بلوچستان کا زیرِ زمین خزانہ دولت یا محرومی کا المیہ؟

اداریہ

بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اپنی گود میں دنیا کے چند قیمتی ترین معدنی اور توانائی کے ذخائر سمیٹے ہوئے ہے۔ سونے، تانبے، گیس، کوئلے اور کرومائٹ کی غیر معمولی کثرت اس خطے کو جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے امیر ترین خطوں میں سے ایک بناتی ہے۔ اندازے بتاتے ہیں کہ صرف ریکو ڈک کے سونے اور تانبے کے ذخائر کی عالمی منڈی میں مالیت دو سو ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ سوئی گیس فیلڈ جیسے وسائل قومی توانائی کی ضروریات کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ لیکن یہاں ایک سوال اٹھتا ہے، وہ یہ کہ کیا اس خداداد دولت سے حاصل ہونے والے فوائد کا انصاف پسندانہ حصہ اس زمین اور اس کے لوگوں کو مل پا رہا ہے؟ بدقسمتی سے، جواب ایک درد ناک انکار ہے۔

بلوچستان کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی ہی دولت میں محروم ہے۔ دہائیوں سے، اس کے وسائل سے حاصل ہونے والی دولت کا بہاؤ بنیادی طور پر صوبے سے باہر کی طرف رہا ہے، جبکہ مقامی آبادی بنیادی سہولیات جیسے معیاری تعلیم، صحت، صاف پانی اور روزگار کے مواقع سے محروم رہی ہے۔ وسائل کے استحصال اور منصفانہ شراکت داری کے فقدان نے محرومی اور عدم اعتماد کی ایک گہری کھائی پیدا کر دی ہے۔

حالیہ برسوں میں، صوبائی حکومت نے وسائل پر اپنے حقوق کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے اور ریکو ڈک جیسے منصوبوں میں زیادہ شراکت داری کا مطالبہ کیا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم، محض مالی حصہ داری ہی کافی نہیں۔ اصل چیلنج صوبے میں استحکام، شفاف انتظامیہ اور پائیدار ترقیاتی منصوبوں کا قیام ہے۔

امن و استحکام کے بغیر، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ان ذخائر کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لانا مشکل ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے، صوبے میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا اور مقامی لوگوں کو روزگار اور ہنر مندی کی تربیت کے ذریعے ان منصوبوں کا حصہ بنانا ہوگا۔

یہ وقت ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کے وسائل کے انتظام کے لیے ایک جامع، شفاف اور جامع پالیسی پر متفق ہوں۔ ایک ایسا ماڈل تیار کیا جائے جس میں نہ صرف خزانے میں آمدنی کا حصہ بلکہ مقامی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور انسانی وسائل کی تربیت کو اولین ترجیح حاصل ہو۔

بلوچستان کے معدنی خزانے محض اعداد و شمار یا مالیاتی اثاثے نہیں ہیں۔ یہ صوبے اور ملک کی خوشحالی اور یکجہتی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس دولت کو محض نکالنے کے بجائے، اسے عوامی فلاح و بہبود، انصاف اور باہمی اعتماد کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے۔ بلوچستان کو اپنے پانی سے لگاؤ کے قابل بنانا ہوگا، تبھی یہ خزانہ ملک کے لیے ترقی ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں