اداریہ
بلوچستان کا نام سُن کر ہی ذہن میں وسائل کی ریل پیل، گوادر بندرگاہ کی جغرافیائی اہمیت اور سیاسی اتھل پتھل کی ایک تصویر ابھرتی ہے۔ یہ قومی وحدت محض پاکستان کا ایک حصہ نہیں، بلکہ ملک کی معاشی اور جغرافیائی سیاسی سالمیت کا ایک نہایت اہم ستون ہے۔
بلوچستان پاکستان کے قدرتی وسائل کا ایک ایسا خزانہ ہے جس کی مثال ملک کے کسی دوسرے صوبے میں نہیں ملتی۔
یہ صوبہ قیمتی دھاتوں اور معدنیات سے مالا مال ہے۔ ریکو ڈک اور سینڈک کے ذخائر میں سونا، چاندی اور تانبا کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن کی مالیت چھ کھرب ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہاں لتھیم (Lithium) کے ذخائر بھی دریافت ہوئے ہیں، جسے “مستقبل کی دھات” کہا جاتا ہے اور یہ برقی گاڑیوں کی بیٹریوں میں استعمال ہوتی ہے۔
پاکستان کے 55 فیصد کوئلے کے ذخائر بلوچستان میں واقع ہیں۔ سوئی کے مقام سے ملنے والی قدرتی گیس 1955ء سے پورے ملک کو سپلائی کی جا رہی ہے۔
اگرچہ صوبے کا محض 5% رقبہ قابل کاشت ہے، زراعت اور لائیو سٹاک صوبائی معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں، جو کل معیشت میں 47 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔
بلوچستان پاکستان کی جغرافیائی سیاسیات میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔
بلوچستان کی ایران کے ساتھ 832 کلومیٹر اور افغانستان کے ساتھ 1120 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ یہ پاکستان کو مغرب کی طرف زمینی راستے سے جوڑتا ہے۔
صوبے کے پاس 760 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہےجس پر گوادر بندرگاہ واقع ہے۔ گوادر دنیا کی گہرے پانی کی اہم بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔
چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) سی پیک کا دل و عصْر گوادر بندرگاہ ہے، جو چین اور پاکستان کے درمیان تجارت اور توانائی کے حصول کا اہم راستہ بنے گا۔ اس منصوبے نے بلوچستان کی سٹریٹجک اہمیت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ بلوچستان کی سٹریٹجک اہمیت اسے غیر ملکی مفادات کیلئے بھی کشش کا مرکز بنا دیتی ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خطے میں امریکہ اور چین کے درمیان مقابلہ بلوچستان پر مرکوز ہے، جس کا مقصد یہاں کے معدنی ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
وسائل اور اہمیت کے باوجود، بلوچستان پاکستان کے سب سے زیادہ پسماندہ صوبوں میں سے ایک ہے۔
صوبے کے اقتصادی اور سماجی اشاریے افغانستان اور یمن جیسے ممالک سے ملتے جلتے ہیں۔ یہاں غربت کے شرح دیگر صوبوں سے کہیں زیادہ ہے۔
صوبے کے باسی بنیادی سہولیات جیسے کہ تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ خود سوئی کے باسی، جہاں سے گیس ملکی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں، آج بھی گیس سے محروم ہیں۔
بلوچستان میں پاکستان کے ساتھ الحاق کو لے کر ابتدا ہی سے سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا ہے۔ یہ صوبہ دہائیوں سے مسلح تنازعے کا شکار ہے، جس کی وجہ سے امن و امان کی صورت حال ابتر ہے
بلوچستان کے مسائل کا حل فوجی کارروائیوں کے بجائے سیاسی اور معاشی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔
بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔ ریکو ڈک اور سینڈک جیسے منصوبوں میں مقامی لوگوں کو اعلیٰ ملازمتوں اور منافع میں حصہ داری دی جانی چاہیے۔
صوبے میں بین الاقوامی معیار کے تعلیمی ادارے، خاص طور پر معدنیات اور ووکیشنل ٹریننگ کے ادارے قائم کئے جانے چاہئیں۔
ریاست کو بلوچ سیاسی جماعتوں اور قائدین کے ساتھ پرامن مکالمے کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ محرومیوں کے احساس کو دور کیا جا سکے۔
بلوچستان پاکستان کے لیے محض ایک صوبہ نہیں، بلکہ ملک کی معاشی خوشحالی اور جغرافیائی سیاسیاتی استحکام کی کنجی ہے۔ اس کے معدنی ذخائر اور گوادر بندرگاہ ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ تاہم، اس خزانے تک رسائی ایک ایسے صوبے کو انصاف، ترقی اور بااختیار بنانے سے مشروط ہے جو دہاہیوں سے محرومی اور نظر اندازی کا شکار چلا آ رہا ہے۔ بلوچستان کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کے مسائل کے حل کے بغیر پاکستان کی ترقی کا سفر ادھورا رہے گا۔

