آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام یومِ آزادی کی مناسبت سے ’’آزادی فیسٹیول، میوزک اور قوالی نائٹ‘‘ کا شاندار انعقاد

کراچی(رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام یومِ آزادی کی مناسبت سے ’’آزادی فیسٹیول، میوزک اور قوالی نائٹ‘‘ کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، سیکریٹری اعجاز فاروقی، ممبران گورننگ باڈی اور آرٹس کونسل کے ممبران سمیت ان کے اہلِ خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں معروف گلوکار عمران جاوید، کامران سگو، مصطفیٰ بلوچ، شاہ زیب علی، شاہ رخ عباس، عروسہ علی، فرحان علی، نائلہ سلیم، اعجاز علی، نیوٹن لکی، کامران جعفری اور بہادر علی ابڑو نے شاندار پرفارمنسز پیش کیں، جبکہ معروف قوال فرید ایاز اور ابو محمد قوال نے اپنی پُرجوش قوالی سے جشنِ آزادی کی خوشیوں کو دوبالا کردیا۔

قوالی کی محفل نے شرکاء کو خوب محظوظ کیا اور جون ایلیا لان میں موجود حاضرین نے بھرپور داد دی۔ آزادی فیسٹیول کے موقع پر پرچم کشائی اور کیک کاٹنے کی تقریب بھی منعقد ہوئی، جبکہ جشنِ آزادی کی مناسبت سے شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے ممبران گورننگ باڈی کے ہمراہ جشنِ آزادی کا کیک کاٹا۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آج میرے سامنے پاکستان کا مستقبل بیٹھا ہے۔ میں خاص طور پر نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنی شناخت، اپنی دھرتی اور اپنی تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کے قیام میں سندھ کا کردار انتہائی اہم اور قابلِ فخر ہے۔ لاہور میں قراردادِ پاکستان منظور ہونے سے قبل ہی سندھ مسلم لیگ نے پاکستان کے تصور کو تسلیم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ ہم اس صوبے میں رہتے ہیں جس کے لوگوں نے پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں سب سے آگے بڑھ کر کردار ادا کیا۔ 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر کی سیاسی جدوجہد نے مختلف مراحل طے کیے۔ سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرکے ایک علیحدہ صوبے کی حیثیت دلانا بھی ایک اہم تاریخی مرحلہ تھا۔ 1935 میں سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی کے بعد صرف 12 برس کے اندر پاکستان وجود میں آیا، جو سندھ کی سیاسی اور تاریخی جدوجہد کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے صدیوں پہلے سندھ کی سرزمین، اس کی تہذیب، محبت، اتحاد اور انسان دوستی کا پیغام دیا۔ ہماری تاریخ صرف چند دہائیوں پر مشتمل نہیں بلکہ اس سرزمین کی تہذیب اور فکری روایت صدیوں پر محیط ہے۔ نوجوانوں نے پاکستان کو معاشی ترقی دینی ہے اور اسے دنیا میں ایک مضبوط ملک بنانا ہے۔ اس ترقی کے ضامن ہماری نئی نسل کے نوجوان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنی شناخت نہ بھولیں، اپنی دھرتی کو کبھی فراموش نہ کریں اور متحد رہیں۔ اگر ہم متحد رہیں گے تو کوئی بھی پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ آج جب ہم سب متحد ہوتے ہیں تو دشمن ہماری طرف میلی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ چند ماہ قبل ہم سے کئی گنا بڑے ملک نے پاکستان پر حملہ کیا، لیکن پاکستانی افواج، سیاسی قیادت، میڈیا اور بالخصوص نوجوانوں نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا وہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن گیا۔ نوجوانوں نے سماجی ذرائع ابلاغ پر جس انداز میں پاکستان کا مؤقف اجاگر کیا، اس نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستانی قوم متحد ہے۔سید مراد علی شاہ نے آزادی فیسٹیول میں مدعو کرنے پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا شکریہ بھی ادا کیا اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی ثقافتی و ادبی سرگرمیوں کو سراہا۔ صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کون کہتا ہے کہ پاکستان ایک نہیں ہے۔ اختلافات بھی ہوں گے اور تنازعات بھی ہوں گے، لیکن 14 اگست کی شب پاکستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سب ایک ہوجاتے ہیں۔ یہ ملک ہمارے بزرگوں نے بے شمار قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے اور ایک عظیم جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل، خصوصاً جین زی، کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس درخت کی جڑیں مضبوط ہوں وہی مضبوطی سے قائم رہتا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں، ہماری جڑیں پاکستان ہیں اور ہم دنیا کے کسی بھی خطے میں رہیں، ہمیشہ پاکستانی ہی کہلائیں گے۔ محمد احمد شاہ نے کہا کہ پاکستان جب وجود میں آیا تو رمضان المبارک کی ستائیسویں شب تھی، ہمیں اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ آج ہمیں بلا تفریق متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمارے دلوں میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں اہم اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ سندھ نے سب سے پہلے الگ ملک کا مطالبہ کیا اور 3 مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی نے قراردادِ پاکستان منظور کی، جو قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں ایک تاریخی سنگِ میل تھا۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا تعلق بھی سندھ سے تھا، اس لیے ہمیں اپنے شہر، اپنے صوبے اور اپنے ملک پر فخر کرنا چاہیے۔ صدر آرٹس کونسل نے کہا کہ ہمیں اپنے معاشرے میں موجود خراب چیزوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور یہ کام ہماری نوجوان نسل ہی کرسکتی ہے۔ آرٹس کونسل کی اکیڈمیز کے طلبہ پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی ترقی میں کردار کو بھی سراہا۔ تقریب کے اختتام پر شاندار آتش بازی نے آسمان کو روشنیوں سے منور کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں