سندھ کے عوام دریائے سندھ پر کسی بھی نئے ڈیم یا نہر کی تعمیر کو کسے بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے،رہنما جی ڈی اے

کراچی(این این آئی)گرینڈ ڈیموکریٹس الائنس کے سیکریٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم نے وزیراعظم شہبازشریف کے نئے ڈیم پر بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا اس معاملے پر مقف ہمیشہ سے واضح اور دوٹوک رہا ہے اور آج بھی ہے سندھ کے عوام دریائے سندھ پر کسی بھی نئے ڈیم یا نہر کی تعمیر کو کسے بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری بیان میں کیا سردار عبدالرحیم نے مزید کہا ہے کہ دریائے سندھ ہماری زندگی کی علامت ہے۔ اس کے قدرتی بہا میں کسی بھی قسم کی مزید چھیڑ چھاڑ ہمارے صوبے کی زراعت، معیشت اور ماحولیات کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پانی کی تقسیم میں تاریخی ناانصافیاں سندھ کو پیاسا چھوڑ گئی ہیں جبکہ دیگر علاقوں کو مسلسل فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ صورتحال اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی عوام کو شدید تشویش ہے کہ بھارت نے یکطرفہ اور غیرقانونی طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم کر دیا ہے، جو پاکستان کے آبی تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت نے تاحال اس معاملے پر کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا، جیسے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرنا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی جارحیت کے مقابلے میں مقف اپنانے کے بجائے، وفاقی حکومت ایسی اسکیمیں بنا رہی ہے جو سندھ کے پانی کے جائز حصے کو مزید چھیننے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے واضح کرتے ہیں کہ اگر کوئی ڈیم تعمیر ہونا ہے تو وہ صرف سندھ کی حدود میں بنایا جائے اور قومی ترقی کے نام پر سندھ کو مزید محروم کرنے کی کوئی کوشش قابل قبول نہیں۔جی ڈی اے وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایسی تمام منصوبہ بندیاں فوری طور پر واپس لیں جو زیریں دریا کے صوبوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہیں اور جی ڈی اے اس حوالے سے ہر آئینی، قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرے گا تاکہ سندھ کے آبی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنے بنیادی حقوق کی مزید نفی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق بھارت کے سندھ طاس معاہدہ پر عمل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرنے کے بجائے چھوٹے صوبوں کے پانی کے حق پر نظر رکھے جا رہی ہے جوکہ چھوٹے صوبوں سے زیادتیوں کے مترادف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں