ڈاکٹر کہور خان: ایک عہد ساز دانشور اور رہنما

اداریہ

کل بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین اور عوامی رہنما ڈاکٹر کہور خان کی برسی ہے۔ یہ دن بلوچستان کی دانشورانہ اور سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر کہور خان نہ صرف ایک طالبعلم رہنما تھے بلکہ وہ ایک ایسے مفکر تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم، ترقی اور عوام کی بہتری کے لیے وقف کردی۔

ڈاکٹر کہور خان کی قیادت میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے نہ صرف طلبہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی بلکہ وہ پورے صوبے کے نوجوانوں کے لیے ایک امید کی کرن بن گئے۔ ان کی جدوجہد کا محور تعلیم کی اہمیت، نوجوانوں میں سیاسی بیداری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے پرامن اور جمہوری طریقہ کار تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

ان کی زندگی کے کارہائے نمایاں ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ رہنمائی کا مطلب عہدے اور اختیارات کا حصول نہیں، بلکہ عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے بے لوث کام کرنا ہے۔ آج کے دور میں جب نوجوان رہنماؤں کی شدید ضرورت ہے، ڈاکٹر کہور خان کی سوچ اور جدوجہد ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔

ان کی برسی پر ہمیں ان کے افکار و نظریات کو زندہ رکھنے کا عہد کرنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تعلیم کے فروغ، نوجوانوں کی رہنمائی اور عوامی خدمت کے ان کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ ان کی یاد ہمیں اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ ہم ایک روشن خیال، متحد اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر کے لیے کام کریں۔

ڈاکٹر کہور خان کی وفات نے بلوچستان کو ایک عظیم رہنما سے محروم کر دیا، لیکن ان کی teachings اور جدوجہد ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ انہیں خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں