اداریہ
چین پاکستان اقتصادی راہداری کا خواب اب بلوچستان کے دھرتی پر تعبیر کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ منصوبہ صرف سڑکوں، بندرگاہوں اور پاور پلانٹس کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی جغرافیائی تقدیر ہے جس نے تاریخی طور پر نظرانداز کیے گئے خطے کو عالمی منظرنامے پر نئے سرے سے متعارف کرایا ہے۔ گوادر، جو کبھی ایک پرامن ماہی گیری کا گاؤں تھا، آج ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز بننے کے سفر پر ہے۔ یہ تبدیلی صرف پتھر اور کنکریٹ کی نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کی توقعات، خدشات اور امیدوں کی عکاس ہے۔
بلوچستان کے لوگوں کے سامنے ایک پیچیدہ مسئلہ موجود ہے۔ ایک طرف ترقی کی وہ روشنی نظر آتی ہے جس کا وہ عشروں سے انتظار کر رہے تھے۔ روزگار کے نئے مواقع، بہتر بنیادی ڈھانچہ، تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی کے وعدے ان کی زندگیوں میں ایک نئی روح پھونک سکتے ہیں۔ مگر دوسری طرف وہ ان تبدیلیوں کے ثمرات سے محروم رہ جانے کا خوف بھی محسوس کرتے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ کہیں ان کی زمینیں، ان کے وسائل اور ان کا مستقبل بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے۔ یہ خوف محض خیالی نہیں، بلکہ ماضی کے تلخ تجربوں کی بنیاد پر پیدا ہوا ہے۔
اس تناظر میں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ترقی کا یہ عمل شفاف ہو اور اس میں مقامی لوگوں کی مکمل شرکت ہو۔ صرف منصوبوں کی تکمیل ہی کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والے فوائد بلوچستان کے عام شہری تک پہنچ رہے ہیں یا نہیں۔ مقامی نوجوانوں کو ہنر مند بنانا، چھوٹے کاروباریوں کو قرضے فراہم کرنا اور خواتین کو معاشی دھارے میں شامل کرنا ترقی کے صحیح معنوں میں پائیدار ہونے کی شرط ہے۔
مزید برآں، بلوچستان کی منفرد ثقافت، اس کے رسم و رواج اور اس کے ماحولیاتی نظام کا تحفظ بھی نہایت ضروری ہے۔ تیز رفتار ترقی کبھی کبھار مقامی ثقافتی ورثے کو نگل جاتی ہے۔ گوادر کی ساحلی پٹی، ماکڑان کے پہاڑ اور خطے کی قدیم تہذیبیں اس تبدیلی کے دور میں بھی اپنی شناخت برقرار رکھ سکیں، یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری دراصل ایک امتحان ہے۔ یہ امتحان اس بات کا ہے کہ ہم ترقی اور انصاف کے درمیان توازن قائم کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ آزمائش ہے ہماری قومی یکجہتی اور دور اندیشی کی۔ بلوچستان کے عوام، جو صدیوں سے محرومی کا شکار رہے ہیں، اب اس بات کے مستحق ہیں کہ ترقی کا پہلا پھل وہی کاٹیں۔ اگر یہ راہداری بلوچستان کے لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی خوشحالی لا سکی، تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثال قائم کرے گی۔ اور اگر ایسا نہ ہو سکا، تو یہ محض سڑکوں اور عمارتوں کا ایک اور مجموعہ بن کر رہ جائے گی، جس کا مقصد کبھی پورا نہ ہو سکے گا۔
مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس موقع کو صرف اعداد و شمار کی ترقی تک محدود رکھیں، یا اسے انسانی خوشحالی اور باہمی اعتماد کی تعمیر کے لیے استعمال کریں۔ بلوچستان کی زمین پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک صوبے کا معاملہ نہیں، بلکہ بلوچستان کے اجتماعی مستقبل کا سوال ہے۔

