بلوچستان: جنگ نہیں، بات چیت کا وقت

اداریہ

بلوچستان کا مسئلہ کوئی نیا نہیں۔ اس قومی وحدت میں 1948 سے لے کر آج تک پانچویں سرکشی جاری ہے، جس کے دوران مذاکرات اور تصادم دونوں کے دورانیے آتے رہے ہیں۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ماضی میں ہونے والے فوجی آپریشنوں کے طویل المدتی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے، بلکہ انہوں نے صورتِ حال کو مزید الجھانے کا کام کیا ہے۔

موجودہ حکمتِ عملی کی ناکامی اس امر کی غماز ہے کہ محض طاقت کے بل بوتے پر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوئیں۔

سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے سوال کا احوال ہی سوچنے پر مجبور کر دینے والا ہے: “آپریشن تو بائیس سال سے جاری ہے، لیکن کیا کوئی بہتری آئی ہے؟

حالات پہلے سے زیادہ خراب ہیں۔” یہ سوال ہمارے سامنے ایک بنیادی سوال رکھتا ہے: کیا ایک ہی راستے پر بار بار چل کر ہم مختلف منزل کی توقع کر رہے ہیں؟

اس صورتِ حال میں سیاسی حل کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایک پائیدار اور دیرپا حل کے لیے وسیع تر سیاسی عمل میں سب کی شمولیت ناگزیر ہے۔ تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حقیقی سیاسی نمائندگی، تمام اہم فریقین کے ساتھ جامع مذاکرات، اور انسانی حقوق کے مسائل پر سنجیدہ توجہ ہی وہ بنیادی ستون ہیں جن پر پرامن بلوچستان کی عمارت استوار ہو سکتی ہے۔

عوامی تحفظات کو سمجھنا اور ان کا ازالہ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ صوبے کے عوام میں ریاست کے خلاف گہری بداعتمادی کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ لاپتہ افراد کا المیہ، بنیادی سہولیات سے محرومی، اور معاشی محرومیاں وہ بنیادی مسائل ہیں جنہوں نے اس بحران کو ہوا دی ہے۔ جب تک عوامی سطح پر اعتماد کی فضا بحال نہیں ہوتی، کوئی بھی حل پائیدار ثابت نہیں ہو سکے گا۔

بین الاقوامی تجربات ہمارے سامنے راہنما اصول پیش کرتے ہیں۔ شمالی آئرلینڈ اور انڈونیشیا کے آچے جیسے کامیاب امن معاہدوں نے ثابت کیا ہے کہ طاقت کے بجائے مذاکرات اور سیاسی سمجھوتوں کے ذریعے پرانی لڑائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ ان ہی تجربات سے سیکھتے ہوئے ہمیں بلوچستان کے لیے ایک ایسا ہی جامع اور بااختیار سیاسی عمل شروع کرنا چاہیے۔
خلاصہ یہ کہ بلوچستان کا معاملہ بنیادی طور پر سیاسی ہے اور اس کا حل بھی سیاسی عمل اور مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ فوجی طاقت کا استعمال ماضی میں صرف عارضی اور سطحی حل لے کر آیا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں علیحدگی پسند گروہوں کو مزید تقویت ملی ہے۔ ایک پرامن اور خوشحال بلوچستان کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر اہم فریقین کو اعتماد میں لے کر ایک جامع سیاسی اتفاق رائے پیدا کرے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم تلواروں کے زور پر فتح حاصل کرنے کے بجائے ذہنوں اور دلوں کو جیتنے کی طرف توجہ مرکوز کریں۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جن جنگوں کا اختتام بات چیت کی میز پر ہوتا ہے، وہی مستقبل کے لیے پرامن راستہ کھولتی ہیں۔
اداریے میں جن دو بین الاقوامی امن معاہدوں کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کی مختصر وضاحت یہ ہے:

· شمالی آئرلینڈ: یہاں 1968 سے 1998 تک “مشکلات” نامی ایک تنازعہ جاری رہا، جو بنیادی طور پر نسلی و قومی بنیادوں پر تھا . اس میں تقریباً 3,532 افراد ہلاک ہوئے . 1998 میں بیلفاسٹ معاہدے نے اس تنازعے کو پرامن سیاسی عمل میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا . یہ معاہدہ طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے پرانی لڑائی کے خاتمے کی ایک کامیاب مثال ہے۔
· انڈونیشیا کے صوبہ آچے کا معاملہ: انڈونیشیا کے صوبہ آچے میں “آزادی آچے تحریک” کے نام سے ایک علیحدگی پسند مسلح تحریک چلتی رہی، جس نے دہائیوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں ہزاروں جانیں گنوائیں۔ 2005 میں حکومت انڈونیشیا اور “آزادی آچے تحریک” کے درمیان ہلسنکی امن معاہدہ طے پایا، جس کے نتیجے میں تشدد کا خاتمہ ہوا اور آچے کو خصوصی خودمختاری دے دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں