے ہیں۔‘


صبح چھ بج کر 40 منٹ: امریکہ کی روس کو تیل فروخت کرنے کی اجازت

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ نے کئی ممالک کو ممنوعہ روسی تیل اور پیٹرولیم خریدنے کی اجازت دے دی ہے جو اس وقت سمندر میں بحری جہازوں پر لدا ہوا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ کے دوران ’انرجی کی عالمی منڈیوں میں استحکام کو فروغ دینے‘ کے لیے ایک عارضی اقدام ہے۔ یہ اجازت 11 اپریل تک رہے گی۔

بیسنٹ نے کہا ’یہ ایک مختصر طور پر تیار کیا گیا عارضی اقدام ہے جو صرف پہلے سے ٹرانزٹ میں موجود تیل پر لاگو ہوتا ہے اور اس سے روسی حکومت کو کوئی خاص مالی فائدہ نہیں ملے گا۔‘

جمعرات کو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر واپس آگئیں اور خلیج میں مزید تین ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سٹاک مارکیٹ گر گئی۔

بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ اور عارضی رکاوٹ ہے جس کا طویل مدت میں ہماری معیشت کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔‘

اس سے پہلے بیسنٹ نے کہا تھا کہ امریکی حکومت آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی حفاظت ’جلد فوجی طور پر‘ شروع کر دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں