کراچی (این این آئی) وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار اور صوبائی وزیر برائے توانائی پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ سید ناصر حسین شاہ کی مشترکہ صدارت میں منعقدہ اجلاس میں سندھ میں جاری ترقیاتی اور پایہ تکمیل سمیت آئندہ کی ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا گیا اور مذید ضروری ہدایات دی گئیں۔اجلاس میں چیئرمین پی اینڈ ڈی،سیکریٹری داخلہ،آئی جی سندھ ڈی جی سیف سٹی سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے جملہ ٹیکنیکل ایشوز کا جائزہ لیکر انھیں جلد از جلد دور یا ختم کیا جائے جبکہ اس حوالے سے سیف سٹی میں موجود ممکنہ کمی اور خامیوں کو دور کرنے پر بھی خصوصی فوکس رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ فائیو جی کا دور ہے اور میری خواہش ہیکہ سیف سٹی پروجیکٹ کے نیٹ ورک کو ایل ٹی ای/ فور جی کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ اور اسکا مکمل طور پر فعال ہونا میری اولین ترجیح ہے اور جب تک پہلے فیز کی تکمیل نہیں ہوجاتی میرا فوکس صرف اسی پروجیکٹ پر رہیگا۔لہذا ضرورت اس امر کی ہیکہ ہنگامی طور پر پی سی ون کا جائزہ لیکر جملہ خامیوں کو ختم کی جائیں۔صوبائی وزیر توانائی و پی اینڈ ڈی سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پروجیکٹ میں ممکنہ فالٹی چیزوں کو ٹھیک کیا جائے اور اس ضمن میں جاری تمام اقدامات کو انتہائی مثر و مربوط بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ سیکریٹری داخلہ،ڈی جی پی ڈی،آئی ٹی اور ٹیکنیکل ماہرین پر مشتمل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ کمیٹی اپنی ذمہ داری کے تحت پروجیکٹ میں کسی کمی اور خامی کو دور کرنے جیسی ذمہ داری بطریق احسن انجام دے سکے۔وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس ہماری فرنٹ لائن فورس ہے اور کچہ ایریاز ہی نہیں بلکہ شہروں میں بھی جرائم کے خلاف ہراول دستے کا کردار ادا کررہی ہے جبکہ جاری ترقیاتی پروجیکٹ میں پولیس لائن،پولیس تربیتی مراکز اور سی ٹی ڈی کمپلیکسز کو شامل کرنا میری ترجیح ہے جسکا مقصد بہتر سے بہتر رہائش فراہم کرتے ہوئے پولیس کے مورال کو بلند کرنا ہے۔انہوں نے میرے نزدیک سیف سٹی پرائمری جبکہ فارنزک لیب کا قیام سیکنڈری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایس پیز ایس بی اے اور کشمور کے دفاتر کی بھی تزئین و آرائش کے اقدامات کیئے جائیں۔

