کوئٹہ(این این آئی)امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی، سیاسی قیدیوں کی رہائی،بارڈربندش کے خلاف ہم نے بھرپورجدوجہدکیااورآئندہ بھی حقوق بلوچستان کیلئے ہرسطح پر جدوجہد کریں گے۔بلوچستان کے مسائل کاحل دیندارعوام سے مخلص قیادت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر میں تقاریب سے خطاب اوروفودسے سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیاانہوں نے کہا کہ ووٹرزسے کیے گیے وعدے پورا کرنے کاپابنداوراحتساب کیلئے ہروقت تیارہو۔میرے اورجماعت اسلامی کے دروازے ہرفرد کیلئے ہروقت کھلے ہیں اسلام آباد کے طاقتورطبقات وحکمران ہمارے مسائل کے ذمہ دار ہیں بلوچستان وسائل سے مالا مال مگردیانتدارعوام میں عوام کے مخلص حکمرانوں ومنتخب نمائندوں کافقدان ہے۔بلوچستان میں جبری گمشدگیاں،طاقت کا بے دریغ استعمال فوجی آپریشن،لاپتہ افراد کی بازیابی کے بجائے مسخ شدہ لاشیں پھینکنے،لوگوں کو روزگاردینے کے بجائے تاجروں کی قانونی تجارت بارڈرزبندکیے گیے ہیں۔عوام کی جان ومال کی حفاظت کے بجائے مین بڑی شاہراہیں اکثر بند،سفرکومحفوظ بنانے کے بجائے ٹرین سروس بھی بندکیاگیاہے رات کاسفربند،لوگوں کوروزگاردینابندکیاگیاہے میرٹ کے بجائے سفارش اقرباپروری ورشوت کابازارگرم ہیں۔عوام تاجرطلباء سب بدحال نوجوان پریشان ہیں۔اسلام آباد میں مائیں بہنیں اپنے جگرگوشوں کی بازیابی اوررہائی کیلئے احتجاج پرہیں حکومت ازلی دشمن بھارت سے تومذاکرات تجارت توکررہے ہیں لیکن اسلام آباد میں بلوچستان کے احتجاج پربیٹھے ماوں،بہنوں سے قانونی مذاکرات بھی نہیں کررہے جوظلم وزیادتی ہیں۔بدقسمتی سے بلوچستان میں جمہوری جدوجہد کرنے والے سیاسی ورکرزسیاسی لیڈرز کو بھی پہاڑوں پرجانے پرمجبورکیاجارہاہے اورپہاڑوں پرجانے والوں کوتوپہلے سے غدارودہشت اورملک دشمن ڈکلیرکردیاگیا ہے۔جماعت اسلامی نے بلوچستان کوحقوق دلانے،لاپتہ افرادکی بازیابی،بارڈرزبندش ختم کرنے،ٹرالرزمافیاز،ایف سی وسیکورٹی فورسزکے مظالم سے نجات،سی پیک کے ثمرات کے حصول کیلئے کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ کیااگرہمارے قانونی جمہوری حقوق تسلیم نہیں کیے گیے لانگ مارچ شرکاء سے کیے گیے وعدوں پرعمل درآمدنہیں کیاگیاتوپھرلانگ مارچ واحتجاج کریں گے

