گوادر پورٹ اور بلوچستان کے عوام کے خدشات

اداریہ

بلوچستان کے عوام کو گوادر پورٹ کے حوالے سے جو خدشات لاحق ہیں، وہ بنیادی طور پر معاشی، سماجی اور سیاسی نوعیت کے ہیں۔ ذیل میں ان خدشات اور ان کے پس منظر میں موجود حقائق کی ایک جامع تصویر پیش کی گئی ہے۔

بلوچ عوام کے بنیادی خدشات

بلوچستان کے عوام اور سیاسی جماعتوں کے گوادر پورٹ کے حوالے سے درج ذیل خدشات ہیں:

· معاشی محرومی اور وسائل پر حق کا فقدان: سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ گوادر پورٹ اور اس سے وابستہ عظیم الشان منصوبوں، خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے فوائد مقامی بلوچ آبادی تک نہیں پہنچ رہے . ان کا موقف ہے کہ صوبے کے قدرتی وسائل، بشمول اس کی سٹریٹجک بندرگاہ، پر مقامی لوگوں کا حق تسلیم نہیں کیا جا رہا .
· آبادیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کا خوف: قوم پرست جماعتوں کو یہ خدشہ ہے کہ گوادر اور اس کے گردونواح میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں اور روزگار کے مواقع کے ذریعے دوسرے صوبوں سے لوگوں کو لا کر آباد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی بلوچ آبادی اپنے ہی صوبے میں “اقلیت” میں تبدیل ہو جائے گی .
· بنیادی سہولیات سے محرومی: گوادر جیسے ترقی کے مرکز میں بھی مقامی لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں . ترقی کے نام پر بننے والے میگا پراجیکٹس کے باوجود ان مسائل کا حل نہ ہونا عوامی عدم اطمینان کی ایک بڑی وجہ ہے۔
· روزگار کے مواقع نہ ملنا: بندرگاہ اور اس سے جڑے منصوبوں میں مقامی لوگوں، خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہ دیے جانے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے . مثال کے طور پر، 2007 میں پورٹ کے افتتاح کے موقع پر بے روزگار نوجوانوں نے اس بات پر احتجاج کیا تھا کہ کراچی کے نوجوانوں کو نوکریاں دی گئی ہیں جبکہ مقامی تعلیم یافتہ نوجوان نظر انداز ہو رہے ہیں .
· پابندیاں اور شہر کا “سیف سٹی” میں تبدیل ہونا: حکومت کی جانب سے گوادر کے اردگرد حفاظتی باڑ لگانے کے منصوبے پر مقامی لوگوں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے . ان کا ماننا ہے کہ اس سے ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہوں گی، ان کی زرعی زمینیں اور آبائی علاقے ان سے چھن جائیں گے، اور ماہی گیری جیسے روایتی ذرائع معاش متاثر ہوں گے . اسے عوام کے بنیادی آئینی حقوق پر قدغن سمجھا جا رہا ہے .

حکومتی موقف اور زمینی حقائق

حکومتی نقطہ نظر اور زمینی حقائق کچھ اس طرح ہیں:

· قومی معیشت کے لیے موقع: حکومت گوادر پورٹ کو پاکستان کی معاشی خوشحالی اور خطائی اہمیت کے حصول کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتی ہے . اسے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا دل سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے ممالک جیسے افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے تجارتی راستے کھولے گی .
· ترقی اور سیکیورٹی کے اقدامات: حکومت کی رائے میں “سیف سٹی” جیسے منصوبے شہر میں دہشت گردی کے واقعات اور اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے ضروری ہیں . غیر ملکی سرمایہ کاروں، خاص طور پر چینی شہریوں پر حملوں کے واقعات کے پیش نظر سیکیورٹی کے یہ اقدامات ناگزیر ہیں .
· ترقی کے وعدے اور عملی صورت حال: گوادر پورٹ کے منصوبے پر عملی کام 2002 میں شروع ہوا اور 2007 میں اس کا افتتاح ہوا . اسے چین کی مالی معاونت سے مکمل کیا گیا . تاہم، یہ منصوبہ شروع سے ہی سیاسی اور انتظامی تنازعات کا شکار رہا، جیسا کہ 2013 میں بندرگاہ چلانے کا معاہدہ سنگاپور کی کمپنی سے لے کر ایک چینی کمپنی کے حوالے کرنے کے فیصلے پر شفافیت کے سوالات اٹھے .

نتیجہ اور مستقبل کے امکانات

خلاصہ یہ کہ گوادر پورٹ ایک ایسا محاذ ہے جہاں قومی معاشی مفادات اور صوبائی عوامی توقعات کے درمیان مصالحت کی شدید ضرورت ہے۔ بلوچ عوام کے خدشات محض نظریاتی نہیں بلکہ بنیادی سہولیات، روزگار اور سماجی تحفظ جیسے عملی مسائل سے پیدا ہو رہے ہیں۔

مستقبل میں اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ:

· جامع حکمت عملی: حکومت مقامی لوگوں کو ترقیاتی عمل کا حصہ بنائے، انہیں روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرے، اور گوادر کی ترقی کے فوائد براہ راست مقامی آبادی تک پہنچانے کے لیے ایک جامع اور شفاف حکمت عملی اپنائے۔
· اعتماد سازی: صوبائی سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائیندوں کے ساتھ مستقل رابطے اور بات چیت کے ذریعے اعتماد کو بحال کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں