اداریہ
کچھ شخصیتیں تاریخ کے اوراق میں اس طرح رقم ہو جاتی ہیں کہ وقت کی گرد ان کے کردار کو ماند نہیں کر سکتی۔ ان ہی عظیم ہستیوں میں سے ایک نام شہید حمید بلوچ کا ہے، جنہوں نے اپنی قربانی سے نہ صرف ایک باب رقم کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے راستہ روشن کر دیا۔
حمید بلوچ محض ایک نام نہیں، ایک عہد ہے، ایک سوچ ہے، ایک انقلاب ہے۔ ان کی شہادت نے ثابت کیا کہ حق و انصاف کی راہ میں چلنے والے راہی کبھی منزل سے محروم نہیں رہتے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب مقصد عظیم ہو، تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اور ہر قربانی راستہ بن جاتی ہے۔
ان کی جدوجہد، ان کا عزم اور ان کی لگن ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے یہ سبق دیا کہ ظلم کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونا ہی اصل مردانگی ہے۔ ان کی آواز کو دبانے کی کوششیں اس لیے ناکام ہوئیں کہ حق کی آواز کو کوئی طاقت دبا نہیں سکتی۔ آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کا مشن، ان کا خواب اور ان کی روح ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔
شہید حمید بلوچ کی شہادت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہماری ذمہ داریاں اور بڑھ گئی ہیں۔ ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانا ہے، ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔ ہمیں ان کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے اتحاد، محبت اور انصاف کے معاشرے کی تعمیر کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھنی ہے۔
حمید بلوچ شہید نے اپنے خون سے جو فصل بوئی ہے، اسے ہمیں پھل دار بنانا ہے۔ ان کی شہادت کو رائیگاں نہیں جانے دینا۔ یہی ان کے لیے سب سے بڑی خراج عقیدت ہوگی۔
آئیے، عہد کریں کہ ہم شہید کے خوابوں کو اپنا خواب بنائیں گے، ان کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد بنائیں گے۔ ہم باطل کے سامنے جھکیں گے نہیں، اور حق کی راہ پر ڈٹے رہیں گے۔
شہید کی موت دراصل ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتی ہے۔حمید بلوچ شہید ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

