بحران کا موقع!

اداریہ

پاکستان آج ایک ایسے عہد آزمائی کے دور سے گزر رہا ہے جہاں ہر قدم پر امید کی کرن نظر آتی ہے تو ہر موڑ پر مایوسی کا اندھیرا بھی چھایا ہوا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب قومی سوچ، اجتماعی دانش اور عوامی قوت ارادی کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔

عوام ایک عجیب تضاد کا شکار ہیں۔ ایک طرف مہنگائی کی آگ میں جلتی ہوئی عوام کا دِل دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف سیاسی محاذ آرائی کے شعلے بھڑکتے نظر آتے ہیں۔ کب تک عوام یہ سمجھنے سے انکاری رہیں گے کہ معاشی بحران ہی ان کی سب سے بڑی جنگ ہے؟ کب تک یہ اپنی توانائیاں غیر ضروری تنازعات میں ضائع کرتے رہیں گے؟

حقیقت تو یہ ہے کہ آج پاکستان کو سیاست دانوں کے بیانات کی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوام کو وعدوں کی نہیں، روٹی کے ٹکڑے کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو جھوٹی تسلیوں کی نہیں، روزگار کے مواقعوں کی ضرورت ہے۔

لیکن کیا عوام محض مایوسی کے گڑھے میں گر چکے ہیں؟ ہرگز نہیں! ملک کی زمین میں وہ تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں جو اسے دنیا کے امیر ترین ممالک کی صف میں کھڑا کر سکتی ہیں۔ عوام کے پاس زرخیز زمینیں ہیں، قیمتی معدنیات ہیں، اور سب سے بڑھ کر ان کے پاس 22 کروڑ ذہین اور محنتی لوگوں کی قوت ہے۔

سی پیک جیسے منصوبے عوام کے مستقبل کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ خواتین ہر شعبے میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ سوال صرف ایک ہے: کیا عوام ان مواقع کو بروئے کار لانے کا عزم رکھتے ہیں؟

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام بحران کو موقع میں بدلیں۔ ہر پاکستانی کو اپنے دائرہ اثر میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بننا ہوگا۔ عوام کو تنقید کرنے کے بجائے تعمیر کرنی ہوگی، الزام تراشی چھوڑ کر حل کی طرف آنا ہوگا۔

یہ وقت حکمرانوں کے لیے بھی امتحان کا لمحہ ہے۔ انہیں عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کر سکتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں مشکل حالات میں ہی عظیم ہوتی ہیں۔ آج پاکستان کے سامنے یہی موقع ہے۔ یا تو عوام اس بحران میں سے نکل کر ایک مضبوط قوم بن کر ابھریں گے، یا پھر کمزوریاں ان پر حاوی ہو جائیں گی۔

فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔ وہ مایوسی کا شکار ہو کر بیٹھ جائیں، یا پھر ہمت اور عزم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں