بیانیہ کی جنگ، سامراجی صف بندیاں اور عالمی ضمیر کی آزمائش ؟

واحد رحیم
عصرِ حاضر کی عالمی کشمکش صرف جنگی محاذ پر نہیں بلکہ بیانیہ کی سطح پر لڑی جا رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت، ایران پر دباؤ، اور پراکسی قوتوں کا تصادم اس بات کا اظہار ہے کہ دنیا آج پھر کسی بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ یہ تنازعات محض عسکری کارروائیاں نہیں بلکہ سفارتی، نظریاتی اور تہذیبی دائرے میں طاقت کے توازن کی از سرِ نو تقسیم کا عندیہ دیتے ہیں۔
گزشتہ صدی کی سامراجی قوتیں ہمیشہ مذہب، قومیت، نسل اور زبان کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔ چاہے وہ صیہونی ریاست کا قیام ہو، برصغیر کی مذہبی تقسیم، سوویت یونین کے خلاف نام نہاد جہاد، یا پھر عرب بہار جیسی جمہوری عوامی تحریکوں کا ہر موقع پر استعماری قوتوں نے اپنی مرضی کا بیانیہ تراش کر طاقت کو جائز ثابت کیا۔ نوم چومسکی نے بارہا اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ اصل طاقت بندوق میں نہیں بلکہ ان بیانیوں میں ہوتی ہے جو ذہنوں پر قابض ہو کر نظامِ ظلم کو قبول کروا دیتے ہیں۔
ایران کی جمہوری قیادت ڈاکٹر مصدق کے خلاف 1953ء کی بغاوت ہو، یا عراق، لیبیا، شام کی ریاستی تباہی، ہر جگہ یہی اصول کارفرما رہا: جمہوریت اور انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر مفادات کی بندر بانٹ۔ فرانز فینن کی یہ رائے اب بھی برمحل ہے کہ نوآبادیاتی طاقتیں صرف زمین نہیں، قوموں کے شعور، تاریخ اور مستقبل پر بھی قبضہ کرتی ہیں۔
لیکن اب منظر نامہ بدل رہا ہے۔ طاقت کے مرکز مغرب سے مشرق کی طرف کھسک رہے ہیں۔ امریکا کی عسکری و نظریاتی برتری کو چین، روس، ترکی اور ایران جیسے ممالک چیلنج کر رہے ہیں۔ حراری کے مطابق، انسانیت آج پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکی ہے، مگر اس طاقت کا اخلاقی استعمال کیسے کیا جائے اس کا شعور کم ہو چکا ہے۔
ٹرمپ ڈاکٹرائن، جو دراصل صدر ریگن کی پالیسی کا نیا روپ تھی، دنیا پر دھونس، دباؤ اور یک طرفہ حکمرانی مسلط کرنے کی کوشش تھی، جو آج بے نقاب ہو کر اپنی وقعت کھو رہی ہے۔ اس کے برعکس چین کی حکمتِ عملی جو مصالحت، اقتصادی تعاون، دفاعی خود کفالت اور سفارتی توازن پر مبنی ہے ، ایک پُرامن اور باوقار متبادل کے طور پر ابھری ہے۔
پاکستان کی بھارت سے کشیدگی کے دوران اسی چینی ماڈل نے روایتی عسکری جواب کی جگہ سفارت کاری، اخلاقی برتری، اور عالمی حمایت کا راستہ اختیار کیا۔ نتیجتاً بھارت کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ یہی طرزِ فکر ہمیں حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی میں بھی نظر آیا، جہاں ایران نے شدید نقصان کے باوجود اشتعال انگیزی سے گریز کر کے اپنی سیاسی ساکھ محفوظ رکھی۔
اس طرز عمل نے امریکا و اسرائیل کو بیانیہ کی جنگ میں دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ اب وہی قوتیں جو پہلے ریجیم چینج یا افزودگی کے نام پر حملے کر رہی تھیں، جنگ بندی اور مذاکرات کی خواہاں نظر آ رہی ہیں۔ گو وہ ان میں بھی مفاد تلاش کریں گی، مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت بدل چکا ہے — اور بیانیے کا پلڑا اب مغرب کے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے۔
نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ دنیا کو بدلنے کے لیے تلوار نہیں، بلکہ بصیرت، اصول اور جرأت درکار ہوتی ہے — اور وقت ہمیشہ انہی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ تبدیلی واقعی انسانی برابری، قومی خودمختاری، اور دنیا کے استحصالی نظام کے خاتمے کی جانب بڑھے گی؟ یا پھر صرف طاقت کی نئی شکلیں، پرانے مفادات کی نئی تعبیرات سامنے آئیں گی؟
یہی وہ سوالات ہیں جو آج ترقی پذیر دنیا کے ہر ذی شعور فرد، ہر باشعور سیاسی تحریک، اور ہر جمہوری مزاحمتی قوت کے سامنے کھڑے ہیں۔ کیا تبدیلی کے خواہاں عناصر نئی صف بندی میں متحرک کردار ادا کر پائیں گے؟ یا پھر ماضی کی طرح نئے روپ میں پرانے استعماری کھیلوں کے تماشائی بنے رہیں گے؟
تاریخ ایک بار پھر ہمارے سامنے سوال بن کر کھڑی ہے۔ جواب اب صرف نعرہ بازی یا مخالفت برائے مخالفت سے نہیں دیا جا سکتا۔ ضرورت ہے کہ ترقی پسند، جمہوری اور روشن خیال قوتیں سنجیدگی سے اپنا متبادل فکری و سیاسی ماڈل سامنے لائیں۔ صرف سامراج کی مخالفت کافی نہیں، بلکہ ایک انسانی، منصفانہ، اور آزاد دنیا کے خواب کو ممکن بنانے کے لیے قیادت اور عمل درکار ہے۔
یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ یا تو یہ قوتیں تبدیلی کے عمل کا شعوری حصہ بنیں گے، یا پھر تاریخ کے کنارے خاموشی کی گرد میں گم ہو جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں