امریکی، اسرائیلی اقتصادی اور بینکنگ مفادات کو نشانہ بنائیں گے: ایران

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 12ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔


11ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں


رات 8 بج کر 32 منٹ: ایران اور غزہ جارحیت پر اختلافات: سپین کا اسرائیل سے سفیر مستقل طور پر واپس بلانے کا اعلان

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مخالفت اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد سپین اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔

سپین نے منگل کو اسرائیل سے اپنا سفیر مستقل طور پر واپس بلانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

سپین کے سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق، تل ابیب میں متعین ہسپانوی سفیر کی خدمات ختم کر دی گئی ہیں۔

سپین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں اسرائیل میں ہسپانوی سفارت خانے کے معاملات اب ناظم الامور (Charge d’affaires) سنبھالیں گے۔

اس سفارتی بحران کی اہم وجوہات یہ ہیں:

ایران پر حملوں کی مخالفت: سپین نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فوجی حملوں کی سخت مخالفت کی ہے، جس نے دونوں ملکوں کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر دیا ہے۔

اسلحہ کی ترسیل پر پابندی: گزشتہ سال ستمبر میں سپین نے ان تمام طیاروں اور بحری جہازوں کے لیے اپنی حدود اور بندرگاہیں بند کر دی تھیں جو اسرائیل کے لیے اسلحہ لے کر جا رہے تھے۔

فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا: مئی 2025 میں سپین کی جانب سے فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کیے جانے پر اسرائیل نے احتجاجاً اپنا سفیر پہلے ہی واپس بلا لیا تھا۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے آغاز سے ہی سپین اور اسرائیل کے تعلقات تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ سپین یورپی یونین کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو اسرائیل کی فوجی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔


شام 7 بج کر 15 منٹ پر: مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے، ایرانی سفیر

قبرص میں ایران کے سفیر نے تصدیق کی ہے کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو ہونے والے حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد سمیت خاندان کے چھ افراد جان سے چلے گئے تھے۔  

دارالحکومت نکوسیا میں اپنے سفارت خانے کے احاطے میں برطانوی اخبار دا گارڈین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی سفیر علی رضا سالاریان نے ان حالات کی وضاحت کی جن میں 56 سالہ خامنہ ای زخمی ہوئے اور کہا کہ ان کا اس حملے سے بچنا خوش قسمتی تھی، جس  نے مرحوم آیت اللہ کی رہائش گاہ کو منہدم کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ بھی وہاں تھے اور وہ اس بمباری میں زخمی ہوئے تھے لیکن میں نے اس کا ذکر غیر ملکی خبروں میں نہیں دیکھا۔

’میں نے سنا ہے کہ ان کی ٹانگوں اور ہاتھ اور بازو میں چوٹ لگی ہے… مجھے لگتا ہے کہ وہ ہسپتال میں ہے کیونکہ وہ زخمی ہے۔‘

یہ بتاتے ہوئے کہ اتوار کو اپنے والد کی جگہ لینے کے بعد سے کیوں مجتبیٰ عوام کے سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی بیان دیا، انہقں نے مزید کہا: ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ تقریر کرنے کے قابل ہیں۔‘

یہ حملہ امریکی قیادت میں ایران کے خلاف فضائی حملوں کے پہلے دن ہوا تھا، جب تہران کے وسط میں وسیع و عریض صدارتی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ اپنی رہائش گاہ پر تھے، جن میں مجتبیٰ کی اہلیہ زہرہ بھی شامل تھیں، جو اس حملے میں جان سے چلی گئی تھیں۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای کی اہلیہ منصور کی فضائی حملے کے تین دن بعد موت ہو گئی۔


شام 5 بج کر 15 منٹ: امریکی، اسرائیلی اقتصادی اور بینکنگ مفادات کو نشانہ بنائیں گے، ایران

تہران میں ایک بینک کی عمارت پر حملے کے بعد ایران نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل سے منسلک اقتصادی اور بینکنگ مفادات کو نشانہ بنائے گا۔

نیم سرکاری مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، تہران میں ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینکوں میں سے ایک اور فوج سے تاریخی روابط رکھنے والے بینک سپاہ سے منسلک ایک انتظامی عمارت کو راتوں رات نشانہ بنایا گیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے تہران کے خاتم الانبیا ملٹری کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’اپنی ناکام مہم کے بعد، دہشت گرد امریکی فوج اور ظالم صہیونی حکومت (اسرائیل) نے ملک کے ایک بینک کو نشانہ بنایا ہے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ اس ناجائز اور غیر معمولی اقدام سے دشمن ہمارے ہاتھ خطے میں امریکہ اور صیہونی حکومت سے منسلک اقتصادی مراکز اور بینکوں کو نشانہ بنانے پر مجبور کر رہا ہے۔

ترجمان نے علاقے کے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ بینکوں سے 1000 میٹر دور رہیں۔


شام 4 بجے:  ایران سے روسی جوہری کارپوریشن ’روس اٹوم‘ کے عملے کا انخلا جاری، 450 اہلکار تاحال موجود

روس کی سرکاری جوہری کارپوریشن روس اٹوم امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں کے باعث ایران سے اپنے عملے کا انخلا جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم کمپنی کے سربراہ کے مطابق اس کے تقریباً 450 اہلکار اب بھی بوشہر جوہری بجلی گھر میں موجود ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس اٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے بدھ کو کہا کہ مزید 150 ملازمین رات کو بوشہر سے روانہ ہوئے، ہمسایہ ملک آرمینیا کی سرحد عبور کی اور اب روس کی جانب جا رہے ہیں۔

بوشہر، جسے روس نے تعمیر کیا تھا، ایران کا واحد فعال جوہری بجلی گھر ہے۔ روس اٹوم وہاں مزید دو یونٹس بھی تعمیر کر رہا ہے، تاہم لیخاچیف نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ تعمیراتی کام روک دیا گیا ہے۔

پیر کے روز انہوں نے کہا کہ بوشہر کے اردگرد صورت حال بدستور کشیدہ ہے، لیکن نہ تو بجلی گھر اور نہ ہی تعمیراتی مقام پر کوئی حملہ ہوا ہے۔


سہ پہر 3 بجے: آبنائے ہرمز میں حملے کا نشانہ بننے والے جہاز کے عملے کے تین ارکان لاپتہ: تھائی لینڈ

تھائی لینڈ کی وزارت ٹرانسپورٹ نے بدھ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں نامعلوم پروجیکٹائل کا نشانہ بننے والے ایک تھائی جہاز کے عملے کے 20 ارکان کو بچا لیا گیا ہے، تاہم تین اہلکار تاحال لاپتہ ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت نے بتایا کہ عملے نے لائف بوٹ کے ذریعے جہاز چھوڑ دیا تھا اور انہیں عمانی بحریہ نے بچا لیا۔

 بیان میں کہا گیا کہ جہاز کے پچھلے حصے میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں انجن کے حصے میں آگ لگ گئی، جہاں باقی تین عملے کے ارکان کام کر رہے تھے۔


دوپہر 2 بج کر 30 منٹ: ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ خطرناک رجحان: وزیراعظم اٹلی

اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے بدھ کے روز ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ پر اب تک کی اپنی سب سے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے مداخلتوں کے اس بڑھتے ہوئے اور خطرناک رجحان کا حصہ قرار دیا جو ’بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار سے باہر‘ ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پارلیمان میں ان کے یہ ریمارکس اس کے بعد سامنے آئے جب اپوزیشن نے بار بار الزام لگایا کہ ان کی دائیں بازو کی حکومت اپنے اتحادیوں کے معاملے میں حد سے زیادہ نرم رویہ اختیار کر رہی ہے۔

سپین کے علاوہ بیشتر یورپی ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر براہِ راست تنقید سے گریز کیا ہے اور زیادہ تر صرف تحمل کی اپیل کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والی میلونی نے یہ بھی کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، کیونکہ اس سے عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کا خاتمہ ہو جائے گا جس کے ’عالمی سلامتی پر سنگین اثرات‘ پڑیں گے اور اٹلی و یورپ کو تہران کی جانب سے ممکنہ جوہری خطرے کے سامنے لا کھڑا کریں گے۔


دوپہر 1 بج کر 47 منٹ: ایران کا تیل کے انفراسٹرکچر پر دباؤ برقرار، عالمی توانائی بحران کے خدشات میں اضافہ

ایران اور اسرائیل نے بدھ کی صبح ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں جبکہ ایران نے خطے کی تیل کی صنعت پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے تیل کے بنیادی ڈھانچے اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔

ان تازہ حملوں اور ایرانی دباؤ کے باعث عالمی توانائی بحران کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب ایک پروجیکٹائل کنٹینر بردار جہاز سے ٹکرایا جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔

دوسری جانب کویت نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے آٹھ ڈرونز مار گرائے، جبکہ سعودی عرب نے بتایا کہ اس نے بھی آئل فیلڈ کی جانب آنے والے پانچ ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔

ادھراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کو جی سی سی کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد پر ووٹنگ ہونا تھی جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے عرب ہمسایہ ممالک پر حملے بند کرے۔

اسرائیل نے بھی اعلان کیا کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران پر حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ منگل کو ہونے والے متعدد حملوں کو رہائشیوں نے جنگ کے دوران اب تک کے شدید ترین حملوں میں شمار کیا گیا ہے۔

اسی دوران بیروت اور جنوبی لبنان میں اسرائیل نے نئی فضائی بمباری بھی شروع کر دی ہے۔


دوپہر ایک بج کر 30 منٹ: مشرق وسطیٰ میں بینک اور مالیاتی ادارے اب ہدف ہیں، ایران فوجی کمان

ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بینک اور مالیاتی ادارے اب ممکنہ اہداف ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان اہداف کی نشاندہی کی ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ تہران میں ایک بینک کے عملے کے افراد اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں میں مارے گئے۔

اس دھمکی کے بعد متحدہ عرب امارات خاص طور پر دبئی خطرے میں آ سکتا ہے، جہاں متعدد بین الاقوامی مالیاتی ادارے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور خلیج میں واقع جزیرہ نما مملکت بحرین بھی ممکنہ طور پر خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔


دوپہر ایک بج کر 20 منٹ: دبئی ایئر پورٹ کے قریب ڈرون حملے میں 4 زخمی، پروازیں بدستور جاری

دبئی میں حکام نے کہا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دو ایرانی ڈرونز سے حملہ کیا گیا جس میں چار افراد زخمی ہوئے تاہم حکام کے مطابق پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔

دبئی میڈیا آفس، جو شہر کی حکومت کی جانب سے بیانات جاری کرتا ہے، نے کہا کہ اس حملے سے گھانا کے دو اور بنگلہ دیش اور انڈیا کے ایک شہری کو زخم آئے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت جاری رہی۔

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو طویل فاصلے کی ایئرلائن ایمریٹس کا مرکز ہے، بین الاقوامی مسافروں کے لحاظ سے دنیا کا مصروف ترین ایئرپورٹ ہے۔ حکام اس کی پروازوں کے شیڈول کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ جنگ کے دوران اس ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔


دن 11 بج کر 30 منٹ: ایران نیوی کے 84 اہلکاروں کی میتیں سفارت خانے کے حوالے کی جائیں: عدالتی حکم

سری لنکا کے مقامی میڈیا نے بدھ کو خبر دی کہ ملک کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ گذشتہ ہفتے جزیرہ نما ملک کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز پر حملے میں مارے جانے والے 84 اہلکاروں کی لاشیں ایران کے سفارت خانے کے حوالے کی جائیں۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی جنگی جہاز کو بحرِ ہند میں ایک امریکی آبدوز کے ٹارپیڈو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ جہاز انڈیا میں منعقدہ بحری مشقوں میں شرکت کے بعد واپس آ رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔


صبح 9 بج کر 30 منٹ: اب تک تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے: پینٹاگان

امریکی محکمہ دفاع، پینٹاگان، نے کہا ہے کہ تقریباً 140 امریکی فوجی اہلکار ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان سین پارنیل نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ’ان میں سے زیادہ تر زخمی معمولی نوعیت کے ہیں، اور 108 سروس ممبرز پہلے ہی دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’آٹھ فوجی اہلکار شدید زخمی قرار دیے گئے ہیں اور انہیں اعلیٰ ترین سطح کی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔‘

امریکی فوج کے مطابق، جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایرانی حملوں میں سات امریکی فوجی بھی مارے گیئ جن میں سے چھ کویت اور ایک سعودی عرب میں مارا گیا۔

امریکی اور اسرائیلی افواج نے 28 فروری کو ایران کے خلاف ایک بڑے فضائی حملوں کی مہم شروع کی، جس کے جواب میں ایران نے خطے کے ان ممالک پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے جہاں امریکی فوجی اڈے یا افواج موجود ہیں۔

پینٹاگون کے سربراہ  پیٹ ہیگ سیتھنے منگل کو کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے مزید شدت اختیار کر رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول ایران کی طرف سے فائر کیے جانے والے ڈرونز اور میزائلوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔


صبح 9 بج کر 20 منٹ: متحدہ عرب امارات میں بحری جہاز کو نقصان

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بدھ کو بتایا ہے کہ اسے متحدہ عرب امارات میں ایک بحری جہاز کو ’نامعلوم میزائل‘ سے نقصان پہنچا ہے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا کہ اسے متحدہ عرب امارات میں راس الخيمه کے شمال مغرب میں تقریباً 25 ناٹیکل میل (46 کلومیٹر) فاصلے پر ایک واقعے کی اطلاع موصول ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہاں موجود ایک بحری جہاز کے کپتان نے بتایا کہ جہاز کو ایک مشتبہ مگر نامعلوم پروجیکٹائل سے نقصان پہنچا ہے۔

بیان کے مطابق اس نقصان کی نوعیت فی الحال واضح نہیں ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔


صبح 09 بجے: سعودی عرب میں آئل فیلڈ کی طرف جانے والے سات ڈرونز تباہ

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے بدھ کی صبح بتایا ہے کہ اس نے ملک کے جنوب مشرق میں واقع ایک آئل فیلڈ کی طرف جانے والے سات ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔

وزارت دفاع نے ایکس پر اپنے سلسلہ وار بیان میں بتایا کہ ’الشیبۃ آئل فیلڈ کی طرف آنے والے دو ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘

بیان کے مطابق مزید پانچ ڈرونز کو بھی الگ الگ کارروائیوں میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ آئل فیلڈ متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اسے سعودی عرب کی بڑی کمپنی سعودی آرامکو چلاتی ہے، جو مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

یہ آئل فیلڈ مملکت کی وسیع تیل پیداوار کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں