اداریہ
آج جب ہم پاکستان کے روشن مستقبل کی بات کرتے ہیں تو گوادر پورٹ ہمارے سامنے ایک امید کی کرن بن کر ابھرتا ہے۔ یہ قدرتی عطیہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معاشی تقدیر بدل سکتا ہے۔ لیکن کیا ہم اس عظیم موقع کو صحیح طور پر برتنے کے لیے تیار ہیں؟
گوادر پورٹ محض ایک بندرگاہ نہیں، بلوچستان کے عوام کے خوابوں کی تعبیر کا نشان ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت اس منصوبے نے جہاں ملک کو معاشی ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں حکومت پر بھاری ذمہ داریاں بھی عائد کی ہیں۔
حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ گوادر پورٹ کے انفراسٹرکچر کی تکمیل کو یقینی بنائے۔ سڑکوں، ریلوے اور جدید سہولیات کے بغیر یہ منصوبہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق فواہد نہیں دے سکتا۔ علاقے میں سلامتی کے حالات کو بہتر بنانا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا، اور منصوبے کی بروقت تکمیل حکومت کی ناگزیر ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ گوادر پورٹ کی ترقی میں بلوچستان کے عوام کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ بدقسمتی سے ماضی میں ہم دیکھتے آئے ہیں کہ بلوچستان کے وسائل تو استعمال ہوتے رہے، لیکن مقامی عوام کو ان کا حق نہیں مل سکا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس تاریخی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے۔
بلوچستان کے عوام کا گوادر پورٹ پر پہلا حق ہے۔ انہیں نہ صیر روزگار کے مواقع میسر آنے چاہئیں، بلکیر اعلیٰ عہدوں پر ان کی نمائندگی بھی یقینی بنانی چاہیے۔ پورٹ سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کا معقول حصہ بلوچستان کی ترقی پر خرچ ہونا چاہیے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں علاقے کے لوگوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی کہ گوادر کی ترقی بلوچستان کی ترقی کے بغیر نامکمل ہے۔ اگر ہم بلوچ عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھیں گے تو یہ عظیم منصوبہ کبھی بھی اپنی مکمل صلاحیتوں کے ساتھ ترقی نہیں کر سکے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ مکمل مشاورت کے ساتھ کام کرے۔ مقامی نمائیندوں، قبائلی رہنماوں اور علاقے کے دانشوروں کی آواز کو سنا جائے۔ ان کی تجاویز پر عملدرآمد کیا جائے۔ صرف اس طرح ہی گوادر پورٹ کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
گوادر پورٹ پاکستان کی معاشی خودمختاری کی علامت ہے۔ آئیے، اس موقع کو غنیمت جانیں اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ مل کر پاکستان کی ترقی کی نئی داستان لکھیں۔ یہ نہ صیر ہمارا قومی فرض ہے، بلکہ آنے والی نسلوں کے ساتھ ہمارا ایک اخلاقی وعدہ بھی ہے۔

