اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 2017ء میں دہشتگردی ختم ہوئی، پالیسی تبدیلی نے کاوشوں کو بہت نقصان پہنچایا۔
ایس ایس ڈی او کے زیر اہتمام کپیسٹی بلڈنگ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اطلاعات کی جنگ اور بیانیے کے محاذ پر تاثر ہمیشہ حقیقت سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ بطور انفارمیشن مینجرز یا نیریٹو بلڈرز ہمارا کام تاثر اور حقیقت کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2017 میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوچکا تھا۔ کراچی میں امن و امان اور خیبر پختونخوا و بلوچستان کے بعض علاقوں میں دہشت گردی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریاست نے قومی ایکشن پلان لانے کا فیصلہ کیا، جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز نے لبیک کہا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، افواج پاکستان اور دیگر اداروں نے مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کاوش کی۔ دہشت گردی کے خاتمے کی اس جدوجہد میں بیانیے کا کردار انتہائی اہم رہا۔معرکہ حق کے دوران پہلگام واقعے کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان پر اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔ اصل جنگ سے پہلے ہی پرسیپشن اور بیانیے کی جنگ شروع ہوچکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد ریاست نے بھارتی بے بنیاد الزامات کا مؤثر انداز میں جواب دیا۔ یہ سوال اٹھایا گیا کہ واقعے کے محض آدھے گھنٹے کے اندر ایف آئی آر کیسے درج ہوگئی۔ اگر بھارت کا دعویٰ تھا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے تو لائن آف کنٹرول پہلگام سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر دور ہے۔ دونوں مقامات کے درمیان دشوار گزار پہاڑی علاقہ واقع ہے۔اتنے کم وقت میں حملہ آور وہاں کیسے پہنچ سکتے تھے؟ اگر حملہ آور اتنی آسانی سے علاقے میں داخل ہوئے تو بھارتی سکیورٹی انتظامات کہاں تھے اور حملہ آور ڈیٹیکٹ کیوں نہیں ہوئے؟
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ایم اے کاکول میں خطاب کے دوران پہلگام واقعے کی بین الاقوامی سطح پر شفاف تحقیقات کی پیشکش کی، تاہم بھارت کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا اور اس کا بیانیہ مر چکا تھا۔ عالمی میڈیا پر واضح کیا گیا کہ پاکستان ایسی قوم ہے جس نے دہشت گردی کی جنگ میں 90 ہزار شہادتیں دی ہیں۔ ان شہادتوں میں افواج پاکستان کے جوان، سپاہی اور افسر بھی شامل ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیاستدانوں، عام شہریوں، انجینئرز، ڈاکٹرز اور بچوں نے بھی قربانیاں دیں۔ ہمارے بچوں نے بھی دہشت گردی کی اس جنگ میں خون دیا ہے۔ ایک طرف ایسی قوم ہے جس کے ہر طبقے نے دہشت گردی کی جنگ میں قربانیاں دی ہیں، دوسری طرف بھارت ہے جو دنیا بھر میں اقلیتوں کو قتل کروانے میں ملوث ہے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکومت بیرون ملک لوگوں کو قتل کروا رہی ہے۔ پاکستان ایسا ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہا ہے، اس کا موازنہ ایسے ملک سے نہیں کیا جاسکتا جو دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بلوچستان سے کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا گیا جو دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث تھا۔ جب یہ حقائق میڈیا کے سامنے رکھے گئے تو بھارت کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ پاکستانی قوم اور افواج دہشت گردی کی جنگ نہ لڑتیں تو یہ دہشت گرد دنیا کے ممالک میں پھر رہے ہوتے۔ پاکستانی قوم، افواج اور معاشرہ دہشت گردوں اور دنیا کے درمیان شیلڈ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیانیے کے محاذ پر ہمیں بڑی کامیابی ملی۔ 2017 میں جب دہشت گردی ختم ہوئی تو پاکستان کے اندر سرمایہ کاری آنا شروع ہوئی، تاہم پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے انسداد دہشت گردی کے لیے 4 سال ہونے والی کاوشوں کو بہت نقصان پہنچا۔ پالیسی میں تبدیلی کے وقت سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت، عوام اور ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ شکست خوردہ عناصر کا نشانہ اب آسان اہداف ہوتے ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ جعفر ایکسپریس ریسکیو آپریشن انجام دیا۔ کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم سے متعلق قوانین کو بہتر کیا گیا ہے اور ڈیجیٹل شعبے میں بھی لیگل فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ جدید خطوط پر استوار ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے۔ صوبوں کو ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیے معاونت کی پیشکش کی گئی ہے۔ پاکستان ٹی وی کے ذریعے بھی مثبت قومی تشخص اجاگر کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے جنوبی اضلاع میں ٹی وی چینلز کے بیوروز کے قیام کے لیے معاونت کو تیار ہیں۔ بیانیے کے محاذ پر بلوچستان حکومت کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے سوال کیا کہ ماہ رنگ بلوچ کو دھرنے کے لیے فنڈنگ کہاں سے ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں دی گئی پالیسی کے تحت لیگل فریم ورک مزید بہتر کرنا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کا سافٹ امیج پوری دنیا میں ابھرا ہے اور پاکستان کو سفارتی سطح پر بڑی کامیابیاں ملیں۔ پاکستان ایک ثالث کے طور پر ابھرا اور پوری دنیا پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیانیے کی طاقت سے پوری دنیا میں پاکستان کا امیج مزید بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دہشت گردی کا کوئی رنگ، نسل یا مذہب نہیں ہوتا، دہشت گردوں کی کوئی قومیت، رنگ، نسل یا مذہب نہیں ہوتا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تشدد کے ذریعے نظریات مسلط کرنا ہرگز برداشت نہیں۔ پاکستان لاکھوں قربانیوں سے وجود میں آیا ہے اور یہ ملک تاقیامت قائم رہے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی ہمیشہ سے حکومت کی ترجیح رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بلوچستان کے حقوق اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ این 25 شاہراہ کی بہتری کے لیے وزیراعظم کی جانب سے فنڈنگ کے فیصلے کی سب نے تائید کی۔ بطور وزیراعلیٰ پنجاب بھی شہباز شریف نے بلوچستان کے لیے فلاحی اقدامات کیے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ مریم نواز نے انسداد دہشت گردی کے لیے بلوچستان حکومت کو 15 ارب روپے دیے۔ پالیسیوں کے تسلسل کے لیے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 2008 میں وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد محمد شہباز شریف نے ریسکیو 1122 منصوبہ جاری رکھا۔ بعد ازاں ریسکیو 1122 کو قومی منصوبہ بناتے ہوئے اس کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلایا گیا۔

