سوویت یونین کا انہدام

اداریہ
سوویت یونین کے انہدام کے لیے کوئی ایک وجہ ذمہ دار نہیں تھی، بلکہ یہ تاریخی، معاشی، سیاسی اور عسکری دباؤ کا مجموعہ تھا۔ یہ کہنا کہ صرف سوشلزم کی ناکامی اس کی وجہ بنی، درست تصویر پیش نہیں کرتا۔ درحقیقت، نظام میں اصلاحات لانے کی آخری کوششوں نے بھی اس کے بکھراؤ کو تیز کر دیا۔
سخت گیر اور مرکزی حکومت: ملک پر کمیونسٹ پارٹی کی مکمل اجارہ داری تھی، جس میں تمام فیصلے ایک چھوٹی سی کمیٹی (پولٹ بیورو) کرتی تھی اس ڈھانچے نے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ پیدا کر دیا تھا۔
میخائل گورباچوف نے 1985 میں پیریسٹرویکا (معاشی تنظیم نو) اور گلاسنوسٹ (سیاسی کھلے پن) کی پالیسیاں متعارف کرائیں ان اصلاحات کا مقصد نظام کو بچانا تھا، لیکن اس کے برعکس، ان کے نتیجے میں حکومتی کنٹرول کم ہونے سے معیشت میں خلل پڑا، قلت اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ۔ سیاسی کھلے پن سے وہ دبائی ہوئی قوم پرست تحریکیں ابھر کر سامنے آئیں، جنہوں نے ماسکو سے علیحدگی کی مانگ کی ۔
گلاسنوسٹ کی وجہ سے عوام میں سیاسی شعور بڑھا اور جمہوریت کی مانگ میں اضافہ ہوا، جس نے یک جماعتی نظام کے لیے مشکلات پیدا کر دیں ۔
سوویت معیشت پنج سالہ منصوبوں کے تحت چلائی جاتی تھی، جو بدلتے وقت کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکی ۔ 1980 تک سوویت یونین کا جی ڈی پی امریکہ سے آدھا رہ گیا تھا ۔
ریاست کو معیشت کے ہر شعبے میں بھاری سبسڈی دینی پڑتی تھی، جس کی وجہ سے وسائل برباد ہو رہے تھے ۔
عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے سوویت یونین کی برآمدی آمدنی کو شدید نقصان پہنچایا، جو اس کی معیشت کا ایک اہم ستون تھی ۔
افغانستان میں جنگ نے سوویت معیشت کو تباہ کن مالی بوجھ سے دوچار کر دیا، جسے اس کے سنبھالنا مشکل تھا ۔
امریکہ کے ساتھ مسلح اسلحہ کی دوڑ نے ملکی وسائل پر زبردست دباؤ ڈالا ۔ سوویت یونین میں شامل مختلف جمہوریاؤں، جیسے بالٹک ریاستوں، یوکرین اور دیگر میں مقامی قوم پرستی کی لہریں ابھرنے لگیں، جنہوں نے مرکز سے آزادی کا مطالبہ کیا ۔
· عوامی بے چینی: لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہونے، اشیاء کی قلت جیسے سماجی مسائل سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ۔
یہ کہنا درست ہو گا کہ سوویت یونین کا مخصوص ماڈل ناکام ہوا، نہ کہ سوشلزم کا نظریہ۔ سوویت ماڈل انتہائی مرکزی اور بیوروکریٹک تھا، جو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھلنے میں ناکام رہا ۔
گورباچوف کے بقول، نظام “عوام کی روحانی ضروریات” پوری کرنے میں ناکام رہا تھا ۔
جب گورباچوف نے نظام کو بچانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائیں، تو ان کی رفتار اور نوعیت نے پہلے سے کمزور ڈھانچے کو اتنا ہلا کر رکھ دیا کہ وہ یکدم بکھر گیا ۔
سوویت یونین کا زوال کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ دہائیوں کی معاشی ناکامی، سیاسی جمود، سرد جنگ کے بوجھ، اور پھر ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے اٹھائے گئے اصلاحی اقدامات کے غیر متوقع اور تباہ کن نتائج کا مجموعہ تھا۔ اس لیے یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ سوویت یونین کا عہد زوال کے عوامل کا شکار ہو کر ٹوٹا، نہ کہ محض سوشلزم کی نظریاتی ناکامی کی وجہ سے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں