کوئٹہ (این این آئی)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کہا ہے کہ عوامی شخصیات کی جوق در جوق شمولیت اس بات کا مظہر ہے کہ پشتونخوا نیپ کے حقیقی نظریاتی مؤقف پر عوام کا اعتماد روز بروز بڑھ رہا ہے۔ پارٹی اپنے عوام کے قومی و ملی ارمانوں کی تکمیل، قومی اہداف کے حصول اور ملی نجات کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرے گی۔انہوں نے یہ بات گزشتہ روز سمنگلی علاقائی یونٹ کے زیرِ اہتمام کلی نوروز خیل میں منعقدہ شمولیتی عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بحیثیت قوم، غیور پشتون افغان ملت شدید کسمپرسی، بدحالی اور دہشتگردی کا شکار ہے۔ اس صورتحال کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تنظیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو متحد اور منظم کریں تاکہ پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچ سکے۔تقریب میں حاجی عبدالحلیم، عبد الرحیم، سید خان، جان محمد، محمود، عبدالغفور، سعد اللہ اکا، عبدالصادق، سید حبیب، عبد النافع، نعمت اللہ، عبد المنان سمیت دیگر شخصیات کی قیادت میں 200 سے زائد سیاسی و سماجی کارکنان نے اپنے خاندانوں سمیت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر صوبائی ڈپٹی سیکریٹری ندا سنگر، ضلعی ڈپٹی سیکریٹری ملک فرید خان کاکڑ، سمنگلی علاقائی سیکریٹری عبداللہ جان اچکزئی، علاقائی سینئر معاون ملک آصف کاسی، علاقائی معاون اجمل خان کاکڑ اور داؤد خان پوپلزئی نے بھی خطاب کیا۔دریں اثنا پشتونخوا نیشنل عوامی ہزارگنجی علاقائی یونٹ کے کلی رء?سانی میں حاجی اللہ نور لالا اور حاجی اسلم کی قیادت میں 50 افراد نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر نئے ابتدائی یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تقریب سے پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن اکبر کلیوال، ضلعی سیکریٹری اطلاعات نورآغا درانی، علاقائی سیکریٹری عبیداللہ بڑیچ، علاقائی سینئر معاون منظور احمد تارن، شمس الدین اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ پشتون افغان ملت اور اس کی سرزمین پشتونخوا وطن کو مختلف ناموں پر منقسم کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب اس کے تمام قدرتی وسائل، معدنیات، جنگلات، دریاؤں اور قیمتی دھاتوں پر پنجاب کی سول و ملٹری بیوروکریسی اور وفاقی اشرافیہ نے قبضہ جما رکھا ہے۔ اس قبضے کو دوام دینے کے لیے پشتونخوا وطن پر نہ ختم ہونے والا طوفانِ دہشتگردی مسلط کیا گیا ہے جو آج بھی جاری ہے، اور حکومتی عملداری کا کہیں نام و نشان نہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلط کردہ فارم 47 کی صوبائی حکومت نے اپنے نام نہاد بجٹ میں جنوبی پشتونخوا کے اضلاع کو ترقیاتی فنڈز میں مکمل طور پر نظرانداز کر دیا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں پی ایس ڈی پی میں جنوبی پشتونخوا کے لیے کوئی بھی میگا پراجیکٹ تجویز نہیں کیا گیا، جو اس خطے کو مزید پسماندگی اور تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس وقت لاکھوں نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں جبکہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے مقررین نے مزید کہا کہ بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کے ساتھ موبائل انٹرنیٹ کی تھری جی اور فور جی سروس کی بندش نے طلبہ و طالبات اور ای کامرس سے وابستہ تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ شہر کو مکمل طور پر ڈرگ مافیا، لینڈ مافیا، چوروں اور ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، جبکہ پولیس ان جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے بجائے شہر کے چوراہوں پر کھڑے ہو کر طلبہ، ملازمین اور عام شہریوں کی موٹر سائیکلیں بند کر رہی ہے، جو کہ قابلِ مذمت عمل ہے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- بلوچستان کی ترقی کے لیے سیاسی شمولیت اور معاشی مواقع لازمی، اداریہ
- وفاقی محتسب کے حکم پر درخواست گزار کو انکا پاسپورٹ دلوا دیا گیا
- یومِ علیؑ: سندھ بھر کے تعلیمی اداروں میں 11 مارچ کو چھٹی کا اعلان
- موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث ملک کے نظریاتی تشخص، جمہوری اقدار اور آئینی بالادستی کو پس پشت ڈالا جارہا ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق
- ایران وفلسطین کیخلاف جاری ظلم و جبر،دہشت گردی پوری انسانیت کیلیے لمحہ فکریہ ہے، جماعت اسلامی کوئٹہ
- نیتن یاہواس دورکا فرعون اورنمرودہے،ڈاکٹرحاجی محمدحنیف طیب
- چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا خدمت خلق فاونڈیشن کا دورہ
- بختیار آباد میں دو قبائل میں تصادم کے نتیجے میں 8افرادزخمی
- ڈیرہ مراد جمالی،جعفرآباد پولیس کی کارروائی،فائرنگ تبادلے کے بعد3زخمیوں سمیت6ملزمان کو گرفتار کرلیا
- ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال تشویشناک،خطے میں جنگی حالات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے، لیاقت بلوچ

