گوادر پورٹ: بین الاقوامی کمپنیوں کی ناکامیوں کا شاخسانہ

اداریہ

گوادر۔ پاکستان کے سب سے بڑے اسٹریٹیجک منصوبوں میں سے ایک۔ جسے ملکی معیشت کا مستقبل قرار دیا جاتا رہا ہے۔ مگر آج تک یہ پورٹ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے سے قاصر ہے۔ باہر کی کمپنیاں ایک کے بعد ایک اسے چلانے میں ناکام ہوتی جا رہی ہیں

ابتدائی طور پر سنگاپور کی معروف کمپنی PSA International کو 2007 میں پورٹ چلانے کا معاہدہ دیا گیا۔ 40 سال پر محیط اس معاہدے میں کمپنی کو ٹیکس میں متعدد چھوٹیں بھی دی گئیں۔ مگر 2007 سے 2013 تک کے چھ سالہ دورانیے میں PSA پورٹ کو “مطلوبہ طریقے” سے چلانے میں ناکام رہی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ رپورٹس کے مطابق PSA اپنے پورٹ دورانیے میں ایک بھی تجارتی جہاز گوادر پورٹ پر نہیں لا سکی۔

2013 میں پاکستانی کابینہ نے PSA سے چینی اسٹیٹ ہولڈنگ کمپنی چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگز کمپنی لمیٹڈ (COPHC) کو انتظامیہ منتقل کرنے کی منظوری دی۔ مگر نئی کمپنی بھی انہی مسائل کا شکار ہوئی جو PSA کی ناکامی کا باعث بنے:

چینی کمپنی COPHC کے آپریشنز کا دارومدار بھی بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی کے حوالے سے حکومت پاکستان کے اقدامات پر ہے۔ حکومت نے گوادر کو علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے لیے نئی شپنگ لائنیں قائم کرنے اور خلیجی ممالک کے لیے فیری سروس متعارف کرانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ مگر ان منصوبوں کے بغیر پورٹ کی صلاحیتیں مکمل طور پر بروئے کار نہیں آسکتیں۔

ترقیاتی منصوبوں سے مقامی بلوچ آبادی کے مفادات کو یک طرفہ طور پر نظرانداز کیے جانے کے خدشات بھی موجود ہیں۔ یہ صورتحال تنازعات کا باعث بنتی ہے، جس سے پورٹ کے آپریشنز متاثر ہوتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں روزگار کے مواقع نہیں مل رہے اور ترقی کے نام پر ان کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔

حکومت پاکستان گوادر پورٹ کو فعال بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کے تحت گوادر کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ مگر سیکیورٹی، بنیادی ڈھانچے اور مقامی آبادی کے اعتماد جیسے پیچیدہ مسائل کے حل کے بغیر گوادر پورٹ کی کامیابی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔

گوادر پورٹ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے جو ضائع ہوتا جا رہا ہے۔ پورٹ کا انتظام PSA سے COPHC کو منتقل کرنا درحقیقت پہلے آپریٹر کی کارکردگی کی ناکامی کا براہ راست نتیجہ تھا۔ اگرچہ نیا آپریٹر چینی ادارہ ہے، لیکن پورٹ کی کامیابی اب بھی بنیادی طور پر پاکستانی حکومت پر انحصار کرتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سیکیورٹی، بنیادی ڈھانچے اور مقامی آبادی کے اعتماد جیسے مسائل پر فوری توجہ دے تاکہ گوادر پورٹ اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں