کیا بوئنگ طیارے محفوظ نہیں رہے؟ سابق انجینیئر کی ’وارننگ‘ ایک بار پھر زیرِ بحث

بھارتی ایئر لائن کا مسافر بردار طیارہ بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے تباہ ہونے کے بعد ایک بار پھر ماضی میں طیارے سے متعلق کی گئی وارننگ زیر بحث آ گئی۔

گزشتہ برس بوئنگ طیاروں کے انجینئر سم صالح پور نے انکشاف کیا تھا کہ طیارہ بنانے والی کمپنی نے ڈریم لائنر بوئنگ 787 اور 788 طیارے تیار کرتے وقت “شارٹ کٹس” کا استعمال کیا۔

بوئنگ طیاروں کے انجینیئر نے خبردار کیا تھا ڈریم لائنرز طیاروں کی مینوفیکچرنگ میں اختیار کیے گئے شارٹ کٹس مستقبل میں “تباہ کن” ثابت ہو سکتے ہیں۔

انجینئر سیم نے مزید کہا تھا کہ طیارہ ساز کمپنی نے میرے ان خدشات کو نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ الٹا مجھے ہی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ انجینیئر سم صالح پور کی شکایت میں دو ایسے تکنیکی مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی جو بقول ان کے، طیارے کی عمر کو “نمایاں طور پر” کم کر سکتے ہیں۔

انھوں نے سی این این کو 2024 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں یہ سب اس لیے نہیں کر رہا کہ میں چاہتا ہوں کہ بوئنگ ناکام ہو، بلکہ اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ بوئنگ کامیاب ہو اور حادثات کو روکے۔

طیارہ ساز کمپنی کے انجینیئر کے بقول سچ یہ ہے کہ بوئنگ موجودہ طریقے سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اسے تھوڑا بہتر ہونا پڑے گا۔

اب جبکہ بوئنگ 787 طیارے کا ایک اور حادثہ پیش آ چکا ہے سم صالح پور کے خدشات اور وارننگز کو ایک بار پھر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

ان کے انکشافات پر حکام کا کہنا تھا کہ وہ دو بڑے جیٹ ماڈلز کے حوالے سے سنگین خدشات کے اظہار پر بوئنگ کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں