تحریر: مخدوم ایوب قریشی
عبدالستارایدھی سے میں کئی دفعہ ملا ہوں مگر میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ مجھے اچھی طرح جانتے تھے ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ ٹریڈ یونین کے لوگوں کے لیے اچھی رائے رکھتے تھے۔
یہ غالباً نومبر2010ء کی بات ہے میں اپنی جماعت نیشنل پارٹی کے میگزین جہد کی تیاری کے سلسلے میں ایک پرنٹنگ پریس میں موجود تھا غالباً ان دِنوں پی ٹی سی ا یل کے محنت کش نجکاری کے خلاف ہڑتال پر تھے … میرے موبائل فون کی گھنٹی بجی، میں نے ہلو کیا تو ادھر سے آواز آئی قریسی صاحب میں عبدالستار ایدھی بول رہا ہوں آپ کے ٹیلی فون والو نے ہڑتال کی ہوئی اور ہمارا ایمرجنسی نمبر115 بھی بند کردیا ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں ہمارا کام ٹھپ ہوگیا ہے کچھ کرو، میں نے کہا ٹھیک ہے سر میں پوری کوشش کرتا ہوں اس کے بعد میں نے PTCL کی یونین کے عہدیداروں سے رابطے کی بہت کوشش کی لیکن کسی کا بھی فون کھلا ہوا نہیں تھا پتہ چلا کہ گرفتاریوں کے خدشے سے تمام عہدیدار محفوظ مقامات پرچلے گئے ہیں اور سب نے اپنے فون بندکردیئے ہیں، میں نے ایک اور ٹرائی کی اور کامریڈ سلیم اختر کو فون کرکے حالات سے آگاہ کیا آدھے گھنٹے بعد سلیم اختر نے مجھے فون پر بتایا کہ یونین کے ایک عہدیدار سے رابطہ ہوا ہے اور اب 115 بحال کردیا گیا ہے میں نے 115پر بات کرکے آپریٹر کو ایدھی صاحب بات کرانے کا کہا چند لمحوں میں میری ایدھی صاحب سے بات ہوگئی وہ 115 کی بحالی پر خوش تھے اور انہوں نے میرا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس عبدالستار ایدھی کو دُنیا میں کروڑوں نہیں اربوں لوگ جانتے ہیں کروڑوں کی تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے خدمت کی ہے ، ایدھی، صاحبِ باکمال انسان تھے، ان کا تعلق انسانوں کے اُس قبیلے سے تھا جس کے متعلق حضرت بھلے شاہ نے کہا:
بُھلیا اَساں نیئوں مَرناں…گور پیا کوئی ہور
ایدھی صاحب وہ انسان ہیں جو بچپن میں جیب خرچی کے طور پر ملنے والے دو پیسوں میں سے ایک پیسہ اپنے کسی ضرورت مند ساتھی کودے دیا کرتے تھے اور … جب بڑے ہوئے تو اتنے بڑے ہوگئے کہ پھر زندگی بھر اپنے حصے کی روٹی بھی دوسروں کو کھلاتے رہے۔
عبدالستار تقسیم ہند سے تقریباً 20 برس قبل جوناگڑھ کے قریب بانٹوا نام کے ایک قصبے میں عبدالشکور ایدھی کے گھر میں پیدا ہوئے والدہ کا نام غربا تھا، آبائی پیشہ کھیتی باڑی لیکن بعد میں تجارت سے وابستہ ہوگئے ، خاندان کے سارے افراد سادہ زندگی گزارنے کے عادی تھے ایدھی صاحب کہتے ہیں میں نے بچپن میں شرارتیں بھی بہت کیں ، چار جماعتوں تک اسکول پڑھا، نوجوانی میں ہلکے پھلکے عشق بھی کیے اور زندگی میں چار شادیاں بھی کیں محترمہ بلقیس صاحبہ وہ واحد خاتون ہیں جنہوں نے آخر دم تک ساتھ نبھایا۔
ایدھی صاحب کہتے ہیں میرے والد جب کاروبار کے سلسلے میں باہر ہوتے تو وہ گری، پستہ، کاجو اور ادرک تھیلوں میں بھر کر ہمیں بھجواتے جس کا زیادہ حصہ میری ماں نادار لوگوں میں تقسیم کردیتی ، ضرورت مندوں کی خدمت کرنے کا یہ وہ جذبہ ہے جو ماں نے بچپن ہی سے میرے اندر رچا بسا دیا تھا، فلاحی کاموں کی تربیت بچپن میں والدہ سے حاصل ہوئی ، سماجی خدمات کے کاموں میں اپنی ماں کے ساتھ قصبے کی دیگر مخیر خواتین کا ہاتھ بٹایا کرتا تھا، بچت سے لگائو اور فضول خرچی سے نفرت کا سبق بھی چھوٹی عمر میں ہی سیکھ لیا ، تقسیم ہند کے بعد ہمارا خاندان پاکستان منتقل ہوگیا اور ہم جوڑیا بازار میں رہنے لگے۔ ایدھی صاحب 1948ء میں ایک فلاحی تنظیم بانٹوا میمن ڈسپنسری کے ساتھ منسلک ہوگئے لیکن میمن برادری کے معتصبانہ رویے کی وجہ سے جلد ہی اس تنظیم سے علیحدہ ہوگئے وجہ یہ بنی کہ میمن برادری کے بڑوں نے ایدھی صاحب کو یہ سمجھایا کہ وہ فلاحی ادارے سے غیر میمنوں کی مدد نہ کریں کیوں کہ یہ ادارہ صرف میمنوں کے لیے قائم کیا گیا ہے اس پر ایدھی صاحب کا رد عمل یہ تھا کہ تم مینڈک بن کر اپنے کنویں میں رہو، میں کھلے سمندر میں جارہا ہوں اور پھر عبدالستار ایدھی نے سمندر جتنا بڑافلاحی ادارہ بنا کر دکھایا جہاں نہ صرف ہرطرح کے انسانوں کی خدمت کی جاتی ہے بلکہ لاوارث، زخمی اور ناکارہ جانوروں کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے اور ان کے رہنے کے لیے بھی مناسب بندوبست ہے، عبدالستار ایدھی کے سماجی ادارے کاآغاز 1951ء میں میمن والنٹیئر کور کے نام سے ایک معمولی ڈسپنسری سے ہوا یہ ڈسپنسری میٹھادر میں ایک چھوٹی سی دوکان میں قائم ہوئی جو کہ پگڑی پر حاصل کی گئی تھی پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایدھی فائونڈیشن پورے ملک میں اور کئی دیگر ممالک میں دُنیا کے سب سے بڑے فلاحی ادارے کا روپ دھار گئی۔ ایدھی فائونڈیشن کی انسانی خدمات کی داستان 74برسوں کے طویل عرصے پر پھیلی ہوئی ہے۔ عبدالستار ایدھی اور اس کے رضاکاروں نے ویلفیئر کے اس ادارے کو جس شفافیت کے ساتھ بنایا اور چلایا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں نہ تو وسائل کی کمی ہے اور نہ انسانی محنت اور ذہانتوں کی کمی ہے۔ اس ملک کو تو برباد کردیا یہاں کے حکمران طبقے کی حوص زرپر مبنی طبقاتی نظام نے جس کا عبدالستار ایدھی نے اپنی سوانح عمری ”کھلی کتاب” میں جابجا اظہار کیا ہے وہ کہتے ہیں میں گجراتی زبان کے علاوہ اور کسی زبان میں لکھنا پڑھنا نہیں جانتا میں نوجوانی کے زمانے میں گجراتی زبان میں شائع ہونے والے اخبارات اور معروف جریدوں ”مسلم گجرات گذٹ” ،”بمبئی سماچار ”، ”سیندیس میگزین” کے مطالعے سے کارل مارکس اور لینن کے انقلابی نظریات سے متعارف ہوا اور میرے اندر سامراجی قوتوں کے خلاف مظلوموں کے حق میں جدوجہد کا جذبہ بیدار ہوا، مجھے واقعہ کربلا اور حضرت محمد ۖ اور ان کے صحابہ کرام کے حالات ِ زندگی سے بھی جان کاری حاصل ہوئی اور مجھے اس بات کی سمجھ آئی کہ انسانوں کے دُکھوں کا علاج دُنیا کے تمام انقلابیوں کا مشترکہ نصب العین رہا ہے۔ ایدھی صاحب کہتے ہیں طبقاتی نظام کی سیاست کا مجھے اس وقت دُرست ادراک ہوا جب میں نے 1962ء کے بنیادی جمہورتیوں (بی ڈی سسٹم) کے انتخابات میں حصہ لیا۔
میمن سیٹھوں نے مجھے کمیونسٹ ، زانی، چور اور جاہل تک کہا اور الیکشن میں میری بھرپور مخالفت کی لیکن اس کے باوجود میں پہلا میمن تھا جس نے اُن کے بے سروپا الزامات کے باجود یہ الیکشن جیت لیا۔ ایدھی صاحب نے 1964ء کے صدارتی انتخابات میں جنرل ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیکر پختہ سیاسی شعور کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے 1970ء کے انتخابات میں آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا مگر کامیاب نہ ہوسکے، عبدالستار ایدھی جنرل ضیاء کی مجلس شوریٰ کے ممبر بھی بنے وہ شوریٰ کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کے لیے اپنے ٹکٹ پر راولپنڈی پہنچتے وہاں تیسرے درجے کے ہوٹل میں قیام کرتے اور بس کے ذریعے اسلام آباد پہنچ جاتے مجلس شوریٰ کے ایوان میں انہوں نے آسمان اور زمین کے درمیانی فاصلوں جتنا طبقاتی فرق دیکھا تو پریشان ہوگئے، کہتے ہیں کہ شوریٰ کے اجلاسوں میں شرکت کی وجہ سے میرا سکون چھین گیا انہوں نے مجلس شوریٰ کے کل تین اجلاسوں میں شرکت کی تیسرے اجلاس میں انہوں نے اپنا نقطہ ٔ نظر شوریٰ کے سامنے رکھا اور یہاں سے ہمیشہ کے لیے رُخصت ہوئے۔
عبدالستار ایدھی نے جنرل ضیاء اور مجلس شوریٰ کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : آپ نے اِسلامی اُصولوں کے تحت یہ شوریٰ تشکیل دی ہے لیکن حضرت علی تو خالی زمین پر سوتے اور روکھی روٹی کھاتے تھے عربی زبان میں لفظ شوریٰ تو حکومت کا متبادل ہے لیکن طریقہ کار اس کی نفی کررہا ہے۔ جہاں انسانی حقوق اور تعلیم و صحت کی سہولیات کا سرے سے وجود ہی نہ ہو، محنت کشوں اور کسانوں کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ ہو وہاں شوریٰ کیا معنی رکھتی ہے ، آپ کن خیالات میں سرگرداں ہیں، کیا آپ نے مساجد کو اسلامی عدالتِ انصاف یا ناخواندہ لوگوں کے لیے مکتب بنایا ہے ، کیا آپ ٹیکسوں سے موصولہ رقوم کو ترقیاتی کاموں کے لیے استعمال کررہے ہیں، کیا بیت المال سے غریبوں، ناداروں اور بے دست و پا افراد کی صوبائی یا ضلعی سطح پر آباد کاری کا کام ہورہاہے اگر آپ ترقی اور تعمیر نو کے نام پر دوسرے ممالک سے قرضے مانگ رہے ہیں تو اس گداگری کے لیے مذہب کو نعرے کے طور پر کیوں استعمال کیا جارہا ہے ۔عبدالستار ایدھی نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح نظام میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں، اب سچائیوں کی مزید وضاحتوں کا وقت نہیں رہا کیوں کہ آپ تو عوام کے لیے کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے، میں کہتا ہوں اس ملک کے لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے ایسی مدد جو ان کے حال اور مستقبل کو سدھار دے اس ملک میں خلقِ خدا کو ظالمانہ حد تک نظر انداز کیا جاچکا ہے ، لوگ ایک دِن دیوانہ وار اُٹھیں گے اور اِن دیواروں (مجلسِ شوریٰ کے ایوان کی دیواروں) کو ڈھیر کردیں گے جنہوں نے ان کے مستقبل کو برسوں سے اسیر کررکھا ہے ۔انہوں نے کہا میرے ان لفظوں کو اپنے پلے باندھ لو اور عبرت پکڑو اگر آپ عوام کو دیوار تک دھکیل دوگے تو لوگ آپ کو مسترد کردیں گے جابرانہ طریقوں سے عوام پر حکمرانی کرنے کے طریقے دہشت گردی پر منتج ہوتے ہیں۔
عبدالستار ایدھی سیاسی حوالے سے ترقی پسند نقطہ ٔ نظررکھتے تھے وہ بہت واضح طور پر یہ بات جانتے تھے کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے دُنیا کی غالب اکثریت کو محکوم بنا رکھا ہے اس نظام میں محنت کش عوام دِن رات کی انتھک محنت مزدوری کے باوجود زندگی کی جائز ضرورتوں سے محروم ہیں، خیرات کے متعلق ان کا فلسفہ تھا کہ قرآن پاک میں خدا تعالیٰ کا حکم ” دے ڈالو جو تمہارے پاس تمہاری ضروریات سے زیادہ ہے ان لوگوں کو جو ضرورت مند ہیں” پر سختی سے عمل ہونا چاہئے۔
اور ایک انسان کی ضروریات کیا ہوسکتی ہیں پھر اس کے لیے وہ اپنے آپ کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہیں وہ سرمایہ داری کے مقابلے میں معاشی مساوات یعنی سوشلزم کو متبادل نظام سمجھتے ہیں ان کے ہاں یہ بحثیں بھی ہوتی رہتی ہیں کہ سرمایہ داری کے مقابلے میں سوشلزم کو دُنیا بھر میں مقبولیت اسی وجہ سے حاصل ہوئی کہ وہ سرمایہ داری کے جبر و استحصال کے خلاف فکری اور عملی تحریک کی صورت میں اُبھرا تھا۔ ایدھی صاحب نہ تو فتویٰ باز ملائوں کی طرح فتوے دیتے ہیں اور نہ ہی نام نہاد لیفٹ کی طرح ہر مسئلے کو دہشت گردی اورامریکن سی آئی اے کے کھاتے میں ڈال کر جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں وہ اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ مسائل سسٹم کی پیداوار ہیں اور مسائل کا حل اس سسٹم سے چھٹکارا حاصل کرکے ہی کیا جاسکتا ہے وہ سرمایہ دارانہ نظام کی حشر سامانیوں سے بھی پوری طرح واقفیت رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں اس ظالمانہ نظام نے ہرشعبے میں انسانی فطرت کومسخ کردیا ہے، بلیک مارکیٹنگ کرنے والے اپنی حرام اور ناجائز کمائی پر صدقہ، نیاز اور خیرات دیکر اسے حلال سمجھنے کے فریب میں مبتلاء ہیں یعنی ایدھی صاحب بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ صدقہ ، نیاز اور خیرات حلال کمائی سے ہی دی جاسکتی ہے نہ کہ حرام سے ۔
ایدھی صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ حج ادا کرنے والوں کوپہلے زکوٰة ادا کرنی چاہیے کیوں کہ حج کا حکم زکوٰة کے بعد ہے وہ ان لوگوں سے جو زکوٰة کی ادائیگی کے بغیر حج ادا کرتے ہیں سے یوں مخاطب ہوتے ہیں ” کیا آپ لوگوں نے کبھی سوچا کہ غریبوں کا مال کھانے والو کا حج کسے قبول ہوگا” عبدالستار ایدھی فرماتے ہیں کہ منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران کچھ کنکریاں بچا رکھنی چاہئیں جو وطن واپس آکر اپنے ملک کے اندر بسنے والے شیطانوں کو ماری جاسکیں ، ایدھی صاحب جنرل ضیاء کے دور حکومت کے بارے میں کہتے ہیں جنرل ضیاء کا مارشل لاء اپنے پیچھے غیر قانونی اسلحہ ، افغان مہاجرین کی فوج منشیات اور لسانی تعصبات جیسے مسائل بطور وراثت چھوڑ گیا بھٹو کے متعلق وہ کہتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو صرف پانچ برسوں میں ہی اپنے عروج و زوال کے سارے مرحلے طے کرگئے، وہ سندھ کی غربت کے بارے میں کہتے ہیں میں نے اندرونِ سندھ دور افتادہ دیہاتوں میں غربت و افلاس کے باعث زندگی کی نعمتوں سے بے خبر پھٹے پرانے لباس میں جھلسے ہوئے چہرے دیکھے وہ لوگ سودوزیاں سے بے نیاز تھے۔ نادار زندگی نے ان سے فیصلے کا اختیار بھی چھین لیا تھا، سینکڑوں عورتیں اپنی کوکھ میں بچوں کی امانتیں اُٹھائے شدید محنت کرنے پر مجبور تھیں، مٹی گارے سے بنے گھر اور کمزور بوڑھے، دونوں ہی جیسے گرنے کو تھے، ہزاروں بھوکے ننگے بچے دیوانہ وار پھر رہے تھے دو وقت کی روٹی کو ترستے لاکھوں انسانوں کو دُکھ جھیلتے دیکھ کر ایسے لگا کہ یہ ان کا مقدر نہیں بلکہ نا مہربان وقت کا ستم ہے جبکہ ان علاقوں کے جاگیردار ، ناداروں کی خدمت کو اپنے علاقائی وقار کے منافی سمجھتے تھے، حالانکہ مذہب میں انسانی حقوق کے لیے جدوجہد پر کوئی پابندی نہیں ہے، حدود آرڈیننس کے متعلق وہ کہتے ہیں ان قوانین کے نفاذ سے مراعات یافتہ اور نادار طبقات کے درمیان پائی جانے والی خلیج اور بھی وسیع ہوگئی ، شوہر اور سسرال والے یا دیگر مخالفین جرم کوئی بھی کرے حدود آرڈیننس کے تحت عورتوں ہی کو دھر لیا جاتا ہے اور کسی چشم دید گواہی یا بر موقع شہادت کے بغیر انہیں جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے خصوصی استحقاق رکھنے والے افراد ایسی حالتوں میں کوئی اذیت برداشت کیے بغیر صاف بچ جاتے ہیں۔
عبدالستار ایدھی ، پولیس اور ڈاکوئوں کے مابین مشین گنوں کی گھن گرج میں لاؤڈ اسپیکر لیکر پہنچ جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں رُک جائو میں ایدھی ہوں پھر فائر بندی ہوجاتی ہے اور ایدھی لاشوں اور زخمیوں کو اپنی ایمبولینس میں ڈال کرہسپتال کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں، انتظامیہ الزام لگاتی ہے کہ ایدھی ان لوگوں کو اپنا طرزِ زندگ بدلنے کی ترغیب کیوں نہیں دیتے جبکہ ایدھی کہتے ہیں مجرم، چور، ڈاکو، دہشت گرد یہ سب سماجی نا انصافی کی پیداوار ہیں اور سماجی انصافیوں کو ختم کرنا، ریاست کا کام ہے ایدھی کا نہیں”
وہ کہتے ہیں جزوقتی چور بے روزگاری کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر جرم ان کی عادت بن جاتا ہے ان کا خیال ہے کہ کوئی ماں ڈاکو جنم نہیں دیتی لوگوں کو برا بنانے میں سسٹم کا ہاتھ ہوتا ہے، جب سب سے بڑے لیٹروں کو خود قانون کا تحفظ ہو تو پھر عام لوگوں کو کیسے سمجھایا جاسکتا ہے۔غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے متعلق ایدھی صاحب کہتے ہیں جنرل ضیاء کے دور میں غیر سرکاری تنظیمیں پورے ملک میں خودرو پودوں کی طرح سر اُٹھانے لگیں تو ان کے کارندے ہمارے پاس بھی آنے لگے لیکن میں کسی ایسی تنظیم سے ربط و ضبط نہیں بڑھانا چاہتا تھا جس کا وجود عوام سے بالاتر ہو اور خطیر رقم سے قائم دفاتر میں افسران کو بڑی بڑی تنخواہوں کے عوض بھرتی کرکے مراعات یافتہ کارندے بنا دیا گیا ہو جو ہوائی سفر اور فائیواسٹار ہوٹلوں میں قیام کرتے ہوں ۔ نیک مقاصد کے پیچھے خودنمائی کا عنصر دیکھائی نہیں دینا چاہئے لہٰذا میں نے انہیں واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ فلاح و بہبود کے حوالے سے عیش و عشرت اور مقصد سے سچی لگن دونوں ایک وقت میں زندہ نہیں رہ سکتے یہ تو دو کشتیوں میں سواری کے مترادف ہے۔ جس شخص کے دل و دماغ میں کسی نصب العین کا جنون سما چکا ہو وہ ایسی غلطی نہیں کرسکتا۔
عبدالستار ایدھی نے زندگی کے ہرشعبے اور ہر انسانی رشتے کے ساتھ مکمل انصاف کیا وہ اپنی والدہ اور چھوٹی عمر میں حادثاتی موت مر جانے والے نواسے بلال کی جدائی کا دُکھ ہمیشہ محسوس کرتے رہے وہ اپنے ادارے کے لاوارث بچوں کو اپنے ہاتھوں سے نہلاتے ان کے ساتھ کھانا کھاتے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔ انہوںنے انسانوں کی خدمت رنگ، نسل ، مذہب اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر کی ، انسانوں کے علاوہ ایدھی فائونڈیشن میں زخمی اور لاوارث پرندوں اور جانوروں کا علاج ، معالجہ بھی ہوتا ہے ، ان کے رہنے سہنے اور کھانے پینے کا بھی معقول انتظام ہے، عبدالستار ایدھی نے وہ کام کیا جو ریاست اور حکومتوں کے کرنے کا کام تھا۔ ایدھی غریب، لاچار اور مجبور انسانوں کے مسیحا تھے امیر لوگوں کے مسیح تو یورپ اور امریکہ کے ہسپتالوں میں ہوتے ہیں جنکی فیسیں پونڈ، ڈالر اور یورو میں ادا کی جاتی ہیں غریبوں کے مسیحا نے 8جولائی 2016ء کو دارِ فانی سے اپنا رشتہ توڑ دیا مگر جاتے جاتے بھی انسانیت پر احسان ِ عظیم کرگئے اپنی آنکھیں ضرورت مندوں کو عطیہ کردیں ۔ ایدھی صاحب کی نمازِ جنازہ اور سفرِ آخرت میں شرکت کے لیے انتظامیہ نے عام لوگوں کو سہولت دینے کے بجائے ان کو خوف ذدہ کیا نیشنل اسٹیڈیم میں نمازِ جنازہ کے موقع پر پہلی تین صفحیں ریاستی مقتدرہ اور اشرافیہ کے لیے مختص کی گئیں اور ان لوگوں کو جن کا حقیقی معنوں میں ایدھی صاحب سے رشتہ تھا انہیں اس تقریب میں شریک ہی نہیں ہونے دیا اور جو شرکت کرسکے انہیں پیچھے دھکیل دیا گیا حالانکہ اس ملک کا حکمران طبقہ اور اشرافیہ ایدھی کا حقیقی معنوں میں کتنا احترام کرتا تھا اس کے متعلق عبدالستار ایدھی خود کہتے ہیں: 1982 ء میں انڈونیشیا کے صدر سوہار تو کراچی آرہے تھے مجھے ان کے استقبال کی دعوت موصول ہوئی میں اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کر ٹھیک وقت پر ایئرپورٹ پر پہنچ گیا افسران نے وی آئی پی انگلوژر تک میری رہنمائی کی وہاں موجود لوگوں کے ساتھ مصافحہ کرکے میں ان میں گھل مل گیا رسمی آداب کے مطابق ہم سرخ قالین کے اطراف میں قطاروں کی صورت میں اپنی اپنی جگہ پر کھڑے تھے اتنے میں ایک سرکاری افسر میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ پروٹوکول کے موقع پر لباس کا خاص دھیان رکھنا پڑتا ہے آپ یہ لباس تبدیل کردیں اور یا پھر یہاں سے چلے جائیں اس وقت تک میں نے خود کو مختلف محسوس نہ کیا تھا، اچانک مجھے پتہ چلا کہ واقعی ایسا ہے میری آنکھیں فرش پر دور تک سیاہ چمکتے جوتوں پر جا پڑیں جو سرخ قالین پر ہیرے، جواہرات کی طرح جڑے ہوئے دیکھائی دے رہتے تھے، سوٹ، ٹائی، واسکٹ یہ چیزیں ایک بھرپور منظر کی نمائندگی کررہی تھیں ہوائی اڈے سے مہمان خانے تک جانے والے تمام راستوں کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا تاکہ غیر ملکی مہمان اس ظاہری آن، بان اور شان کے فریب میں رہ کر پاکستان کے باطنی حالات سے واقف نہ ہوجائیں اور مہمان اپنے ملک واپس جائیں تو اس ملک کے ناداروں، محنت کشوں اور غریبوں کی حالت زار سے بے خبر پاکستان کی خوشحالی کے گیت گائیں میں دیکھنے والی ہر آنکھ کے لیے زخم تھا اور مجھ جیسے فقیر کی وہاں موجودگی نام نہاد خوشحالی کے اس مظاہرے کی نفی کررہی تھی یہ ایک کھوکھلی حقیقت تھی اس سے پہلے کہ کوئی جواب دیتا تمام خیالات لمحوں میں بیت گئے۔ میں نے کہا کیا حکومت کو مجھے مدعو کرنے سے پہلے میری حالت کا علم نہ تھا ، یا کہ یہ اتنا اہم موقع تھا کہ میں اس لیے نئے کپڑے سلواتا میرا جواب پاکر افسر مہمانداری تذبذب کی کیفیت سے دوچار لوٹ گیا کچھ دیر بعد ایک بڑا افسر آیا اور کہا ایدھی صاحب میں معذرت خواہ ہوں لیکن پروٹوکول کے ضابطے بہرصورت پورے کرنا ہوں گے، قانون کا خیال کسی کاذاتی مسئلہ نہیں آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے ساتھ باہر چلئے ، میں نے امیر کبیر اور خوش پوش لوگوں کی قطاریں دیکھتے ہوئے سوچا کہ ان کے مقابلے میں میری حیثیت کیا ہے، جو لوگ اس ڈرامائی صورت حال کو دیکھ رہے تھے انہیں جتلانے کے لیے میں نے وہاں سے نہ جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا یہ معاملہ اسی وقت طے پاگیا تھا جب آپ نے مجھے یہاں آنے کی دعوت دی تھی اب اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہی ہے، افسران بے چارگی کے عالم میں مزید مشوروں کے لیے چلے گئے قطاروں میں کھڑے لوگ خاموشی سے تماشہ دیکھتے رہے، ایدھی صاحب کہتے ہیں جو مسئلہ پریشانی کا باعث بنا اس کی نوعیت علامتی تھی کیوں کہ محنت کرنے والی خاموش اکثریت کی تو یہاں کوئی نمائندگی ہی نہ تھی جس کی زندہ مثال میں تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔

