نواب خیر بخش مری — بلوچ سیاست کا درویش انقلابی

اداریہ

جب بینظیر بھٹو نے نواب خیربخش سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے کہا کہ “اگر تم پاکستان کی سابق وزیراعظم کے طور پر آنا چاہ رہی ہو تو مت آنا، اور اگر سندھ کی بیٹی بن کر آنا چاہ رہی ہو تو خوش آمدید” ۔

نواب خیر بخش مری بلوچستان کی تاریخ کی ایک پیچیدہ اور متنازع شخصیت رہے ہیں، جنہیں بلوچ قوم پرستی اور مسلح مزاحمت کا ایک اہم معمار سمجھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی نظریاتی commitment، سیاسی جدوجہد اور ذاتی قربانیوں کی ایک ایسی داستان ہے جو بلوچ عوام کے لیے ان کی گہری وابستگی کا عکاس ہے۔

نواب خیر بخش مری 28 فروری 1928 یا 1929 کو کوہستانِ مری کے علاقے کاہان میں نواب مہر اللہ خان مری کے ہاں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی، بعد میں لاہور کے ایچی سن کالج سے تعلیم مکمل کی ۔ 1950 کی دہائی میں وہ مری قبیلے کے سردار بنے اور بلوچستان کی سیاست میں سرگرم حصہ لینے لگے ۔

ان کی سیاسی سوچ پر مارکسزم اور قوم پرستی دونوں کے گہرے اثرات تھے ۔ وہ ایک ایسے انقلابی رہنما کے طور پر ابھرے جس نے قبائلی روایات کی بہت سی فرسودہ رسوم، جیسے سردار کے آگے جھک کر سلام کرنا، کو مسترد کر دیا ۔

خیر بخش مری نے اپنی پوری زندگی بلوچ عوام کے حقوق اور بلوچستان کی آزادی کے نظریے کے لیے وقف کر دی، جس کے دوران انہیں بے پناہ مشکلات اور قربانیاں برداشت کرنی پڑیں۔

انہیں پاکستانی ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کے الزام میں متعدد بار جیل کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں ۔ 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی حکومت برطرف کی تو نواب مری کو بھی دیگر رہنماؤں کے ساتھ حیدرآباد سازش کیس میں گرفتار کر لیا گیا ۔
1978 میں جیل سے رہائی کے بعد وہ پہلے برطانیہ اور پھر افغانستان چلے گئے، جہاں انہوں نے بلوچ مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں ۔
ان کے بیٹے بالاچ مری میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے ۔ باپ کے دل پر اس صدمے کے گہرے زخم ہوئے، لیکن وہ اپنے موقف سے ڈٹے رہے ۔

نواب خیر بخش مری 1970 کی دہائی میں شروع ہونے والی بلوچ مسلح جدوجہد کے اہم معماروں میں سے تھے ۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ “انقلاب اور آزادی بغیر بندوق کے حاصل نہیں ہوتے” ۔ انہوں نے اس جدوجہد کی نظریاتی بنیاد رکھی اور اسے طویل مدتی جنگ قرار دیا ۔

انہوں نے ویتنامی گوریلا جنگ کا سائنسی تجزیہ کرتے ہوئے بلوچ گوریلوں اور پاکستانی فوج کے درمیان طاقت کے توازن کا موازنہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ لڑنے کے معاملے میں بلوچ گوریلا پاکستانی فوجی سے بہتر ہے ۔

خیر بخش مری کی شخصیت میں مختلف، بلکہ کبھی کبھی متضاد نظر آنے والی کیفیات کا امتزاج تھا۔

وہ اپنی نرم گفتگو اور مدلل بات کرنے کے انداز کے لیے مشہور تھے ۔ لیکن اصولوں کے معاملے میں وہ انتہائی سخت گیر تھے۔ انہوں نے کبھی بھی ریاستی اداروں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا ۔
وہ پاکستان کی مرکزی ریاست کے سخت ناقد تھے۔ جب بینظیر بھٹو نے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے کہا کہ “اگر تم پاکستان کی سابق وزیراعظم کے طور پر آنا چاہ رہی ہو تو مت آنا، اور اگر سندھ کی بیٹی بن کر آنا چاہ رہی ہو تو خوش آمدید” ۔
وہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) سے منسلک رہے، اور 1970 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔ تاہم، انہوں نے 1973 کے آئین پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس میں صوبوں کو وسیع اختیارات نہیں دیے گئے ۔

نواب خیر بخش مری نے اپنی پوری زندگی بلوچ عوام میں سیاسی و فکری بیداری پیدا کرنے کے لیے وقف کی۔

انہوں نے “درسگاہ آزادی” اور “حق تواڑ” کے نام سے تعلیمی سرکلز قائم کیے، جہاں نوجوانوں کو بلوچ تاریخ، ثقافت اور عالمی سیاست سے روشناس کرایا جاتا تھا ۔
ان کی تعلیمات اور قربانیاں آج بھی بلوچ نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں ۔ انہوں نے نئی نسل کو یہ سکھایا کہ اپنی شناخت، زبان اور ثقافت کی حفاظت صرف آزاد وطن کے حصول سے ہی ممکن ہے ۔
10 جون 2014 کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ ان کی موت کے ساتھ ہی بلوچ سیاست اور قوم پرستی کا ایک عہد ختم ہو گیا ۔

نواب خیر بخش مری کی شخصیت تضادات کا ایک ایسا مجموعہ تھی جس نے انہیں بلوچ عوام کے دلوں میں ایک درویش صفت رہنما اور انقلابی بابا کی حیثیت سے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ وہ ایک سردار ہونے کے باوجود مارکسسٹ تھے، ایک نواب ہونے کے باوجود درویش تھے، اور ایک نرم گفتار انسان ہونے کے باوجود اصولوں کے معاملے میں انتہائی سخت گیر تھے ۔

ان کی تاریخی جدوجہد اور قربانیاں بلوچ عوام کے لیے محرک اور راہنما ہیں۔ ان کا فکری اور نظریاتی ایندھن بلوچ مزاحمتی تحریک کو طویل عرصے تک توانائی بخشتا رہے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں