رکراچی پریس کلب پولیس کے نرغے پر نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ک

تربت (رپورٹر) کراچی پریس کلب پولیس کے نرغے پر نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ کراچی پریس کلب پولیس کے نرغے پر نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف جمہوری اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آزادیٔ اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی پر کھلا حملہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب جیسے تاریخی اور جمہوری ادارے کے گرد اس طرح پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنا ایک تشویشناک عمل ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحافی کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں، اور ان کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنا دراصل عوام کے حقِ معلومات پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ انجنیئر حمید بلوچ نے اس اقدام کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے نہ تو سچ کو چھپایا جا سکتا ہے اور نہ ہی عوامی مسائل کو دبایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لیا جائے، ذمہ دار عناصر کے خلاف شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس طرح کے اقدامات کا سلسلہ نہ روکا گیا تو یہ ملک میں جمہوری عمل اور اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے صحافی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی ہر مشکل گھڑی میں آزادیٔ صحافت کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی بھی قسم کی ناانصافی کے خلاف بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں