حکومت ہمارے خلاف انتقامی کارروائیو ں کا نوٹس لے، فراست علی کی پریس کانفرنس

بارکھان (این این آئی)ضلع کوہلو کے رہائشی فراست علی ولد احمد خان سومرانی مری نے ڈسٹرکٹ پریس کلب بارکھان میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میرے چھوٹے بھائی سرزمین ولد احمدخان قوم سومرانی کچھ دن پہلے ایک کھلی کچہری میں اپنی فریاد شیئر کی۔جس کے بعد میرے والد کو ڈپٹی سیکرٹری (پی اینڈ ڈی)فخرالدین ولد بنگل خان نے لیویز کی ملازمت سے فارغ کروایا کھلی کچہری کا مطلب عوام کے مسائل انکی دہلیز پر حل کرنا ہے ناکہ کسی مجبور اورغریب انسان کی زندگی کو اجیرن کرنا۔میں وزیراعلی بلوچستان،چیف سکریٹری بلوچستان اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے دست بستہ اپیل کرتا ہوں کہ مجھے انصاف دلایا جائے۔ آفیسران بالا سے اپیل ہے کہ ڈپٹی سکرٹری کی انکوئری کی جائے تاکہ کسی اور غریب یا کمزور کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آپس کا مسلہ منڈھائی میں زمین کی تقسیم کا ہے۔اس وجہ سے ڈپٹی سکرٹری نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے میرے والد کو ملازمت سے ڈس مس کروایا۔اس سے بھی ڈپٹی سکرٹری کے دل کو ٹھنڈک نہیں پہنچی تو اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرکے میرے والد اور میرے خاندان پر ناجائز ایف آئی آر کوئٹہ،سبی،کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی میں درج کروائیں۔میرے چھوٹے بھائی سرزمین ولد احمد خان نے کھلی کچہری میں ڈپٹی سکرٹری کے کارنامے آفیسران بالا اور میڈیا میں اجاگرکئے جس کی وجہ سے پیکا ایکٹ میں بوگس ایف آئی آر کوہلو میں درج کرواکر شہاب اور تنویر کی سربراہی میں پولیس کے زریعے کوہلو میں میرے گھر پر چھاپا لگوا کر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے میرے چھوٹے بھائی سرزمین جس کی عمر12سے 13سال ہے۔ اس کو گرفتار کروایا جوکہ بلوچی رسم و رواج کے بلکل خلاف ہے۔اور آخری میں بتاتا چلوں اس پریس کانفرنس کے بعد مجھ پر بھی ایف آئی آر اور گرفتار کا خدشہ ہے جس طرح میرے چھوٹے بھائی کو گرفتار کروایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں