پیپلز پارٹی نے سندھ کا حال بگاڑ دیا ہے، بلاول بھٹو جاگ کر احتساب کریں: خدابخش شیخ

کراچی (پریس ریلیز) سندھ قومی الائنس کے سربراہ خدا بخش شیخ نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کا حال بگاڑ دیا ہے۔ زمینوں پر قبضے، بدمعاشی، بیڈگورننس، کراچی کودنیا کا گندا اور بدترین کھنڈرات نما شہر بنا دیا ہے۔ اندرون سندھ بھی انکی بیڈ گورننس سے سندھی عوام بھی ان سے بیزار ہیں۔ وہ حکمراں ہیں جن کی کرپشن ہر لیول اور ادارے میں مشہور ہے۔ کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر وفود سے ملاقات میں انکا کہنا تھا کہ کراچی دو لسانی صوبہ ہے۔ سندھی اور مہاجر ایک دوسرے کے اٹوٹ انگ ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم لسانی فسادات چاہتے ہیں۔ انکا عوام بائیکاٹ کردیں۔ کے بی شیخ نے عبدالحکیم لغاری، رئیس خانزادہ، کریم جتوئی، نادیہ گبول اور مسعود قائم خانی کے ہمراہ وفود سے گفتگو میں کہا کہ کراچی کو قبرستان بنایا جا رہا ہے۔ اورنگی ٹاؤن میں تاریخ کی بدترین کرپشن اور چائناکٹنگ ہو رہی ہے۔ کے ایم سی اور ٹی ایم سیز کرپشن کا گڑھ ہیں۔ واٹر بورڈ کرپشن مافیا کے ہاتھ میں چلا گیا ہے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ نیو کراچی، سرجانی، کورنگی اور کیماڑی، ہاکس بے، ویسٹ کے متعدد علاقوں میں لسانی جماعت کے کرمنلز چائناکٹنگ کر رہے ہیں۔ میئر کی سرپرستی میں سسٹم چل رہے ہیں۔ رشوت دوپوسٹنگ لو۔ جعلسازی اور جعلی افسران کو بھاری رشوتیں لے کر اہم عہدوں پر لگا دیا گیا ہے۔ کراچی کے بلدیاتی ادارے لوٹ سیل لگائے بیٹھے ہیں۔ مافیاز کا راج ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے اورنگی کے لوگ ملنے آئے اور بتایا کہ کرمنل افراد قبضے کرا رہے ہیں۔ فیصل، عاصم نامی بدمعاش کھلے عام لاکھوں روپے لے کر جو چاہے پلاٹ لے لے فوری فیملی لائے اوربیٹھ جائے۔ فلاحی زمینوں کو بیچ رہے ہیں الاٹمنٹ رجسٹر بدل رہے ہیں۔ انکے ساتھ سندھی اور بلوچ بھی اس کھیل میں شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنرز اور بلاول ہاؤس کے نام سے چائنا کٹنگ ہو رہی ہے۔ افضل زیدی نامی افسر روزانہ وصولی کرکے میئر کے سسٹم کو پیسے بانٹ رہا ہے۔ سسٹم کے وہ افراد شامل ہیں جنکی نیب اور حساس ادارے لسٹیں جاری کرچکے ہیں۔ کے ایم سی کے بدنام افسران کو کمائی کے لئے لگایا گیا ہے۔ نیب سے ضمانتوں پر آئے افسران رشوتین دے کر ان عہدوں پر ہیں جہاں تعیناتی ممکن نہیں۔ کے بی شیخ نے کہا کہ فیلڈمارشل کو نوٹس لینا ہوگا۔ انتظامی یونٹس قائم کرانے ہوں گے تاکہ طبقاتی اور لسانی جنگ ختم ہو۔ مقامی افراد کو روزگارملے۔ لینڈ مافیا کے کھلاڑی ایک وزیر کی سرپرستی میں اورنگی ڈرامہ چل رہا ہے۔ حد یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے ضلع غربی کے عہدیداروں نے اپنی قائد کو بھی نہیں بخشا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اسٹیڈیم کی جگہ نیا ناظم آباد کو کئی کروڑ لے کر بیچ دی۔ سسٹم، پی ڈی اورنگی اور ویسٹ پی پی پی نے یہ کام کیا بلاول بھٹو سو رہے ہیں جاگ جائیں۔ احتساب شروع کریں۔ میئر کراچی کی سرزنش کریں۔ لسانی جماعت کے دہشت گردوں اور انکے افسر کو فوری فارغ کیا جائے۔ مہاجر ہمارے بھائی ہیں۔ نہ سندھی کے ساتھ زیادتی ہو اور نہ مہاجر کے ساتھ۔ کے بی شیخ نے وزیر اعلی سندھ سے فوری کاروائی اور بلاول بھٹو سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کراچی کی ترقی کے لئے فوری اقدامات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں