اداریہ
ستمبر 1991ء کا وہ صبح جب سوویت یونین کے جھنڈے کو ہمیشہ کے لیے اتار لیا گیا، نہ صرف ایک سپر پاور کے خاتمے کا اعلان تھا بلکہ بیسویں صدی کے سب سے اہم جغرافیائی سیاسی واقعات میں سے ایک تھا۔ سرد جنگ کا اختتام اور 15 نئی آزاد ریاستوں کا ظہور، تاریخ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا۔ آج، تین دہائیاں گزرنے کے بعد، سوویت یونین کے انہدام کے اسباب ہمیں صرف ماضی کے تجزیے تک ہی محدود نہیں رکھتے، بلکہ موجودہ دور میں قومی ریاستوں کے استحکام کے لیے گہرے سبق بھی فراہم کرتے ہیں۔
سوویت یونین کے زوال کے اسباب کسی ایک واقعے یا پہچان سے وابستہ نہیں، بلکہ یہ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی عمل تھا۔ سب سے پہلے، معاشی نظام کی ناکامی اس کے بنیادی ستونوں میں دراڑ ثابت ہوئی۔ مرکزی منصوبہ بندی کا نظام، جدت، پیداواریت اور صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ فوجی مقابلے میں امریکہ سے برابری کی دوڑ نے معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال دیا، جبکہ عام شہری بنیادی ضروریات کی اشیا کے حصول کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے رہتے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی نے ریاستی آمدنی کو مزید مجروح کیا۔
دوسرا اہم عامل سیاسی جمود اور اصلاحات کی ناگزیریت کا دباؤ تھا۔ بریسٹنيف کے دور میں جمود کے بعد، گورباچوف کی “پیرسٹروئیکا” (اصلاحات) اور “گلاسنوسٹ” (کھلے پن) کی پالیسیاں نظام میں نئی روح پھونکنے کے بجائے، اس کے تضادات کو اور زیادہ عیاں کر گئیں۔ نیم سیاسی اصلاحات نے پہلے سے موجود نسلی اور جمہوری خواہشات کو ہوا دی، جس سے بالٹک ریاستوں سے لے کر وسطی ایشیا تک علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت ملی۔
تیسرا اہم پہلو نظریاتی بیزاری اور عوامی حمایت کا خاتمہ تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کا نظریہ ابتدائی انقلابی جذبے کے بعد، روزمرہ زندگی کی حقیقتوں سے ہم آہنگ نہ رہ سکا۔ پارٹی کی بالادستی، شہری آزادیوں کی پامالی اور دانشوروں پر پابندیوں نے معاشرے میں ایک گہری خلیج پیدا کر دی تھی۔ عوام میں سوویت شناخت کی بجائے مقامی قومیتوں اور ثقافتوں سے وابستگی بڑھنے لگی۔
چوتھا عنصر سرد جنگ کے دباؤ اور فوجی وسائل کی نذر ہوتی معیشت تھا۔ امریکہ کے ساتھ جوہری و فوجی دوڑ میں شامل رہنے کے لیے سوویت یونین اپنی قومی آمدنی کا بڑا حصہ فوج پر خرچ کرتا رہا، جبکہ عام شہریوں کی معیار زندگی گرتا گیا۔
آخر میں، قیادت کی حوصلہ شکنی اور انتشار نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ 1991ء کے ناکام بغاوت کے بعد مرکز کا اختیار تیزی سے تحلیل ہوا، اور روسی صدر بورس یلسن جیسے علاقائی قائدین مرکزی سوویت حکومت سے زیادہ طاقتور ہو گئے۔
سوویت یونین کا انہدام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کوئی بھی نظام، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اگر وہ عوامی خواہشات، معاشی تقاضوں اور لچکدار سیاسی ڈھانچے سے ہم آہنگ نہ ہو، تو اس کے استحکام کا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ یہ واقعہ قومی یکجہتی، معاشی توازن اور سیاسی اصلاحات کے درمیان تعلق کو واضح کرتا ہے۔
آج کی کثیر قطبی دنیا میں، جہاں نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں اور پرانی اتحادی تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں، سوویت تجربہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عوامی بہبود، شفاف حکمرانی اور بین الاقوامی تعلقات میں متوازن رویہ ہی قوموں کی بقا اور ترقی کی ضمانت ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر ہی مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

