ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے سینیٹرز اور وفاقی وزیر صحت کی اہم ملاقات،قومی اتحاد، معیشت، ترقی اور صحت کے فروغ پر تفصیلی گفتگو

اسلام آباد (این این آئی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان سے مختلف سینیٹرز اور وفاقی وزیر صحت نے ملاقات کی، جس میں ملک کی سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی صورتحال سمیت صحت عامہ سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، سیاسی استحکام اور مشترکہ کاوشیں ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہیں۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا حل کسی ایک جماعت یا فرد کے بس کی بات نہیں بلکہ اجتماعی دانش، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ہی اس کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اختلافات ہوتے ہیں لیکن قومی مفادات میں سب کو ایک صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔انہوں نے اس بات کو سراہا کہ موجودہ حکومت، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں، معاشی استحکام کے لیے جرات مندانہ اور بروقت فیصلے کر رہی ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کار دوست پالیسیوں، برآمدات میں اضافے، صنعتی بحالی اور زراعت کے شعبے میں اصلاحات جیسے اقدامات ملک کو خود کفالت کی راہ پر لے جانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔سیدال خان نے کہا کہ صحت کا شعبہ کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور حالیہ مہینوں میں صحت کے نظام میں بہتری، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی وزیر صحت اور حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔انہوں نے حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران حکومت کی بروقت اور مؤثر حکمت عملی کو بھی سراہا، جس کی بدولت عوامی جان و مال کا نقصان کم سے کم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے میں حکومت اور متعلقہ اداروں نے جس پیشہ ورانہ انداز میں کام کیا وہ قابل تقلید ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات پر بات کرتے ہوئے، سیدال خان نے ان کی قربانیوں اور جذبے کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ داخلی استحکام ہی بیرونی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع، اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ملاقات کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں قانون سازی اور پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ بھی اعادہ کیا گیا کہ صرف اجتماعی کوششوں، شفاف حکمرانی اور ادارہ جاتی استحکام کے ذریعے پاکستان ترقی، خوشحالی اور ایک باوقار قوم کی صورت میں ابھر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں