اداریہ
میر غوث بخش بزنجو نے محکوم قوموں اور پسے ہوئے طبقات کے لیے ایک طویل اور انتھک جدوجہد کی، جو ان کی مضبوط سیاسی بصیرت اور عوام سے گہرے عہد کی غماز ہے۔
میر غوث بخش بزنجو (پیدائش: 1917ء – وفات: 15 فروری 1989ء) بلوچستان کے ممتاز قبائلی رہنما، سیاست دان تھے اور 1972ء سے 1973ء تک بلوچستان کے گورنر بھی رہے۔ انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی محکوم قوموں، پسے ہوئے طبقات اور بلوچستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف کردی۔
میر بزنجو صاحب کی جدوجہد کا محور ہمیشہ پسے ہوئے طبقات اور محکوم قوموں کے حقوق کو طاقتور حکمرانوں کے سامنے مضبوطی سے کھڑا کرنا تھا۔
ان کا ماننا تھا کہ “پسے ہوئے طبقات کو طاقتور لوگوں کے مقابلے میں اتحاد کرنا ہوگا اور اپنے اندر سے لوگوں کو اسمبلیوں میں پہنچانا ہوگا”. یہ نقطہ نظر ان کی اس گہری سمجھ کو ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی تبدیلی کا راستہ عوامی اتحاد اور نمائندگی سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہیں “بابائے جمہوریت” کہا جاتا تھا. انہوں نے ہمیشہ جمہوری اقدار کی پاسداری کی اور آمرانہ حکومتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
ان کی جدوجہد میں قومی حقوق کی بحالی اور طبقاتی استحصال کے خلاف جنگ دونوں شامل تھیں۔ ان کے ہم عصر رہنما میر گل خان نصیر جیسے سوشلسٹ رہنماؤں کے ساتھ مل کر ان کا نظریہ یہ تھا کہ قومی اور طبقاتی جدوجہد ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں.
بزنجو صاحب کا سیاسی سفر بہت سے نشیب و فرز سے گزرا، جس میں قید و بند کی صعوبتیں بھی شامل تھیں:
1938ء: قلات نیشنل پارٹی کے عہدیدار بنے۔
مارچ 1948ء: گرفتار ہوئے اور خضدار جیل بھیج دیے گئے۔
1954ء: استمان گل (عوام الناس کی پارٹی) بنائی، جو بعد میں پاکستان نیشنل پارٹی (PNP) میں ضم ہو گئی۔
1957ء: پاکستان نیشنل پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی (NAP) بن گئی اور بزنجو اس کے لیڈر بنے۔
1958ء: ایک بار پھر گرفتار ہوئے اور جیل میں ان پر سخت تشدد کیا گیا۔
1970ء کے انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی کو بلوچستان میں مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔
1972-1973ء: بلوچستان کے گورنر مقرر ہوئے، لیکن یہ حکومت ایک سال بھی پوری نہ ہو سکی۔
1973 سے 1978ء تک: پھر سے گرفتار ہوئے اور مسلسل پانچ سال قید میں رہے۔
بزنجو صاحب کی سیاست کا مرکز و محور عوام تھے۔ وہ اس بات کے سخت خلاف تھے کہ وہ امیر طبقہ جو کروڑوں روپے خرچ کرکے اسمبلیوں میں پہنچے، غریب عوام کے مسائل کو سمجھ سکتے ہیں. ان کا ماننا تھا کہ ایسے حکمران جو خود مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، وہ غریب عوام کے مسائل کو کیسے حل کر سکتے ہیں۔
میر غوث بخش بزنجو کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ حقیقی تبدیلی اور ترقی کا راستہ عوام کے بااختیار ہونے، ان کے متحد ہونے اور ان کی اسمبلیوں میں حقیقی نمائندگی سے ہو کر گزرتا ہے۔

