سردار عطا اللہ مینگل یکم مئی 1972ء سے 13 فروری 1973ء تک بلوچستان کے پہلے منتخب وزیر اعلیٰ رہے

اداریہ
سردار عطا اللہ مینگل بلوچستان کی سیاست کی ایک اہم اور بااثر شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں اصولوں پر مبنی سیاست کے لیے نمایاں قربانیاں دیں۔

سردار عطا اللہ مینگل یکم مئی 1972ء سے 13 فروری 1973ء تک بلوچستان کے پہلے منتخب وزیر اعلیٰ رہے۔ اپنے اس مختصر دور حکومت میں انہوں نے کئی اہم اصلاحات متعارف کرائیں:

بلوچستان یونیورسٹی، انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار اور بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے قیام جیسے اقدامات اُن کے دور میں ہوئے۔
انہوں نے صوبے میں ٹیکس اصلاحات نافذ کیں اور ایک نئی پولیس فورس تشکیل دی۔
ان کے دور میں آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کو فروغ ملا۔

اپنے اصولوں اور عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے سردار عطا اللہ مینگل نے بڑی قربانیاں دیں:

وزیر اعلیٰ کے عہدے سے برطرفی کے ایک روز بعد ہی انہیں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے گرفتار کر لیا۔
1973ء میں ہونے والی گرفتاری کے بعد انہوں نے کئی سال جیل میں گزارے۔ انہیں 1977ء میں فوجی بغاوت کے بعد ہی رہائی ملی۔
ضیاالحق کے دورِ حکومت میں انہوں نے لندن میں رہ کر جلاوطنی کی زندگی گزاری۔
جلاوطنی کے دوران بھی وہ بلوچستان اور پاکستان کی سیاست میں متحرک رہے۔ انہوں نے 31 مارچ 1985ء میں سندھی-بلوچ-پختون فرنٹ کی بنیاد رکھی۔

1990ء کی دہائی میں پاکستان واپسی پر انہوں نے اپنی سیاسی کوششیں جاری رکھیں:

انہوں نے 1996ء میں بی این پی کی بنیاد رکھی۔
وہ پاکستان اپریسڈ نیشنز موومنٹ (PONM) کے سربراہ بھی رہے، جو ملک کے چھوٹے صوبوں کی قوم پرست جماعتوں پر مشتمل تھی۔
ان کے بیٹے سردار اختر جان مینگل بھی 1997ء سے 1998ء تک بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے۔

سردار عطا اللہ مینگل نے 2 ستمبر 2021ء کو 92 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کیا۔ انہیں ان کی وصیت کے مطابق ان کے آبائی قبرستان وڈھ، خضدار میں سپردِ خاک کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں