حب( رپورٹر) پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے حب میں ایک عظیم الشان اور پروقار جشنِ آزادی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں قبائلی و سیاسی عمائدین، پاکستان پیپلز پارٹی کے عہدیداران و کارکنان، سیاسی و سماجی شخصیات اور محبِ وطن شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کا آغاز قومی ترانہ سے ہوا ور پنڈال میں موجود تمام محب وطن شہریوں نے کھڑے ہو کر ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھا۔ جشنِ آزادی کی اس شاندار تقریب کا پنڈال قومی پرچموں سے سجایا گیا تھا جبکہ رنگ برنگی روشنیوں نے پورے پنڈال کو جگمگا دیا۔ فضاء ملی نغموں سے گونجتی رہی اور شرکاء پاکستان زندہ باد، بلوچستان پائندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے اپنے وطن سے والہانہ محبت کا اظہار کرتے رہے۔ تقریب میں بچوں، نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء اپنے قائد اورمحسنِ حب میر علی حسن زہری کی قیادت میں بڑی تعداد میں پنڈال میں موجود تھے۔ ہر چہرے پر جشنِ آزادی کی خوشی، ہر ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم اور ہر دل میں پاکستان کی محبت کا جذبہ نمایاں تھا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے میر علی حسن زہری نے کہا کہ پاکستان ہماری پہچان، ہماری عزت، ہماری آزادی اور ہماری آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ یہ وطن ہمیں کسی تحفے میں نہیں ملا بلکہ ہمارے بزرگوں نے اپنی جانوں، مال اور عزتوں کی لازوال قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے اس لیے پاکستان کی آزادی ہمارے لیے صرف جشن منانے کا نہیں بلکہ اپنے قومی فرائض کی تجدید کا دن بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محبِ وطن پاکستانی ہیں اور حب کی سرزمین نے ہمیشہ پاکستان سے اپنی محبت کا عملی ثبوت دیا ہے۔ آج حب میں جشن آزای کی تقریب میں ہزاروں لوگوں کی شرکت اس بات کا واضح اعلان ہے کہ بلوچستان کے عوام کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ ملک کی سلامتی، خودمختاری، ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر پاکستانی شہری کا قومی فرض ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات کو قومی مفاد کے تابع کرتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان ہمارا مستقبل ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سب سے بڑی قوت ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ تعلیم، ہنر، تحقیق، مثبت سوچ اور محنت کو اپنا شعار بنائیں اور اپنی صلاحیتوں کو وطن کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔ دشمن عناصر نوجوانوں کو مایوسی، نفرت اور انتشار کی طرف دھکیلنے کے لیے مختلف ذرائع سے منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں لیکن بلوچستان کے باشعور نوجوان بیرونی و انرونی دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھیں اور کسی بھی ایسے بیانیے کا حصہ نہ بنیں جو پاکستان کی سلامتی، قومی یکجہتی اور امن کو نقصان پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سوشل میڈیا سمیت ہر پلیٹ فارم پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور جھوٹ، نفرت اور انتشار پر مبنی پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے کے بجائے حقائق، امن، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کرنا ہوگا۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ پوری قوم اپنی مسلح افواج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ملک کے دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ انہوں نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملکی استحکام، قومی یکجہتی، ترقی اور پاکستان کے دفاع کے لیے کی جانے والی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط پاکستان کے لیے سیاسی استحکام، قومی اتحاد اور اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہماری پہچان ہے، بلوچستان ہمارا فخر ہے اور پاکستان کی سلامتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بعد ازاں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے جشن آزادی کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوری قوم، بالخصوص بلوچستان کے عوام کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ 14 اگست ہمارے لیے تجدیدِ عہد، قومی یکجہتی اور وطن سے محبت کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارے بزرگوں کی بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا۔ ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے اور اس نعمت کی حفاظت کے لیے اپنے اپنے شعبوں میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ آزادی صرف ایک جشن کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں ذمہ داری، اتحاد، قانون کی پاسداری اور قومی خدمت کا درس دیتی ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، خواتین، بچوں، اقلیتوں اور کمزور طبقات کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پاکستان سے محبت کرنے والے اور وطن کی سلامتی کے لیے پرعزم لوگ ہیں۔ بلوچستان کے نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو درست سمت میں بروئے کار لاکر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دشمن کے جھوٹے پروپیگنڈے، منفی بیانیے اور گمراہ کن مہمات سے ہوشیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتا ہے اور نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان تحقیق، شعور اور حب الوطنی کو اپنا ہتھیار بنائیں اور کسی ایسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں جو ملک کے امن، اتحاد اور ترقی کو نقصان پہنچائے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ہمیں آج یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم پاکستان کو مزید مضبوط، مستحکم، پرامن، جمہوری اور خوشحال بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ پاکستان کی ترقی دراصل ہماری اپنی ترقی اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ جشنِ آزادی کی اس شاندار تقریب میں موجود ہزاروں افراد نے قومی پرچم لہرا کر اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے وطن سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ تقریب کا ماحول اختر چنال اور یگر نامور گلوکاروں کی مدھر آوازوں سے دیر تک ملی نغموں، قومی نعروں اور سبز ہلالی پرچموں سے سجا رہا جبکہ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری، قومی اتحاد اور ترقی کے لیے ہمیشہ متحد رہیں گے۔تقریب کے اختتام پر میر علی حسن زہری اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین سے آج کا یہ پیغام پوری دنیا کے لیے واضح ہے کہ بلوچستان کے محبِ وطن عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کی ترقی، امن اور خوشحالی کے سفر میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

