اداریہ
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی استحصال اور جبر کے خلاف آواز بلند ہوئی ہے، تو اس آواز کو علم و آگہی کے پروانوں نے ہی سب سے پہلے بلند کیا ہے۔ طلباء ہی وہ طبقہ ہے جو ماضی کے زنگ آلود دائروں کو توڑ کر مستقبل کے روشن امکانات کی تعمیر کرتا ہے۔ بلوچستان کے سینے سے اٹھنے والی حریت و خودمختاری کی صدائے احتجاج کو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) نے ہمیشہ منظم کیا اور اسے عوامی مقصد سے ہم آہنگ کیا۔ اس تاریخی جدوجہد میں تین نام ہمیشہ سنہری حروف سے لکھے جائیں گے رازق، جالب، کہور خان۔
یہ تینوں نہ صرف بی ایس او کے چیئرمین رہے بلکہ عوامی مسائل اور طلباء کے حقوق کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل رہنے والے عوامی رہنما تھے۔ ان کی زندگی کا ہر پل بلوچ قوم کے حقوق، انسانی عزت اور اجتماعی آزادی کے علم کو بلند رکھنے کے لیے وقف تھا۔ انہوں نے نہ صرف درسگاہوں میں طلباء کو سیاسی اور قومی شعور سے آگاہ کیا بلکہ عوامی رابطے کے ذریعے اس تحریک کو عوامی بنیادیں فراہم کیں۔
رازق، جنہیں رازق بگٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک جری اور پرعزم رہنما تھے۔ ان کی آواز میں جہاں قوم کے لیے محبت تھی، وہیں ظلم کے خلاف ایک واضع اور بے خوف احتجاج بھی تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جدوجہد اور سیاسی سرگرمیوں میں گزارا، یہاں تک کہ انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی شہادت نے نہ صرف بلوچ عوام کے دلوں میں ایک گہرا زخم چھوڑا بلکہ یہ ثابت کر دیا کہ آمرانہ قوتیں عوامی آوازوں کو کس طرح خاموش کرنے پر تل جاتی ہیں۔ جالب بلوچ اور ڈاکٹر کہور بھی اسی راہ کے مسافر تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا آخری سانس تک قومی خدمت کو ہی اپنا مطمع نظر بنائے رکھا۔
یہ تینوں رہنما اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کی جدوجہد، ان کا پیغام اور ان کی قربانیاں بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ حق و انصاف کی راہ میں ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ آج جب ہم ان کی جدوجہد کو یاد کرتے ہیں تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم علم اور سیاسی شعور کو ہتھیار بنا کر پرامن، منظم اور متحد ہو کر اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے کوشاں رہیں۔
رازق، جالب اور کہور کی روحیں اس وقت ضرور مطمئن ہوں گی جب ان کا خواب، جو ایک خودمختار اور خوشحال بلوچستان کا خواب تھا، شرمندہ تعبیر ہوگا۔ ان کی قربانیاں ہمارے لیے صرف ایک المیہ نہیں، بلکہ عمل کی تحریک ہیں۔

